مختاراں مائی سے زینب انصاری تک بے حسی کا کامیاب سفر


 2002 کے وسط میں ایک خبر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنی۔ مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کی اس خبر کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بھرپور طریقہ سے کوریج دی، لڑکپن اور اوائل عمر کے اس دور میں کچھ سمجھ نہ آسکی کہ “یہ زیادتی اور اجتماعی زیادتی کیا ہوتی ہے اور اس کا نشانہ خواتین ہی کیوں ہیں؟”۔ ہر روز “مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس” میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق خبریں اخبار اور ٹیلی ویژن کے ذرائع سے ملتی رہیں لیکن اس دور میں میرے لئے یہ تمام خبریں دیگر عام خبروں کی طرح ہی ایک خبر تھی جسے پڑھا، سنا اور بھلا دیا اس وقت بالکل بھی یہ شعور نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنگین اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور یہ ہمارے سماج کو کس طرف دھکیل رہا ہے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو آہستہ آہستہ نہ صرف اس معاملہ کی حساسیت اور سنگینی کا اندازہ ہوا بلکہ یہ شعور بھی اجاگر ہوا کہ اس فرسودہ نظام کے تحت ہم ان حادثات اور سانحات کے خلاف کوئی عملی کام نہیں کر سکتے۔

مختاراں مائی کا کیس اگر درست طریقہ سے ہینڈل کیا جاتا تو آج ہم اور ہمارا سماج یہ بلکل نہ ہوتا جو یہ بن چکا ہے۔ اگر مختاراں مائی کے کیس کو بغور سمجھا جائے تو یہ ہمارے پولیس اور عدالتی نظام کی غیر معیاری کارکردگی کی ایک روشن مثال ہے۔ یکم ستمبر 2002 میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مختاراں مائی سے اجتمائی زیادتی کرنے والے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی۔ 2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے چھ میں سے پانچ ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا اور چھٹے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا، یہ ذہن میں رہے کہ ان تمام ملزمان کو مختاراں مائی نے خود شناخت کیا اور اس کی تصدیق عدالت کے روبرو بھی کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور وہاں یہ کیس ایک طویل عرصہ تک چلنے کے بعد 2011 میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔ بنیادی طور پر مختاراں مائی کا کیس ایک دہرا کیس ہے۔ سب سے پہلے مختاراں مائی کے بارہ سالہ بھائی عبدالشکور کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس پر متاثرہ خاندان کی طرف سے پولیس کی مدد طلب کی گئی لیکن متاثرہ خاندان کی مدد کرنے کی بجائے پولیس نے ملزمان کا ساتھ دیا اور عبدالشکور کے خلاف ایک با اثر خاندان کی لڑکی سے زیادتی کا مقدمہ درج کیا اور اس مقدمہ کی بنیاد پر مقامی پنچایت نے مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کا حکم دیا۔ پنچایت کے فیصلہ کے مطابق موقع پر ہی چار افراد نے دس گواہان کی موجودگی میں مختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے برہنہ حالت میں پورے گاؤں میں گھمایا گیا۔مختاراں مائی کے ابتدائی طبی معائنہ کی رپورٹ اور موقع واردات سے اس کے ملنے والے کپڑے بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کئے گئے۔ مختاراں مائی کے کپڑوں پر پائے جانے والے جنسی مواد کے کیمیائی تجزئیے سے بھی ان افراد کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی جو متاثرہ خاتون کے دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن ان تمام شواہد کے باوجود حیرت انگیز طور پر تمام ملزمان کو باعزت بری کیا گیا۔ اگر ان دونوں سانحات کو اس وقت سنجیدہ لیا جاتا اور اور درست تفتیش اور ٹرائل کوکچرے کی نظر نہ کیا جاتا تو آج ننھی زینب کی کچرا برد لاش ایسے نہ ملتی حالات یقیناً مختلف ہوتے اور خواتین اور کمسن بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات نہ ہوتے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ گزشتہ پندرہ برس میں مختاراں مائی اور عبدالشکور کا واقعہ خواتین اور کمسن بچوں کو جنسی ہراساں کرنے اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واحد اور انوکھا کیس تھا۔ جنوری 2005 میں ڈیرہ بگٹی ( بلوچستان ) میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے اسپتال میں فرائض انجام دینے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ حادثہ کے فوراً بعد ڈاکٹر شازیہ نے اسپتال انتظامیہ سے مدد طلب کی لیکن ڈیوٹی پر موجود اسٹاف اور انتظامیہ نے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو فوری طبی امداد دینے کی بجائے تین روز تک دانستہ طور پر بے ہوشی کی حالت میں رکھا اور اس کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کی بجائے ڈاکٹر شازیہ کو خاموش رہنے کا کہا گیا اور ڈاکٹر شازیہ کے احتجاج پر اسے ذہنی مریض قرار دے کر کراچی میں واقع ذہنی امراض کے اسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔ اپنے شوہر کی مدد سے ڈاکٹر شازیہ نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو رپورٹ کروایا لیکن حکومت اور پولیس کی جانب سے اسکی کوئی مدد نہ کی گئی یہاں تک کہ اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے اس حادثہ کی تردید کی اور خواتین کی جانب سے ایسے کیسز رپورٹ کروائے جانے کو شہرت، دولت اور غیر ملکی شہریت کے حصول کے لئے منفی ہتھکنڈہ قرار دے دیا۔

2008  میں کراچی میں مزار قائد پر حاضری کے لئے لودھراں سے آنے والی اٹھارہ سالہ رضیہ کبریٰ کو مزار پر موجود ملازمین کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے کیس رپورٹ کروائے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح وہی ہوا جو اس نوعیت کے مقدمات میں ہوتا آیا ہے۔ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی ملزمان کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے،عدالت کے روبرو متاثرہ لڑکی رضیہ کبریٰ نے ملزمان کو شناخت کیا اور ان کے ملوث ہونے کی تصدیق کی لیکن عدم ثبوت کی بناء پر تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔ ایسے کئی کیسز الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کی زینت بنے جن میں زنیرہ زیادتی کیس، نسیمہ لوبانو کیس، کائنات سومرو کیس نمایاں ہیں جن میں اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ نے عدم ثبوت کی بناء پر ملزمان کو بری کیا۔ کچھ کیسز میں تو اس گھناؤنے جرم میں براہ راست پولیس اہلکار ملوث پائے گئے۔

یہ تمام کیسز بالغ خواتین کے ساتھ پیش آنے والی زیادتی کے واقعات ہیں جو منظر عام پر آئے اور ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنے لیکن پے در پے کئی انکشافات کے باوجود آج بھی کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان کمسن بچوں کے لئے ایک غیر محفوظ جگہ بنتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے بارہا اس معاملہ کو اٹھایا جاتا رہا ہے لیکن اس کے سدباب کے لئے کبھی کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا یہاں تک کہ 2015 میں قصور میں بڑے پیمانہ پر کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا۔ کمسن بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم “سہارا ” کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر دو گھنٹے میں ایک ریپ کیا جاتا ہے اور ہر آٹھ گھنٹے میں ایک گینگ ریپ کے واقعات رپورٹ کئے جاتے ہیں۔ 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چار ہزار سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں اکثریت کی عمریں چھ سے پندرہ برس کے درمیان ہیں۔ اب حال ہی میں قصور سے ایک اور دل دہلا دینے والی خبر ملی ہے جہاں 7 سالہ زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ قصور میں ہی گزشتہ گیارہ ماہ میں ایسے بارہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

یہ تمام بحث کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ اس طرح کے واقعات کے حوالہ سے ہم بلکل غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر ہم آج تک مرض کی درست تشخیص ہی نہیں کر سکے۔ کیا وجہ ہے کہ ایران اور پاکستان جیسے اسلامی سماج میں کسی خاتون یا بچے کو درندگی کا نشانہ بنائے جانے پر ملزمان بری ہوجاتے ہیں اور اگر خاتون کی جانب سے مزاحمت کے نتیجہ میں حملہ آور ہلاک ہوجائے تو اسے قتل کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے؟ کیا اس کا یہی مطلب سمجھا جائے کہ متاثرہ خاتون یا بچہ اپنے دعویٰ کے حق میں چار عادل گواہ لے کر آئے اور بقول اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈی این اے رپورٹ کو بطور شہادت نہیں مانا جائے گا ؟ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ایک شخص جو ریپ کی نیت سے کسی خاتون یا بچے کو اغواء کرے اور چار عادل لوگوں کے سامنے انہیں زیادتی کا نشانہ بنا ڈالے؟ موقع واردات پر چار عادل لوگوں کی موجودگی اگر ہو تو کیا وہ اس گھناؤنے فعل کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کریں گے ؟ یا بعد میں قاضی کے سامنے گواہی دینے کے لئے سب کچھ خاموشی سے دیکھیں گے؟ اس سے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ مجرم کو سزا اس لئے نہیں دی جائے گی کہ اس نے کسی کا ریپ کیا بلکہ سزا تو اس بات کی ہے کہ اس نے ایسی جگہ ریپ کیونکر کیا جہاں دیکھنے والے چار اور لوگ بھی موجود تھے، سزا تو پھر محفوظ جگہ کا انتخاب نہ کرنے کی ہوئی آخر ہم کس معاشرہ میں رہتے ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو تاریکی میں دھکیلنے کے لئے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم نے کبھی ان عوامل کو جاننے کی کوشش نہیں کی جو ایسے واقعات کی بنیاد ہیں۔ ایک گھٹیا دلیل جو ہمیشہ پیش کی جاتی ہے وہ میڈیا کی آزادی اور خواتین کے لباس سے متعلق ہے، اس ملک میں تو خواتین کی دفن شدہ لاشوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کیا ہم یہ کہیں کہ خدانخواستہ چھ فٹ مٹی میں دفن ایک لاش بھی کسی درندے کو جنسی شہوت دلاتے ہوئے اپنے ساتھ زیادتی کی دعوت دیتی ہے؟ ہمیں اس معاملہ کی مکمل جانچ کرنا ہوگی اور حل ضیاالحق سے پہلے والے اور مغربی سماج سے ہی ملے گا۔ لیکن ہم ایسا مغربی حل بلکل بھی تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ ہم ان کے بنائے ہوئے جہاز پر بیٹھ کر سعودیہ جانا اور اسمارٹ فون سے وہاں عبادت کے دوران سیلفی بنانا حلال سمجھتے ہیں لیکن ان کے نظام کو حرام سمجھتے ہیں-

 یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ جدید سائنس سے بھرپور استفادہ کرنے کی بجائے ہم ہمیشہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ڈی این اے ایک بنیادی ٹیسٹ ہے جو ایسے مجرموں کی سو فیصد درست شناخت کر سکتا ہے، لیکن پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل تو کجا اعلیٰ اد؛عدلیہ بھی ڈی این اے کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اگر ہمارے پالیسی سازوں کا یہی عقلی اور قانونی استدلال ہے تو معزرت، افسوس اور دکھ کے ساتھ یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں آئے روز سب سے پہلے کسی زینب کے درندوں کی بھینٹ چڑھ جانے کی خبر ملے گی، پھر دوسری خبر اطمینان بخش ہوگی کہ چیف جسٹس، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، صدر اور گورنر صاحبان نے واقع کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے علاقہ کے ڈی پی او اور کمشنر کو معطل کر دیا ہے اور جے آئی ٹی قائم کر کے چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پھر تیسرے روز اخبار میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی متاثرہ خاندان کو پانچ لاکھ کا امدادی چیک دیتے ہوئے گروپ فوٹو دیکھ کر مزید اطمینان حاصل ہوگا کہ چلو غریبوں کی کچھ مدد ہوگئی ہے۔

لیکن اس کے بعد کیا ہوگا …..؟ اس کے بعد ہم ایک اور زینب کی لاش کچرے سے ڈھونڈیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔