ایک گھریلو محفل


گزشتہ ہفتے جاتی امراء میں لنچ پر میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو مجھے لگا کہ ان کے ذہن پر سے بہت سا بوجھ اتر گیا ہے، وہ بہت عرصے سے بہت کچھ برداشت کرتے چلے آرہے تھے، غیر عدالتی زبان، سوچے سمجھے فیصلے، ان کی حکومت گرانے کی پوشیدہ اور ظاہر حکمت عملی بعض ٹی وی چینلز سے مسلسل کردار کشی، گھٹیا اور بے بنیاد الزامات، تھرڈ کلاس قسم کے اینکرز کی بدزبانی، عمران خان اور شیخ رشید کی بدکلامی، پورے خاندان کی عدالتوں میں پیشیاں اور اس کے علاوہ بہت کچھ! مگر کب تک؟ بالآخر وہ پھٹ پڑے اور انہوں نے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو عوام اور میڈیا پرسنز پہلے سے جانتے تھے مگر میرے میڈیا کے دوست بھولے بن کر’’پولا‘‘ سا منہ بنا کر کہا کرتے تھے کہ میاں صاحب کچھ بتائیں تو سہی، تو میاں صاحب نے سب کچھ تو نہیں بہت کچھ بتادیا، چنانچہ کل دو گھنٹے کی ملاقات میں میں نے محسوس کیا کہ ان کے سینے کا بوجھ کافی ہلکا ہوگیا ہےاور یہ بھی محسوس کیا کہ ڈرنے والے تو وہ کبھی بھی نہیں تھے، اب تو وہ ہر قسم کی آزمائش سے گزرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوچکے ہیں۔

اس گھریلو قسم کی نشست میں مریم نواز اور سینیٹر پرویز رشید بھی موجود تھے۔ میاں صاحب پرویز رشید سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے دل میں ان کی لئے بہت عزت اور احترام کے جذبات موجود ہیں اور یہ بےجواز نہیں۔ اس کی سوچ اور عمل میں کوئی تضاد نہیں۔ دوران گفتگو میں نے محسوس کیا کہ میاں نواز شریف کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں لیکن گلوبل تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کو درپیش خطرات ان کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ ان کی حکومت ان خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے اور مجھے خوشی ہوئی کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت اور ہماری فوج ایک پیج پر ہیں۔ الیکشن میں بہت کم دن رہ گئے ہیں، کاش !ہماری اپوزیشن جماعتیں صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں اور موجودہ خطرات کے خلاف یک جان ہونے کی بجائے وہ حکومت کے خلاف صف بندی کے پلان بنانا چھوڑ دیں، الیکشن کے بعد جو حکومت برسراقتدار آئے وہ اپنے منشور کے مطابق صورتحال کے حوالے سے اپنی پالیسی تیار کرے مگر اس وقت سخت ضرورت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دشمنوں کو یہ پیغام دیں کہ ہمارے جھگڑے اور اختلافات اپنی جگہ پر، مگر اس نازک موقع پر ہم سب ایک ہیں اور تمہاری مکروہ سازشوں کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ میں نے ابھی جو باتیں کی ہیں، محض اپنی خواہش کا اظہار ہیں ورنہ یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، ہم سب کو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات عزیز ہیں، منیر نیازی ایک جانور کا نام لے کر کہا کرتے تھے کہ اس نے صرف گنے کی جڑ کھانی ہوتی ہے مگر اس کے لئے وہ کماد کا سارا کھیت اجاڑ کر رکھ دیتا ہے، کچھ اس قسم کی صورتحال ہمارے سیاسی منظرنامے میں بھی نظر آتی ہے۔

میاں نواز شریف اور سینیٹر پرویز رشید سے گفتگو کے دوران مریم نواز بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہیں۔ شریف خاندان میں بڑوں کا ادب و احترام بہت زیادہ ملحوظ رکھا جاتا ہے، چنانچہ اپنے ابو اور دو انکلوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں انہوں نے اپنا حصہ بہت کم ڈالا،مگر جنتی باتیں بھی انہوں نے کیں اس سے ان کی سیاسی بصیرت جھلک رہی تھی، ہمارے ’’اینٹی سوشل میڈیا‘‘ میں انہیں بھی ٹارگٹ کیا جاتا ہے، میں نے اس کا حوالہ دیا تو ہنس کر بولیں ’’انکل، میں اکیلی ان کا نشانہ ہوتی تو ممکن ہے پریشانی محسوس ہوتی ان کی دشنام طرازی سے تو کوئی بچا ہی نہیں، جب انہیں اور کوئی نہ ملے تو آپس ہی میں گالم گلوچ کرنے لگتے ہیں‘‘ میں نے اس موقع پر غالب کا مصرعہ؎
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
پڑھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مریم لٹریچر کی طالبہ نہیں ہیں، چنانچہ میں نے ہنستے ہوئے کہا’’اس کا مطلب اپنی امی (بیگم کلثوم نواز) سے پوچھ لیں جو لٹریچر میں پی ایچ ڈی ہیں۔

چونکہ یہ گھریلو نشست تھی، کوئی سیاسی نہیں، چنانچہ یہاں ہلکی پھلکی گفتگو ہی ہوئی، اس دوران چند لمحوں کے لئے میاں شہباز شریف بھی آگئے بلکہ وہ مجھ سے پہلے اپنے برادر بزرگ سے میٹنگ کرچکے تھے، اب اپنے خاندانی ادب آداب کے مطابق جاتے ہوئے بڑے بھائی سے اجازت لینے آئے تھے۔ وہ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، انہوں نے پرجوش مصافحہ کرتے ہوئے میرا حال احوال پوچھا تو میں نے جواب میں؎
کچھ اس ادا سے آپ نے پوچھا میرا مزاج
کہنا پڑا، کہ شکر ہے پروردگار کا

والا شعر پڑھ دیا، ویسے ان کا خوش ہونا سمجھ میں بھی آتا ہے، اللہ نے انہیں بہت سے امتحانوں میں سرخرو کیا ہے اور پنجاب کے عوام کے لئے عظیم منصوبے وقت مقررہ سے پہلے مکمل کرنے کی روایت ڈالنے والے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں