اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سخت سزا جرم کو نہیں روکتی


یونانی دیومالا میں ہرکولیس کی دوسری مہم دلچسپ ہے۔ پاتال کے دروازے کے قریب ہائیڈرا نامی ایک بلا رہتی تھی جو قریبی دیہات کے لوگوں کو مار ڈالتی تھی۔ سانپ نما اس بلا کے کئی سر تھے۔ سانس ایسا زہریلا تھا کہ جس پر پڑتا وہ مر جاتا۔ اس کے مسموم لہو کی بو جو سونگھتا وہ داعی اجل کو لبیک کہتا۔ لیکن وہ چیز جو اسے ناقابل شکست بناتی تھی وہ اس کے سر تھے۔

ہرکولیس میاں نے اس پر تلوار چلانی شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جیسے ہی اس بلا کا ایک سر کٹتا تو اس کی گردن سے بہتے خون سے دو نئے سر بن جاتے۔ ہرکولیس تلوار چلا چلا کر تھک گیا مگر ہر وار کے ساتھ ہائیڈرا طاقت ور ہوتی چلی گئی۔ اب ہرکولیس کو خیال آیا کہ صرف ضرب عضب سے کام نہیں چلے گا، اس بلا کو مارنا ہے تو کچھ اور کرنا پڑے گا۔ ہرکولیس نے اپنے بھتیجے آیولوس سے مشورہ مانگا کہ کیا کیا جائے۔ آیولوس نے مشورہ دیا کہ جیسے ہی بلا کا ایک سر کاٹا جائے تو سلگتی ہوئی لکڑی سے اس کی گردن جلا کر خون کو روک دیا جائے۔ نئے سروں کی سپلائی بند ہو گی تو پھر ہی ہائیڈرا کو مارنا ممکن ہو گا۔ دونوں نے مل کر یہی کیا۔ ہرکولیس ہائیڈرا کا سر کاٹتا اور آیولوس اسے سلگتی لکڑی سے داغ کر گردن سے بہتا خون بند کر دیتا۔ یوں ہائیڈرا کو مارنا ممکن ہوا۔

طالبان ہوں یا زینب جیسے معصوموں کے خلاف جرم۔ ان کو صرف سزا کے ذریعے ختم کر دینا ممکن نہیں ہے۔ سزا کے ساتھ ساتھ ایسا علاج بھی کرنا ہو گا کہ ان بلاؤں کے نئے سر اگنے بند ہو جائیں۔ ورنہ ایک دہشت گرد یا مجرم مارا جائے گا تو اس کی جگہ لینے کو دو اور آ جائیں گے اور یہ عفریت پہلے سے زیادہ توانا ہو جائے گا۔ ان کے منبع کو داغ کر ہی ان کو شکست دی جا سکتی ہے۔

سخت سزاؤں کے ذریعے جرم کا خاتمہ کرنے کے خواہش مند افراد ایران سے سبق سیکھ لیں۔ ایران میں تیس گرام کوکین برآمد ہونے پر سزائے موت دی جا سکتی تھِی۔ اور وہ واقعی دے دیتے تھے۔ ہر برس سینکڑوں افراد کو پھانسی پر چڑھا دیا جاتا تھا۔ ایران میں پھانسی پاکستان کی طرح صبح چار بجے کسی جیل کی چار دیواری کے اندر نہیں بلکہ چوک میں دینے کا رواج ہے۔ لیکن اس سخت ترین اور فوری سزا کے باوجود منشیات کے استعمال میں کمی نہ آئی۔ اب تنگ آ کر ایران کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ہر ایک کو پھانسی پر لٹکا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پہلے قدم کے طور پر اس نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد پھانسی سے بچ گئے ہیں۔ اب منشیات رکھنے کے جرم میں صرف ان افراد کو سزائے موت دی جا سکے گی جن کے قبضے سے دو کلوگرام کوکین یا پچاس کلو چرس یا افیم برآمد ہو۔ سعودی عرب میں سرعام گردن کاٹ کر یا فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے۔ 2016 میں 154 افراد کو اس طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یعنی موت کی عبرتناک سزا بھی لوگوں کو جرم سے نہیں روک پا رہی ہے۔ حل کچھ اور ہو گا۔

چند اعداد و شمار آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ سخت ترین سزاؤں والے ملک دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں قتل عمد کا ریٹ 1.5 فی ایک لاکھ ہے۔ ایران میں 4.12 فی ایک لاکھ۔ اب نرم سزاؤں والے ممالک پر ایک نظر ڈالیں۔ ہالینڈ میں قتل عمد کا ریٹ 0.64 فی ایک لاکھ ہے، جرمنی میں 0.85 فی ایک لاکھ ، سوئٹزر لینڈ میں 0.69 فی ایک لاکھ ، ناروے میں 0.56 فی لاکھ ۔ ناروے میں سزائے موت 1902 میں ختم کر دی گئی تھی۔ جرمنی میں 1949 میں۔ ہالینڈ میں 1870 میں۔ سوئٹزرلینڈ میں 1942 میں۔ اس کے باوجود سزائے موت ختم کر دینے والے ممالک میں قتل عمد کے واقعات ان ممالک سے کہیں کم تعداد میں پیش آتے ہیں جہاں چوک میں سزائے موت دی جاتی ہے۔

کیا اب آپ کو کچھ شبہ ہو رہا ہے کہ عوامی اور فوری سزائے موت، جرائم کو ختم کرنے میں اتنے مددگار نہیں ہوتے جتنا ہم سمجھتے ہیں؟ ہالینڈ میں تو جرائم اس رفتار سے گر رہے ہیں کہ ادھر جیلوں کے ایک تہائی سیل خالی پڑے ہیں اور حکومت کو جیل بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

جرائم خواہ طالبان کی دہشت گردی کی صورت میں ہوں یا زینب جیسے ننھے بچوں کے سنگدلانہ قتل کی صورت میں، ان کے خاتمے کے لئے سعودی عرب یا ایران کی طرح سزا سخت کرنے کی نہیں بلکہ ہالینڈ کی طرح ذہن نرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھانا بند کر دیں گے کہ ہیرو وہ ہوتا ہے جو خون بہاتا ہے اور اس کی جگہ یہ سکھانا شروع کر دیں گے کہ انسانی اور حیوانی زندگی کا احترام بطور انسان ہم پر فرض ہے تو پھر وہ سوچ پیدا ہو گی جو جرم سے نفرت دلائے گی۔ جب ہمارے ہیرو ہمارے سائنسدان، آرٹسٹ اور استاد بنیں گے تو پھر ہی ہم جرائم اور تشدد سے نفرت کرنا سیکھیں گے۔ اپنے بچوں کو موت سے نہیں بلکہ زندگی سے محبت کرنا سکھائیں گے تو ہماری زینب زندہ رہے گی اور کٹے ہوئے انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے والے طالبان کی بجائے فیفا کا ورلڈ کپ جیتنے والی فٹ بال ٹیم میسر ہو گی۔

سختی سے ریاست کی رٹ قائم کرنا لازم ہے۔ ریاست کا قانون جو بھی توڑے، اسے جلد از جلد سزا دینا اہم ہے۔ مگر یہ سوچنا کہ سزا سخت کر دینے سے امن و امان قائم ہوتا ہے، نری خام خیالی ہے۔ اعداد و شمار اس کی تردید کرتے ہیں۔ ہائیڈرا کا ایک سر کاٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے دو نئے سر اگ آئیں گے۔ اس کے نئے سر پیدا ہونے سے روکیں گے تو پھر ہی یہ بلا مرے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 887 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar