ایرانی صدر کا دورہ اور را کے جاسوس کی گرفتاری۔۔۔


zawwar hussainملکی تاریخ میں پہلی بار بھارت کی خفیہ تنظیم را کا کل بھوشن یادیو نامی حاضر سروس ایجنٹ پاکستان کے عسکری اداروں کی تین روزہ کارروائیوں کے بعد گرفتار ہوا ہے. پاکستان کو بین الاقوامی طور پر دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرنے والے بھارت  کے حاضر سروس جاسوس کی گرفتاری یقینی طور پر اس مرحلے میں بھارت کے لیے  خاصی مشکل ثابت ہوں گی. جب پٹھان کوٹ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات اھم مرحلہ میں داخل ہو رہی ہیں. بھارتی جاسوس کی سرگرمیوں کے حوالے سے عسکری ادارے کے وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ را کا ایجنٹ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر تخریبی سرگرمیاں کرتا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ متذکرہ جاسوس ایرانی پورٹ چاہ بہار میں بھی تعینات رہا. ان انکشافات کو ایسے لمحات میں ملکی و بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا جب ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی بھی دورہ پاکستان کے سلسلہ میں اسلام آباد میں موجود اعلی سطح کے اجلاسوں میں شرکت کر رہے تھے۔ ان انکشافات کے اگلے دن ایرانی صدر نے اس ضمن میں وضاحت کرتے ہوے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف راحیل شریف سے بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی انھوں نے اس موقع پر واشگاف انداز میں کہا کہ جب بھی ایران پاکستان باہمی قربت کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔

مذکورہ بالا بیانات، انکشافات، وضاحتوں اور ایرانی صدر کے دورہ کے سلسلہ میں آمد سے ایک روز قبل بھارتی جاسوس کی سنسنی خیز گرفتاری کو اگر ایرانی صدر کے خدشاتی بیان کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو را کے جاسوس کی گرفتاری اور ڈاکٹر حسن روحانی کے دورہ کے یکساں اوقات بہت سے سوالات کو جنم دیتے ہیں. جن کے پس منظر میں پاکستان اور سعودیہ کے گہرے ریاستی اور آنے والے ہر حکمران کے ذاتی تعلقات کے ساتھ خلیج میں ایران سعودیہ کے دیرینہ دشمنی پر مبنی تصادم، تضادات نظر آتے ہیں۔ اسی منظر پر حاوی ایک اور حقیقت ایران اور سعودیہ کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر پاکستان کی سرزمین پر لڑی جانی والی طویل پراکسی جنگ ہے جس کی بھینٹ ہزاروں بے گناہ پاکستانی چڑھ چکے ہیں۔ یہ جنگ کتنی  گیرائی میں چلی گئی ہے اس کا اندازہ ہر با شعور پاکستانی، ریاستی نقطہ نظر، سرکاری اعلی حکام، حکمران اشرافیہ کی ایک ملک سے فرما ںبرداری والی فخریہ دوستی جس میں دوست ملک حاکم اور ہم محکوم ہیں اور دوسرے ملک سے مسلکی اختلاف کی بنا پر علانیہ و غیر علانیہ نفرت و دوری سے لگا سکتا ہے۔ را کے جاسوس کی گرفتاری اور ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا اعلان  ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہونا اگر مذکورہ پس منظر سے جڑا ہے تو اس کے دور روس اثرات کا  پاک ایران تعلقات پر مرتب ہونا نا گزیر ہے لہذا لبرل ازم کی طرف جنگی بنیادوں پر گامزن نواز حکومت کو اس سلسلہ میں پاکستان اس کے عوام اور خطہ کی مستقبل میں معاشی، سماجی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوے اپنی خارجہ پالیسی کو ترتیب دینا ہو گا بصورت دیگر ایرانی صدر کی یہ بات سچ ثابت ہو جاے گی کہ پاک ایران باہمی تعلقات کی طرف ہر پیش رفت افواہوں یا سازشوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments