پپو کے لیے مفت


ہماری کلاسیکی شاعری کا محبوب لڑکی نہیں نوخیز لڑکا ہے۔ اگر حافظ ایک ہندی کے گال پر تل کے عوض سمرقند و بخارا بخشنے پر تیار ہیں ( بہہ خال ِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را ) تو میر صاحب نہ صرف عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں بلکہ آہ بھی بھرتے ہیں کہ

یہ دل تبھی سے گوئے ہے میدانِ عشق کا
پھرتا تھا جن دنوں میں تو گیندیں اچھالتا

اور غالب اس مقدمے کو اور اوپر لے جاتے ہیں
سبزہِ خط سے تیرا کاکلِ برہم نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ عفی نہ ہوا

میٹرک میں فارسی، اردو اعلی اور تاریخ کے محترم اساتذہِ گرامی رومی و شمس تبریز، سرمد و ابھے چند، مادھولعل اور حسین، محمود و ایاز کا تذکرہ ادق صوفیانہ اصطلاحات کے وزن تلے دباتے ہوئے ورق پلٹ دیتے تھے۔

ایک دن میں نے فارسی کے استاد میر ضمیر الدین سے علتِ مشائخ کا مطلب پوچھنے کے عوض ڈنڈے بھی کھائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے کہ ایسی الٹی پلٹی باتیں اس عمر میں کہاں سے سیکھتے ہو خبیث؟
پی ٹی ماسٹر صاحب کے بارے میں تو ہر سینیئر جماعت کے طلبا جونیئرز کو سرگوشی میں بتاتے تھے ’پی ٹی سر سے بچ کے رہنا پپو‘۔

اکثر بچوں کو بطور سزا مرغا بنایا جاتا یا پھر ہتھیلیوں پر ڈنڈے مارے جاتے لیکن میھتس کے ماسٹر صاحب اس حرکت کے لیے مشہور تھے کہ بطور سزا صرف گال کھینچتے تھے۔ جو بچہ جتنا خوبرو ہوتا اسے یہ سزا اتنی ہی ملتی۔

سکول کے باہر شوکی پہلوان کا دہی بھلے کا ٹھیلہ کھڑا رہتا۔ ہمیشہ ایک ہی آواز لگاتا ’چوانی دی پلیٹ، چوانی دی پلیٹ تے پپو منڈیاں واسطے مفت۔ ‘

محلے کی مسجد میں ہم بچے بھلے پانچ وقت نہ بھی جائیں مگر جمعہ کی نماز کے لیے ضرور پہنچتے۔ امام صاحب گھوم پھر کے فحاشی و بےحیائی کا سیر حاصل تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں شدید دردناک عذاب کی خبر ضرور پہنچاتے۔ شاید ایک آدھ بار انہوں نے عذابِ لواطت کا تذکرہ بھی کیا مگر 99 فیصد زور عذابِ زناکاری پر ہی رہتا۔

قصبے میں کچھ خوبرو لڑکوں کے بارے میں مسلسل سینہ گزٹ بھی چلتا رہتا کہ فلانا فلانے پہلوان کا ’مشوق‘ ہے اور فلانے ’بچے‘ کے نخرے اور خرچہ فلانا چوہدری اٹھاتا ہے اور فلانے کو کبھی گھور کے مت دیکھنا کیونکہ یہ فلانے کا فلانا ہے۔
مگر رقابت بھی خوب چلتی اور اس کا اظہار دیواروں پر ہوتا۔ جیسے زید، بکر کا ’کانا‘ ہے یا آٹھویں جماعت والا شیخ مراد سعید پہلوان کی ’ملکیت‘ہے۔

کچھ اطلاعات روزنامچے کی شکل میں نوشتۂ دیوار ہو جاتیں جیسے آج کل زید سلمان کا ’جگری یار‘ ہے یا ’ادیب اب غفور کا لونڈا نہیں‘ اور پھر اس پروپیگنڈے سے متاثرہ لڑکے ان نعروں کو مٹاتے پھرتے۔ گویا قصبے کی دیواریں ہمارے زمانے کا ٹوئٹر اور واٹس ایپ تھیں۔

اب تو ایسی کردار کش لونڈیہار وال چاکنگ تو دیکھنے کو نہیں ملتی تاہم زمانہ بدلنے کے باوجود سنیاسیوں اور حکیموں کے ترغیباتی اشتہارات جوں کے توں ہیں۔
جن بنیادی معلومات کو ہم سب اپنے نوخیزوں تک تعمیری و تعلیمی انداز میں پہنچانے سے کتراتے ہیں وہی معلومات غلط سلط انداز میں دیواریں پہنچاتی ہیں۔

جیسے انسان خطا کا پتلا ہے، اب مزید دیر نہ کیجیے اور فوراً حکیم بوٹا سے رجوع کیجیے۔ بچپن کی غلط کاریوں پر شرمندہ ہونے سے کچھ نہ ہوگا، گر ہوگا تو جمشید کے طلسمی کیپسول سے ہوگا۔ مشت زنی نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی جرم ہے، اس سے نجات کے لیے تشریف لائیے دلبر دواخانہ عقب کمالو دی ہٹی۔

مغرب میں کچھ سال رہ کر معلوم ہوا کہ وہاں دو مرد ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے یا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل رہے ہوں تو اکثر راہ گیر معنی خیز دیدے گھماتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو یہ ’پکی یاری‘ کی علامت ہے۔ اگر کسی کے بارے میں پتہ چل بھی جائے کہ وہ وہ نہیں جو نظر آتا ہے بلکہ وہ دراصل وہ ہے تو ہمارے ہاں عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ پھر کیا ہوا، لڑکے بالے ہی تو ہیں۔

چنانچہ ’نہ پوچھو، نہ بتاؤ، دیکھو تو منہ پھیر لو، جان لو تو چھپا لو‘ کی بنیاد پر استوار معاشروں میں یکدم کوئی ایسا واقعہ پھٹ پڑتا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ اب رویے شاید بدل جائیں۔

لیکن رویے بس اتنی دیر کو بدلتے ہیں جتنی دیر یادداشت ساتھ دیتی ہے اور پھر سب کچھ برف کے گالوں کی طرح آپس میں جڑ جاتا ہے۔
فضا میں بس یہی فقرہ باقی رہ جاتا ہے : ’ایہہ تے ہندا رہندا ہے بادشاہو۔ ہور سناؤ پابھی بچے کیسے نیں۔ ‘
11 اگست 2015

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں