زینب کا قاتل اور میرے نوجوان طلباء!


کالج میں پڑھنے والے نوجوان بچے مجھے بے حد پیارے لگتے ہیں۔ ان کو پڑھاتی ہوں اور ان سے بہت کچھ سیکھتی ہوں۔ روشن آنکھوں والے یہ شریر اور ذہین لڑکے، جیتی جاگتی زندگی ہوتے ہیں۔ وہ زندگی جو ہمیں یہاں وہاں مجبوریوں میں سسکتی ملتی ہے، اُس سے با لکل جدا۔ بڑے پر اعتماد اور خود مختار سے۔ ۔ یہ اسی طرح ہنستے مسکراتے، یاروں کو زچ کرتے، استادوں سے الجھتے، چھوٹوں بڑوں سے لڑتے جھگڑتے، اپنی طاقت منواتے، زندگی کو پتہ نہیں کب چیلنج دے دیتے ہیں کہ پھر وہ انھیں طرح طرح سے ستاتی ہے۔ اس عمر کے نوجوانوں کا حسن اس بات میں بھی ہوتا ہے کہ یہ کسی اچھے نامور کالج میں پڑھیں یا کسی کم فیس والے ادارے میں، غیر نصابی اعتبار سے سب قریب قریب ایک معیار پہ ہوتے ہیں۔ اس لئے مجھے صرف کالج جانے والوں سے ہی نہیں، اس عمر کے ہر لڑکے سے بات کرنی ہے۔

نوجوان بچو۔ میں کئی دن سے آپ لوگوں کو اُس ننھی کلی زینب کے دُکھ محسوس کرتا دیکھ رہی ہوں۔ آپ لوگ اس واقع کا ذکر کرتے ہو، پھر بات کو چھپا جاتے ہو۔ نظریں چرانے لگتے ہو۔ خبروں کی طرف کان لگے ہیں، فیس بک اور دیگر ذرائع سے اپڈیٹ لے رہے ہو۔ پر اس موضوع پر بات کرنے کے لئے آپ لوگوں کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ اپنے اندر ہی اندر الجھ رہے ہو۔ کیا کہہ سکتے ہو؟ مگر میں آپ کو بتاتی ہوں کہ یہ الجھن کیا ہے۔ ہم سب نے زینب کے لئے جو تکلیف محسوس کی، وہ تو ناقابلِ بیان ہے۔ الجھن کا پہلو، وہ آدمی ہے جو ایک مرد ہے۔ جس نے زینب کی عزت پہ حملہ کیا۔ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر، قتل کر دیا۔ اُس کے ہم صنف ہونے کے احساس سے ہی آپ کی نظریں شرم سے جھکی جا رہی ہیں۔ گھبرا کے اونچی آواز سے کہتے ہو، ’ چینل چینج کر یار، دل گھبرا رہا ہے‘۔ وہ کیسا انسان ہے؟ کس دل کا مالک ہوگا؟ کیا اس کی پرورش حیوانوں میں ہوئی ہے؟ کس قدربے شرم ہو گا وہ۔ اتنی سی بچی کے ساتھ بھی کوئی؟ یہی سب چل رہا ہے نا ذہن میں؟ یہی وہ سوال ہیں جہاں سے میری بات اصل میں شروع ہوتی ہے۔

مائے بوائیز۔ اس طرح کا کوئی بھی جرم کرنے والا لڑکا یا مرد، شکل شباہت سے مختلف ہوتا ہے، نہ ہی عام لوگوں سے کٹ کر کہیں درندگی کی ٹریننگ لیتا ہے۔ ایسی حرکت کا تعلیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی ضروری نہیں کہ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے افراد ایسا کریں۔ اس کا دولت اور غربت سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ ایسی حرکت کر جانے والا آپ کی عمر میں، آپ ہی جیسا نوجوان ہوتا ہے۔ اس کا تعلق اکثر ہمارے معاشرے کے عزت دار گھرانوں سے ہوتا ہے۔ اس کے والدین نے بھی اسے کبھی ایسی تربیت نہیں دی ہوتی۔ بس ایک فرق ہے آپ میں اور اس میں۔ آپ اپنی شہوت Libido کو کنٹرول کرنا جانتے ہو۔ ایک اچھی زندگی جینے کا فن بھی بس اسی ایک بات میں ہے۔ جہاں آپ اپنی جنسی خواہش کے غلام ہوئے، وہیں آپ کی زندگی میں پریشانیاں در آتی ہیں۔

جنسی خواہش ایک صحت مند جسم اور ذہن کے ساتھ لازم ہے۔ اس بات سے گھبرانا نہیں۔ اسی لئے آپ کی عمر میں سپو رٹس اور دیگر سرگرمیاں ضروری ہوتی ہیں۔ پھر ایک دور آتا ہے جب آپ کو صنفِ مخالف میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک نارمل بات ہے۔ یہیں سے آپ کے جذبات، احساسات اور خواہشات کی آپس میں اوور لیپنگ شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے مختلف رنگوں کے بہت سے دائرے۔ ہر دائرہ اپنے رنگ کے ساتھ مناسب سی اووور لیپنگ ہی کر ے تو ہی نئے رنگ بنیں گے اور یہ پیٹرن خوبصورت دکھے گا۔ بس یہی وہ وقت ہے جب خود پر توجہ دینا شروع کر دینی چاہیے۔ خود پر توجہ دینے سے میری مراد ہے کہ جس طرح اس عمر میں آپ ظاہری طور پر حسین دکھنا چاہتے ہو، اسی طرح اپنے نفس کی بھی گرومنگ کرتے جاؤ۔ آپ عمر کے اس حصے میں داخل ہونے جا رہے ہو جہاں یہ دوسری شخصیت ہمیشہ آپ پر حاوی ہونے کی کوشش کرے گی۔ اساتذہ، آپ کو، آپ کے کالج یونیفارم سے نہیں، آپ کے فوٹو شوٹس، وی لاگز اور آپ کی دیگر کارکردگیوں سے پہچانتے ہیں۔ یہی دراصل آپ کی اصل شخصیت ہوتی ہے۔ ا سی عمر سے صحیح، غلط، جائیز، ناجائیز کی پہچان کر لینا ضروری ہے۔ یہ زندگی کی a، b، c ہے۔ اس سے اگلے سبق اس کے بعد سمجھ میں آتے ہیں۔

ینگ ہیروز! ہر تعلق میں اپنی حد کو ضرور پہچانیے۔ خواہ وہ صنفِ مخالف کے ساتھ ہو یا یاروں دوستوں کے ساتھ۔ مجھے یہ بات بتانے دیں کہ لڑکیاں ایسے لڑکوں کو بالکل پسند نہیں کرتیں جو ان کے ساتھ عزت سے پیش نہ آئیں۔ اس لئے کبھی یہ نہ سمجھیں کہ جو لڑکی آپ کے کہنے پہ سب کچھ کرنے کو تیار ہے، وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ وہ آپ کی برائیوں سے وقتی سمجھوتا کر رہی ہے اپنے لگاؤ کی خاطر۔ جو کہ دیرپا نہیں ہوتا۔ کبھی اپنا وقار نہ کھوئیں کسی لڑکی کو ویب کیم پہ بے حرمت کر کے۔ دنیا کی کسی بھی عورت کو چھوٹی اور گھٹیا بات کرنے والا مرد کبھی منظور نہیں ہوتا۔ کسی بھی رشتے، کسی بھی تعلق میں۔ آپ کی سوچ، آپ کی پوری شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ چند لمحوں کی لذت کے بدلے، آپ کی اتنی خوبصورت شخصیت صرف ظاہری طور پہ نہیں، نفسیاتی طور پہ بھی ہمیشہ کے لئے مسخ ہو جا تی ہے۔ ذرا سوچئے نا، اس ظالم نے کیا کمایا ذہن میں آنے والے ایک خیال کے بدلے؟ اپنی عزت، حرمت سب گنوا دی۔ ریپ کے کیس میں مظلوم کے بارے میں تو کوئی شرم انگیز خیال ذہن کو چھو کر بھی نہیں گزرتا۔ بار بار عزت تو اس بے شرم کی لٹتی ہے جس نے کو خود کو سب کے سامنے برہنہ کر دیا۔ مجھے دکھ ہوتا ہے ہر ایسے مجرم کے لئے جو کبھی آپ کی طرح اپنی ماں کا پیارا ہوتا ہوگا۔ جانتے ہو، جہاں زینب جیسی پیاری بچی کی موت پہ اس کے ماں باپ اور ساری دنیا آنسو بہاتی ہے، وہاں ایسے بدکار بیٹوں کو ماں خود اپنے ہاتھوں مار ڈالنے سے بھی نہ ایک لمحہ نہ چوکے۔

آپ نے صحیح کہا، کہ شاید آپ لوگوں کواس عمر میں مخاطب کر کہ جتنی باتیں کی جانی چاہیے تھیں وہ ہمارے لکھنے والوں سے ادا نہ ہو سکیں۔ سب، بڑے بڑے مسائل پہ اپنا نکتہ نظر پیش کرتے رہے، اور آنکھوں کے سامنے جوان ہوتے بچوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ اردو زبان میں آپ کی دلچسپی کے ادب کی کمی رہی۔ جب انگریزی کتابوں اور فلموں نے اس کمی کو پورا کیا تو اردو زبان سے دوری کے طعنے ہم نے ہی آپ کو دیے۔ البتہ آپ کے ذوق کی ایک بھی کتاب پیدا نہ کی۔ آپ لوگوں نے ڈیجیٹل گیمز میں اپنے لئے ایک نیا جہان ڈھونڈلیا اور انسٹاگرام جیسی ایپس میں دلچسپی۔

انٹرنیٹ سے ہمیں خوف تو بہت محسوس ہوا مگر اس کے استعمال اور اثرات کو گھٹانے کے لئے اپنی صحبت عطا کی، نہ گفتگو میں نت نئے موضوعات اور زاویوں کو آپ کے سامنے کھل کر بیان کیا۔ موبائل جو تنہائی میں برائی کی ترغیب دینے والا سب سے آسان ذریعہ ہے، وہ بھی آپ کے ہاتھ میں ہم نے ہی تھمایا اور نت نئے پیکجز کی سہولت دے کر آپ کی تنہائیوں کو بھی مزید امتحان میں ڈالا۔ یہ سب ٹھیک مائے بوائیز، مگر مجھے خوشی ہے کہ آپ یہ بھی سمجھتے ہو کہ غلط رستے پہ جانے کی یہ کوئی دلیل نہیں۔

آپ جب آگے بڑھ کر استادوں کی تکریم کرتے ہو خاص طور پر فیمیل ٹیچرز کی تو جانتے ہو کتنی خوشی اور کتنا فخر محسوس ہوتا ہے۔ آپ جب ڈسپلن کے معاملات میں اساتذہ سے بڑھ کر اپنے ادارے کے لئے ذمہ داری دکھانے لگتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ آپ بڑے ہو گئے ہو۔ آپ کے تجربہ کار اساتذہ، آپ سے مدد لینے لگتے ہیں۔ آپ کی راہ چلتے اپنے جونیئرز سے باتیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں مدد، آپ کو کتنا پیارا انسان بنا دیتی ہے۔ آپ کی اپنے تعلیمی ادارے سے محبت ہی کل کو اپنے وطن سے محبت میں ڈھلتی ہے۔ آپ کا اپنی ماں کے لئے احترام یہ بتاتا ہے کہ آپ اپنی ہم عمر لڑکیوں کی بھی حرمت کو محفوظ رکھنے کے قابل ہو۔ بس میرے بچو۔ آپ کو اسی وجیہہ روپ میں ہم دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیشہ۔ ﷲ آپ کو زندگی دے اور آپ کی شان اور آپ کا وقار قائم رکھے۔ آمین
نبراس سہیل

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں