میں زندہ ہوں، بابا


آج زینب کی قبر پر ایک باپ مٹی ڈال رہا تھا تو مجھے اپنی اسلامیات کی کتاب کا ایک باب یاد آگیا۔ اس میں ایک شخص اپنی کہانی سناتا ہے کہ کس طرح اس نے اپنی پانچ سالہ بچی کو اپنے ہاتھوں سے زندہ دفنایا تھا، جسے اس کی ماں نے پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن ہونے سے بچا لیا تھا مگر جب مجھے پتا چلا تو میری غیرت نے گوارا نہ کیا اور میں بچی کو لے کر جنگل کی طرف چل پڑا۔ دفن کرنا تو شائد اتنا تکلیف دہ نہ تھا، مگر جب میں زمین کھود رہا تھا تو مٹی اچھل اچھل کر میرے چہرے پر پڑتی اور میری لخت جگر اپنے نرم نرم ہاتھوں سے وہ مٹی صاف کرتی جاتی. جیسے وہ مجھے میلا ہونے سے بچا لے گی۔ وہ مجھے میلا نہیں ہونے دے گی۔ ہاں اس نے مجھے میلا نہیں ہونے دیا۔ وہ مجھے بچاتی رہی. پھر میں نے اسے گڑھے میں لیٹا دیا۔ وہ خوشی خوشی لیٹ گئی۔ جسے اب تو کھیل شروع ہوا ہے اب ہم کھیلیں گے جسے وہ گھر گھر کھیلتی تھی نہ بالکل ویسے کھیلیں گے۔ مگر پھر میں نے مٹی ڈالنا شروع کی تو وہ گھبرا گئی ” یہ کیا کر رہے ہیں بابا؟” یہ کیا کر رہے ہیں؟”

“بابا آپ مجھ پر مٹی کیوں ڈال رہے ہیں ؟” وہ بار بار مجھ سے سوال کر رہی تھی مگر میں نے کسی سوال کا جواب نہ دیا اور اسے زندہ دفن کر دیا۔

یہ زمانہ جاہلیت کی کہانی تھی مگر آج پھر ایک زینب چیخ رہی تھی “سنو رکو، میں زندہ ہوں، میں زندہ ہوں” ” رکو میں زندہ ہوں میں مری نہیں ہوں ” میں زندہ ہوں۔۔

آج چودہ سو سال بعد بھی وہی آواز آرہی تھی کچھ بھی تو نہیں بدلا؟ ہاں مگر ایک فرق تھا، اس بچی نے سوال کیا تھا بابا آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟، مگر آج زینب کہ رہی تھی بابا اپنے یہ پہلے کیوں نہیں کیا تھا؟ بابا آپ نے مجھے کیوں اتنے پیار سے پالا؟ کیوں بابا؟ مجھے کیوں پالا؟ مجھے کیوں شہزادی بنایا؟ مجھے کیوں پیار کرنا سکھایا، بابا بتائیں نہ؟ مجھے کیوں شہزادیوں کی طرح پال پوس کر اس جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا کیوں بابا؟

بابا اگر مجھے یونہی تنہا جانوروں کی حوالے کر دینا تھا تو مجھے بھی جانوروں والی تربیت دے دیتے مجھے سکھا تو دیتے جب کوئی جانور تم پر حملہ کرنے سے پہلے پیار سے تمہارا ہاتھ تھامے تو تم کیا کرو گی۔ بابا آپ نے مجھے سکھایا ہی نہیں مجھے کیسے بچنا ہے، بابا آپ تو کہتے تھے تم نے بڑا آدمی بنانا ہے مگر بابا اپنے تو یہ بتایا ہی نہیں کہ بڑے ہو کر تو سب جانور بن جاتے ہیں۔ کیوں بابا آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟

بابا مجھ پر مٹی نہ ڈالیں خدا کے لیے مجھ پر مٹی نہ ڈالیں میں تو زندہ ہوں۔ مجھے موت کیسے آسکتی ہے بابا۔ میں تو زندہ تھی۔ میں تو اتنے دن زندہ رہی میں چیختی رہی میں آپکو بلاتی رہی بابا مجھے بچا لو مگر کسی نے میری آواز نہیں سنی۔ بابا یہ لوگ کہاں سے آ گئے ہیں یہ مری آواز کیوں نہیں سنتے تھے پہلے جب میں چیخ رہی تھی، مجھے کوئی بچانے نہیں آیا۔ بابا کوئی بھی نہیں آیا۔

جب مجھے نوچا جا رہا تھا میں زندہ تھی، جب مجھے کاٹا جا رہا تھا میں زندہ تھی، جب کوئی جانور مجھے کھا رہا تھا، میں زندہ تھی، بابا میں زندہ تھی، جب کوئی جانور مجھے تار تار کر رہا تھا، میں زندہ تھی بابا، میں زندہ تھی. بابا میں تو اپ کا بہادر بیٹا تھی نا؟ آپ نے مجھے سکھایا تھا نا تم میرا بیٹا ہو مگر بابا جانور بیٹا اور بیٹی میں فرق نہیں جانتا، وہ تو جانور ہوتا ہے نا؟ مگر بابا میں نے ہار نہیں مانی میں لڑتی رہی، میں لڑتی رہی، میں مری نہیں تھی بابا۔ میں تو زندہ تھی.

مجھ پر مٹی نہ ڈالو بابا، مجھ پر ہار نا چڑھاؤں، میں زندہ ھوں۔ بابا ان درندوں کی کوئی زینب نہیں ہوتی کیا؟

بابا یہ لوگ بہرے ہیں کیا یہ میری چیخیں کیوں نہیں سنتے؟

بابا آپ یہ مٹی ان لوگوں پر ڈال دیں۔ یہ سب مردہ ہیں. میں تو زندہ ہوں

آپ مت روئیں، میں زندہ ہوں، ایک بھیڑیا مجھے مار نہیں سکتا، میں لڑتی رہوں گی۔ بس مجھے یوں تنہا نہ چھوڑ کر جائیں۔ یہ اندھیرا تو اسے بھی زیادہ خوفناک ہے. مجھے چھوڑ کر نہ جائیں بابا. اگر ایسے ہی چھوڑ کر جانا تھا تو مجھے ایسے نہ پالا ہوتا، مجھے پیدا ہوتے ہی دفن کر دیتے بابا، کاش مجھے پیدا ہوتے ہی دفن کر دیتے، مجھے یوں بھیڑیوں کے حوالے نہ کرتے۔.. کاش۔….

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں