چکوال کا ضمنی انتخاب، نتائج و اثرات


پنجاب میں پی پی 20کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے جہاں زمینی حقائق سے متصادم تجزیوں کو مسترد کیا، وہاں بحرانوں میں گھری ن لیگ کو نئی جِلا بھی بخشی ہے۔ ہمیں ن لیگ کے طرزِ حکمرانی سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ حقیقت تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ کسی ”اَپ سیٹ‘‘ یا ”کانٹے دار مقابلے‘‘ کے غباروں سے ہوا نکل گئی ہے اور خاموش اکثریت نے اپنے آئندہ کے عزائم سے آگاہ بھی کردیا ہے۔ وطنِ عزیز کی پارہ صفت سیاست کے مستقبل کے بارے میں تجزیہ کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ البتہ موجودہ حالات میں جب ن لیگ عرصۂ امتحان میں ہے، اس انتخابی نتیجے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے تو عوامی موڈ کے حوالے سے نوشتۂ دیوار سامنے ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں بھی ن لیگ کوپچھاڑنا آسان نہیں ہوگا۔ پنجاب کو ن لیگ کا قلعہ کہاجاتا ہے اور ہنوز اس قلعے میں دراڑ ڈالنا ممکن نہیں ہو سکا ہے‘ بلکہ چکوال کے ضمنی انتخاب کے نتیجے نے اس قلعے کے اور بھی مضبوط ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

پی پی 20 کی نشست اس حلقہ کے سدا بہار ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لیاقت علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔ وہ 1985ء سے 2013ء تک یہاں سے 6مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ایک دفعہ ان کی بیگم عفت لیاقت کامیاب ہوئیں اور آج ان کے خاندان نے آٹھویں مرتبہ یہ نشست حاصل کی ہے۔ چوہدری لیاقت کی سیاست کا خاصہ یہ ہے کہ وہ عام آدمی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا دروازہ محاورتاً نہیں کھلا، بلکہ انہوں نے اپنے ڈیرے کا مین گیٹ سرے سے نصب ہی نہیں کرایا۔ ان کی سیاست میں ہزار خامیاں ہوں گی مگر وہ آخری دم تک مسلم لیگ کے ساتھ وفادار رہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ حتیٰ کہ 1999ء میں جب پرویز مشرف کا ظہور ہوا اور یہاں سے سدا بہار ممبر قومی اسمبلی جنرل (ر) مجید ملک، جو ن لیگ کے اہم مرکزی رہنما تھے، وہ بھی مشرف کے زیر سایہ ق لیگ میں آ بیٹھے، تب بھی چوہدری لیاقت اپنی جماعت کے حق میں ثابت قدم رہے۔ اس ضمنی انتخاب میں ن لیگ نے چوہدری لیاقت کے صاحبزادے سلطان حیدر علی جبکہ پی ٹی آئی نے راجہ طارق افضل کالس کو ٹکٹ دیا، جو علاقے کے ایک معتبر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اصل مقابلہ انہی دو امیدواروں کے درمیان تھا۔ سلطان حیدر نے 75655جبکہ راجہ طارق افضل نے 45702ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح ن لیگ کے امیدوار نے تقریباً30ہزار ووٹوں کی واضح برتری سے اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔ یہ لیڈ 2013ء کے انتخابات سے بھی زیادہ ہے جب ن لیگ کے امیدوار چوہدری لیاقت نے 62088، سردار گروپ کے چوہدری اعجاز حسین فرحت نے 35570اور پی ٹی آئی کے چوہدری علی ناصر بھٹی نے 32827ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس انتخاب میں سردار غلام عباس خان اور ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر اقبال سلطان حیدر علی کی انتخابی مہم چلانے میں اہم کردار ادا کر ر ہے تھے۔ چکوال کی سیاست کے حوالے سے ایک بات مسلمہ ہے کہ یہاں دو طاقتیں مضبوط ووٹ بینک رکھتی ہیں۔ ایک مسلم لیگ (ن) اور دوسرے سردار غلام عباس۔ سردار عباس ایم پی اے، صوبائی وزیر اور دو دفعہ ضلع ناظم رہ چکے ہیں۔ براہِ راست عوامی رابطہ اور ترقیاتی کاموں کاجنون انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے ضلع ناظمی کے دوران اس پسماندہ ضلع میں بننے والے گیارہ ڈیمز، پانچ گرلز کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا کا چکوال کیمپس، پولی ٹیکنیکل کالج، تین سیمنٹ فیکٹری، چکوال سٹیڈیم، درجنوں بجلی کے منصوبے، چکوال تلہ گنگ گیس پائپ لائن اور سڑکوں اور گلیوں کا جال ان کا وہ کریڈٹ ہے جس کی بنا پر وہ اپنے سیاسی حریفوں پر برتری رکھتے ہیں اور سب سے مقبول اور بااثر مقامی سیاستدان تصور ہوتے ہیں۔ 1985ء کے بعد چکوال کا ووٹ پیپلز پارٹی کے لیے اجنبی رہا، مگر سردار عباس 1992ء میں جب پی پی میں تھے تو انہوں نے ذاتی ووٹ بینک کے بل بوتے پر اپنی صوبائی اسمبلی اور سردار ممتاز ٹمن کی قومی اسمبلی کی سیٹ حاصل کی جس پر خود بے نظیر بھٹو بھی حیران ہوئیں۔ 2013ء کے انتخابات میں این اے 60 سے سردار عباس نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے ن لیگ کے امیدوار میجر (ر) طاہر اقبال کا مقابلہ کیا۔ میجر صاحب کامیاب ہوئے مگر سردار عباس نے ایک لاکھ سات ہزار ووٹ حاصل کیے، جو بغیر کسی جماعت کی چھتری کے ان کے ذاتی ووٹ تھے۔ ان کا گروپ 2015ء کا بلدیاتی انتخاب بھی جیت گیا، جس کے بعد ن لیگ کی مقامی قیادت کی سرتوڑ مخالفت کے باوجود مرکزی قیادت نے انہیں اپنی جماعت میں شامل کرلیا۔ ضمنی انتخاب کا معرکہ اس لحاظ سے طاہر اقبال اور سردار عباس کے درمیان مقابلہ تھا کہ کون سا رہنما اپنے امیدوار کو زیادہ ووٹ دلانے میں کامیاب ہوکر آئندہ انتخابات میں این اے 60سے ن لیگ کا ٹکٹ حاصل کرتا ہے۔ دونوں راہنمائوں نے بھرپور محنت کی،مگر سردار عباس نے ذاتی ووٹ بینک کی بنا پر یہ مقابلہ جیت لیا۔ اگر 2018ء کے انتخابات میں ن لیگ این اے 60کا ٹکٹ سردار عباس کو دیتی ہے (جسکا غالب امکان ہے) تو وہ یہ نشست آسانی سے جیت جائیں گے۔ تاہم اگر مقابلے میں پی ٹی آئی ایاز امیر کو اتارنے میں کامیاب ہو گئی تو پانسہ پلٹنے یا کم از کم کانٹے دار مقابلے کے امکان کو رَد نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس میں پی ٹی آئی سے زیادہ ایاز امیر کی کرشماتی شخصیت کو زیادہ دخل ہوگا۔

پی پی 20کے ضمنی انتخاب کا ملکی سطح پر اثرات کا جائزہ لیاجائے تو کھلتا ہے کہ ن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ زمینی حقائق یہ سامنے آئے ہیں کہ ووٹرز کو پانامہ کیس، نواز شریف کی نا اہلی، ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات، کردار کشی کی مہم اور سانحہ ماڈل ٹائون سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی یہ معاملات ان کی مقبولیت کو کم کر سکے ہیں۔ مریم نواز نے اس انتخابی نتیجے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ کون اہل، کون نااہل، عوامی عدالت نے پھر فیصلہ سنا دیا۔ نواز شریف نے کہا ”چکوال کی فتح سے ثابت ہوگیا ہے کہ قوم میرے ساتھ ہے‘‘… ہمارے غیر جمہور ی رویوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی رَو میں بہہ کرخاموش عوامی اکثریت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو سیاسی جلسوں میں شرکت کرتی ہے اور نہ سیاست پر بے لاگ تبصرے، بلکہ یہ اکثریت صرف پولنگ کے وقت اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جو ہمارے تجزیوں کے مقابلے میں موثر ترین ہوتا ہے۔ ایسے میں جب ہمارے تجزیے غلط ثابت ہوتے ہیں تو ہم جمہوریت کا وسیع النظر مزاج سمجھنے کی بجائے عوامی عدالت کے فیصلے میں کیڑے نکال کر اور منتخب قیادت کو ہدف تنقید بنا کر اپنی ناسودہ خواہشات کی تسکین کا ساماں کرتے ہیں۔

ہمیں غیر جانبداری اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان اپنے تمام تر اخلاص، محنت اور قابلیت کے باوجود ن لیگ کے قلعے میں دراڑ ڈالنے اور عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکے؟ عمران خان وہ خوش نصیب ہیں‘ جس نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران اندرون و بیرون ملک محبتوں کے بیکراں سمندر سمیٹے ہیں۔ بلاشبہ ان کی ذات دنیا میں پاکستان کی شناخت اور وجہ عزوشرف ٹھہری ہے۔ لیکن کھیل اور سیاست کے میدانوں میں اصول جدا جدا ہیں۔ ہمیں عمران خان کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ اگر حرماں نصیبوں کو کسی لیڈر میں اپنے درد کا درماں نظر آئے تو اس خاکستر میں ابھی چنگاریاں موجود ہیں جو شعلہ بن سکتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ عمران خان اپنی پرانی مقبولیت اور سحر انگیز شخصیت کے بل بوتے پر خاکستر کی ان چنگاریوں کو بھڑکا سکتے ہیں اور قوم کے لیے روشنی کا مینار بن سکتے ہیں‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چنگاریوں کو ہوا دینے کا سلیقہ بھی تو آئے اور عوامی دلوں میں گھر کرنے کا قرینہ بھی تو معلوم ہو۔ بھٹو بننے کی خواہش تو ہر دل میں ہے مگر بھٹو کی طرح جان ہتھیلی پر رکھ کر اور امریکہ سے بھِڑ کر عوامی سیاست کا کوئی گر بھی تو سیکھے۔ ہماری ناقص فہم میں عمران خان کو کامیابی کے لیے اپنا مزاج بدلنا ہوگا اور پارٹی سیٹ اپ بھی۔ سیاہ نصیبوں کے دکھوں کا ادراک اور مداوا ان کے قریب تر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ عوامی دلوں میں نقب بچیوں کے سکول جلانے اور بم دھماکوں سے بے گناہوں کا مارنے والوں کی حمایت سے ممکن نہیں۔ ”غالب ؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بُوئے دوست‘‘… ان کی باتوں میں ان ”دوستوں‘‘ کے خیالات کی بُو واضح ہے جو مخلوق خدا کو جبراً اپنے غیر منطقی نظریات کا حامی بنانے کے قائل ہیں اور جو عوام میں کبھی مقبول نہیں رہے۔ عوامی حقوق کی بات کرنا اورغیر جمہوری طاقتوں اور آمریت کے مستقل چاکروں کے ساتھ مل کر سیاست کرنا بہرحال دو متضاد فعل ہیں کہ… اِکو پاسا رہندا ہیرے، یا کھیڑے یا رانجھے…


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔