پرانی ڈفلی، نیا راگ


shahid malikہندوستان کے جانے پہچانے شاعر جاوید اختر نے راجیہ سبھا میں رکنیت کی میعاد ختم ہونے پر ’بھارت ماتا کی جے‘ کا جو نعرہ تین مرتبہ بلند کیا، وہ چند روز سے سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ابتدا روزنامہ ’ڈان‘ میں نامہ نگار جاوید نقوی کے ہفتہ وار مضمون سے ہوئی، جنہوں نے اس ’انقلابی‘ حرکت کے پیچھے کارفرما نفسیاتی عوامل کی نشاندہی کی کوشش کی تھی۔ مضمون شائع ہونے کی دیر تھی کہ حقیقت پسند مزاج رکھنے والے میرے دانشور دوست عامر جعفری نے فیس بک پر یہ کہہ کر جاوید اختر کا توا لگا دیا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں تھڑے باز سیاستدانوں کا سا طرز عمل اختیا ر کیا ہے۔ اگر عامر جعفری کی بات کا آزاد ترجمہ کیا جائے تو جاں نثار اختر کا بیٹا اور کیفی اعظمی کا داماد سرے سے شاعر ہی نہیں بلکہ فلمی گیتوں کے بول جوڑنے والا ’تُک بند‘ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ زیرِ نظر موضوع ہے تو فکر انگیز کہ اس سے ایک تو عام حالات میں میانہ رو چلن رکھنے والے ایک بھارتی مسلمان کی فکری قلابازی کا سراغ ملا، دوسرے فیس بک پر درجنوں ’فرینڈز‘ نے بلا لحاظِ رنگ و نسل و ملت اس پہ مزے مزے کے تبصرے کئے جن سے دھیان اپنے ملک کی طرف بھی گیا۔ نمونہء کلام کے طور پر صبا صادق کا یہ جملہ کہ جاوید اختر نے خود کو ایک روشن خیال مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر جاوید نقوی کو مخاطب کرکے راجیو کپور نام کے ایک صاحب کا یہ کہنا کہ ’سالے، اچھا لکھتے ہو مگر حمایت غلط فریق کی کرتے ہو‘۔ ایک تیسرا تبصرہ مجاہد اقبال کی طرف سے ہے جنہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے مشہور صحافی ایم جے اکبر یوں تو میرے رشتہ دار ہیں مگر میں چونکہ پاکستان میں پلا بڑھا ہوں، اس لئے وہ میری ای میلوں کے جواب نہیں دیتے۔

javed-akhtar-1مجھے بھارت کے کسی معتبر اخبار نویس سے خاندانی قرابت کا دعوی تو نہیں، مگر دوستوں کے توسط یا بی بی سی کی وابستگی کے حوالے سے جن اخبار نویسوں سے جان پہچان رہی، ان میں جاوید نقوی بھی شامل ہیں۔ اب یہ ان کی ازلی خوش مزاجی تھی یا میرا ناقابل علاج غیر سنجیدہ پن کہ جب بھی ملے، گفتگو پہ دونوں طرف سے مزاحیہ رنگ چھایا رہا۔ تازہ مضمون میں بھی جاوید نقوی نے جاوید اختر کو ’بھارت ماتا ‘ کا نعرہ لگانے کی بجائے لکھنو کے زندہ دل کردار صفدر بھائی سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دی ہے۔ 1961ء کے کانپور کرکٹ ٹیسٹ میں فضل محمود کے ’لیگ کٹر‘ پر جب وکٹ کیپر امتیاز کی کیچ آؤٹ کی اپیل ناکام رہی تو پاکستانی ٹیم کے ایک بزرگ ’فین‘ نے اپنی دور بین ہٹا کر کہا کہ کلِک تو ہوئی ہے۔ تب صفدر بھائی نے یہ کہہ کر سب کو ہنسا دیا تھا کہ واہ مولانا، آپ نے دوربین پہ آواز بھی سن لی۔

جاوید نقوی نے تحریر کی چاشنی اور سوچ کی گہرائی سے کام لیتے ہوئے ’جئے ہند‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کا موازنہ بھی کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظوں کے چناؤ پہ جاؤ تو دونوں کے مفہوم میں کوئی خاص فرق نہیں، لیکن لب و لہجہ پہ غور کرو تو ان نعروں کی تاثیر جدا جدا ہے۔ اسی لئے وہ ذاتی حیثیت میں رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے موقف سے اس حد تک متفق ہیں کہ کچھ ہو جائے، ’بھارت ماتا‘ کا نعرہ بلند کرنے کا کوئی سوال نہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ گریز کے اس رویے کے حق میں جاوید نقوی نے جو دلیل دی اس میں نظریاتی اور تمدنی اختلاف کے پہلو آپس میں مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے نزدیک بھارت ماتا کے الفاظ سے ذہن ’ہندتوا ‘ کی طرف جاتا ہے، جیسے جنرل ضیا الحق کے پاکستان میں ’خدا حافظ‘ کی جگہ ’اللہ حافظ‘ کی ترویج عرب اسلام سے جڑی ہوئی تھی۔

احمد ندیم قاسمی کا قول ہے کہ شاعری رائے کا اظہار نہیں، جذبے کا اظہار ہوتی ہے۔ کسی بھی دور کی عوامی نعرے بازی کو سامنے رکھیں تو شاعری کی طرح اس کے متن میں منطق کی کچھ نہ کچھ جھلک تو ملے گی، لیکن ضروری نہیں کہ یہ نعرے عین مین کسی طے شدہ منشور کا شعوری اظہا ر ہوں۔ اس کے برعکس، اقبال نے جو کہا تھا ’امیدیں مری، جستجوئیں مری‘ سو، یہ سب کچھ اجتماعی سطح پہ نیم پختہ آرزوؤں اور شکستہ خوابوں کے درماں کا بہانہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ فرد کی طرح انسانی گروہوں کی نفسیات بھی ایک بنیادی سچائی ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کیفیتوں کی تشریح لوگ مختلف مراحل پر الگ الگ انداز سے کرتے ہیں۔ اسی لئے تو علمی حلقوں میں آج بھی یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ اسلامیان برصغیر کے لئے علیحدہ وطن کا تصور مذہبی تحریک تھی یا مسلمانوں کے سیاسی و معاشی مفادات کا تقاضا۔

انسان کی پیدائش اس کے بس میں نہیں ہوتی، اس لئے میں نے پاکستان کو بنتے ہوئے اپنے والد کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ عام معنوں میں انہیں مہاجر کہنا غلط ہوگا۔ دراصل اس نوجوان نے، جو غلامی کی آخری رات کو وزیر آباد جنکشن کے پلیٹ فارم پہ پورے تئیس سال کا ہوا، آزادی کا سورج وہیں طلوع ہوتے دیکھا تھا۔ شاہجہاں پور کینٹ سے، جو اب ہندوستان میں ہے، اس کی آبائی شہر سیالکوٹ کو واپسی متحدہ ہندوستان کی آرمی کلودنگ فیکٹری کے سویلین ملازم کے طور پہ ہوئی۔ والد کی زبانی بچپن سے لے کر اب تک اس سفر کے آغاز، پھر بریلی، مراد آباد اور رامپور سے گزر کر سہارنپور کے اسٹیشن پہ ٹرین کی غیر معمولی تا خیر اور امرتسر کے نواح میں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی کہانی بچپن سے لے کر اب تک بار بار اتنے انہماک سے سن چکا ہوں کہ لگتا ہے ’اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے‘۔

یہاں میرے والد کے لئے نامور کالم نویس خالد حسن کے الفاظ پہ نظر ڈال لیجئے جو خود بھی طالب علم کے طور پہ قیام پاکستان کے چشم دید گواہ ہیں۔ ’ریئر ویو مرر‘ میں، جس کا ترجمہ ہو گا ’آئینہ ء ایام‘، خالد صاحب نے لکھا ہے ’ 1947 ء کے اوائل میں مجھے چند دن سیالکوٹ میں گزارنا نہیں بھولتا جب میری والدہ کے فرسٹ کزن نذیر ملک مجھے ’گرین کیفے‘ لے گئے تھے۔ بھائی نذیر، جنہیں میں نے ہمیشہ اسی نام سے پکارا، کٹر مسلمان قوم پرست اور ’پاکستان ٹائمز‘ کے قاری تھے اور خود کو قائد کا سپاہی کہتے۔ آرڈیننس کلودنگ فیکٹری کی نوکری ان کی سیاسی وابستگی کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہ بنی۔ اس وقت ہندوستان بھر کے مسلم نوجوانوں کا یہی حال تھا۔ مسلم لیگ نے ان کے دلی جذبے کو یوں آگ دکھا ئی تھی کہ وہ سوتے جاگتے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھتے رہتے جہاں وہ آزاد شہری کی زندگی گزاریں گے‘۔

یہاں میں گھڑی بھر کو دم لوں گا کہ قائد کے اس سپاہی سے بارہا ہونے والے اپنے مکالمے کو ذہن میں دہرا سکوں۔ بابائے قوم سے ان کی جذباتی کمٹ منٹ پہ تو بحث نہیں ہو سکتی کہ پاکستان بننے سے پہلے انتخابات میں آدھ درجن ووٹ اپنے ہاتھ سے ڈالنے کا قصہ ان سے کئی مرتبہ سنا اور اعتراض کرنے پہ یہی جواب ملا ’تم اُن حالات کو نہیں سمجھتے، یہ انتہائی ضروری تھا‘۔ یہی جواب اس بات کا بھی ملتا کہ نئی آزاد مملکت میں کابینہ کی تشکیل اور اس کی صدارت کیا گورنر جنرل کا کام تھا یا وزیر اعظم کا۔ اتنا کہتا چلوں کہ میں تو پیدائشی طور پہ آزاد ملک کا شہری ہوں، لیکن کیا پتا والد کے جذبہء حب الوطنی میں اس کامیابی کو بھی دخل ہو کہ ایک ایسے محکمے میں جہاں عہدے فوجی پیمانے سے ناپے جاتے تھے، پاکستان کی برکتوں سے آپ فل کرنل کے برابر پہنچ گئے۔ متحدہ ہندوستان میں یہ ناممکن تھا۔

ہمارے نئے ملک میں کس کس نے ترقی کی اور کیسے؟ اس سے بھی نازک تر سوال یہ ہے کہ مطالبہ پاکستان کیا ایک مذہبی تحریک تھی یا سیاسی و معاشی مفادات کے تحفظ کی ترکیب یا پھر محض تزویراتی مسائل کا مداوا۔ والد محترم اتنا تو بتاتے رہے ہیں کہ دین ہماری قومیتی شناخت کا بنیادی حوالہ تھا مگر ہم جانتے تھے کہ ہمارا مملکتی ڈھانچہ جمہوری اور پارلیمانی ہوگا۔ بہرحال، یہ ایک عام شہری کا نقطہ نظر ہے جس نے پاکستان بنتے دیکھا۔ اس کے برعکس، چند سال پہلے جب میں نے ایک ’نظریاتی‘ مورخ سے بڑے چاؤ کے ساتھ تاریخ کے انہی پہلوؤں کو ری وزٹ کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے شرما کر کہا کہ بہتر ہے آزادی سے پہلے کی بات نہ کریں۔ اب اپنا ہاتھ ان مذہبی رہنماؤں کے سامنے پھیلانے والا ہوں جن کے بڑے نیشنلسٹ علما کہلاتے تھے مگر وہ خود آج کل پرانے مسلم لیگیوں میں محب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں۔ کیا پتا کہ بدلتی ہوئی تشریحات کے دور میں ’بھارت ماتا‘ کے نعرے کا جواب انہی کی پاٹلی سے نکلے


Comments

FB Login Required - comments