سیاست میں شدت پسندی کو لبیک


راستے کھلے مدت ہو گئی۔ میرا وزیر دوست اپنے گھر والوں کو گاؤں لے کر نہیں جا رہا۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے گھر کی خواتین کو سیکیورٹی چیک پوسٹوں سے رک کر قطاروں میں لگ کر گزرنا پڑے۔ فاٹا کی مٹی ایسی ہے کہ خواتین کا احترام اور خیال آٹو پر کیا جاتا ہے۔ شاید یہ دوست یہ نہ چاہتا ہو کہ خواتین اسے چیک پوسٹ پر خوار ہوتا دیکھیں۔

فاٹا کے بے گھر ابھی اپنے گھروں کو نہیں پہنچے تھے۔ آپریشن جاری تھا ایک محسود دوست نے ایک تصویر بھیجی تھی۔ سواریوں والی پک اپ گاڑی پر موٹے مارکر سے لکھ رکھا تھا جوان نے۔ کور تہ شو بیا بہ راکا گو۔ گھر پہنچ جائیں پھر دیکھیں گے۔ یہ دھمکی یہ غصہ بے گھر کرنے والوں کے خلاف تھا۔ اصل میں لوگوں کی کیفیت بتاتی تحریر تھی، لوگ جو اپنے وطن میں بے گھر تھے بے بس تھے۔

عامر رانا نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی بنا رکھا ہے۔ دس سال ہو گئے یہ ہر سال سیکیورٹی رپورٹ جاری کرتے ہیں۔ سائنسی بنیادوں پر تحقیق کرتے ہیں ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔ پیس کے حوالے سے مختلف قسم کی ایکسرسائز میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔ نئے سال کی سیکیورٹی رپورٹ جاری ہوئی ہے۔ شماریات اطمینان بخش ہیں۔ دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے۔

سیکیورٹی رپورٹ جاری کرنےکی تقریب سے جڑی ہوئی ایک تقریب ہمارے تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کے حوالے سے ایک رپورٹ کا اجرا بھی تھا۔ دونوں رپورٹ ایک ہی ادارے نے جاری کی ہیں۔ جہاں دہشت گردی میں کمی آ رہی ہے۔ وہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک صحافی دوست جو خود اپنی جان پر ستم سہہ چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہم انسانی بم تیار کر رہے ہیں۔ یہ بیچارہ اپنی جگہ سچا ہے۔ اگر کسی پر مرتد ہونے کا الزام لگے اس کو صفائی دینی پڑے۔ صفائی ملنے کے بعد بھی پھر جان بچا کر علاقے سے بھاگنا پڑے تو وہ اور کیا کہے گا۔

شدت پسندی پر کام کر کے نام بنانے والے ایک صحافی نے سیکیورٹی رپورٹ پر دلچسپ اعتراض کیے۔ ان کا ایک اعتراض آپ بھی پڑھ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ وارداتوں میں کمی بتائی گئی ہے۔ لیکن جو فلاں دھماکے ہوئے تھے۔ اس میں مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق بھی تو ایک مخصوص فرقے سے تھا۔ ان کو اگر اس لسٹ میں شمار کیا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد واضح طور پر بڑھ جائے گی۔ عامر رانا کو بڑی تفصیل سے بتانا پڑا کہ انہوں نے کیٹیگری کیسے سیٹ کی ہیں۔ کس تنظیم کی کارروائیاں صرف فرقہ وارانہ ہوتی ہیں۔ کون سی تنظیم اس کیٹیگری میں نہیں آتی۔ آخر میں تھک کر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی اصل میں تو یہ سارے مذہبی گروپ ہی فرقہ وارانہ مزاج رکھتے ہیں۔

یہ ایک بدمزہ کرنے والی بحث تو ہے۔ لیکن یہ بھی تو پتہ لگتا ہے کہ کون زیادہ مر رہا ہے۔ کیوں مر رہا ہے کہ سوالات ہمارے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو بھی کیسے متاثر کر رہے ہیں۔

ہماری جامعات کے کچھ بڑے نام بھی وہاں موجود تھے۔ ان سب نے ایک بات ضرور کہی کہ استاد اپنی ہی جامعات میں غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ وہ بھی اپنے طالب علموں کے ہاتھوں۔ ایسے بہت سے ٹاپک بتائے گئے جن پر بات کرتے ہوئے ہمارے استاد خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ اگر ان کی اس وقت ریکارڈنگ کر لی جائے جب وہ اک طرف کے علمی اعتراضات بتا رہے ہوں۔ تو صرف اس منتخب حصے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ان کو سیدھا سیدھا جان کا خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر انسانی حقوق کے اداروں کے مذہب پر اعتراض کو لے لیں۔ اس ٹاپک پر صرف اعتراض بتانے والا ہی اپنی جان پر رسک لے گا۔

افغان امور طالبان شدت پسندی دہشت گردی فاٹا پر کام کرنے والے ایک سینیر دوست بھی تقریب میں موجود تھے۔ انہوں نے تفصیل سے فاٹا کا احوال سنایا۔ اپنے کابل کے دورے کا ذکر کیا۔ افغان طالبان کے بدلتے ہوئے رجحانات سے آگاہ کیا۔ ان سب باتوں کا ہماری سیکیورٹی سے کیا تعلق ہے یہ بھی بتایا۔ فاٹا میں ہونے والے دہشت گردی کے کچھ واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز کے نزدیکی دیہات پر چھاپوں اور اس کے برے اثرات سے آگاہ کیا۔ یہ سب جان کر اپنا دوست یاد آ گیا جو اپنے گھر والوں کو گاؤں نہیں لے کر جاتا۔ یہ صورتحال حقیقت ہے کسی پر الزام نہیں ہے۔ ہم اس میں پھنس چکے ہیں۔ اس سے باہر آتے وقت لگے گا۔

اس سب سے باہر آنے کے لیے ہم نے امیدیں سسٹم سے باندھ رکھی ہیں۔ اب بھی ہماری اکثریت کا خیال ہے کہ ہماری جمہوریت ہماری سیاسی جماعتیں۔ ہمارے لیڈران ہمیں اس سب سے نکال لیں گے۔ ووٹ کے ذریعے تبدیلی بالاخر سب کچھ ٹھیک کر دے گی۔ یہ امیدیں اتنی غلط نہ تھیں۔ پر ہمارے ساتھ بری ہو گئی ہے۔ پتہ ہے کیسے۔

اس طرف دھیان میرے پسندیدہ صحافی نے دلوایا کہ چکوال کے الیکشن پر غور کیا ہے کسی نے۔ لاہور پشاور کے بعد لبیک پارٹی کا امیدوار پھر تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ ایک پارٹی جس کی بنیاد ہی دہشت گردی کا ایک کیس، ایک سزا مس ہینڈل کرنے سے پڑی۔ وہ پارٹی سیاست میں شدت پسندی لے آئی ہے۔ کوئی آگے بڑھ کر اسے روکنے کو تیار نہیں۔ کوئی اپنے ایمان پر شک کے الزامات کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتا جا رہا۔ ہم سمجھ ہی نہیں پائے کہ کس طرح سیاست میں شدت پسندی کی اک نئی لہر کو لبیک کہہ بیٹھے ہیں۔ یہ لہر اٹھ بھی اس مذہبی فکر سے ہے جس کی پاکستان میں اکثریت ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 299 posts and counting.See all posts by wisi