زینب، تمہارے والد نے تمہیں انصاف دلانے کی راہیں بند کر دی ہیں


پیاری زینب،

جس حیوانیت کا شکار تم بنی اور جس بربریت سے تمہارا قتل کیا گیا اس نے پورے ملک کی آنکھیں نم کر دیں ہیں۔ اس ظلم کا شکار ہونے والی تم پہلی بچی نہیں ہو۔ تم سے پہلے بھی بہت سی زینب ایسے ہی اغواء ہوئیں، بہت سی فاطمہ کے ساتھ ایسے ہی زیادتی کی گئی اور بہت سی عائشہ کا گلہ گھونٹ کر بالکل اسی طرح کچرے کے ڈھیر پر پھینکا گیا۔ یہ فہرست یہیں نہیں ختم ہوتی۔ اس میں عاصمہ، شازیہ، ایمان، علی، عمر، عبداللہ، اکبر اوربھی بہت سے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ تمہاری طرح خبروں کا حصہ بنتے ہیں لیکن بیشتر کو میڈیا تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

پیاری زینب، ہم تم سے شرمندہ ہیں۔ ہمیں تمہیں بچانے کی کوششیں بہت پہلے شروع کر دینی چاہئیے تھیں۔ تمہارے پیدا ہونے سےبھی پہلے۔ ہم میں سے کچھ ایسی کوششیں کر بھی رہے تھیں۔ وہ چاہتے تھے کہ جو کتابیں تم سکول میں پڑھتی ہوں ان میں تمہیں تمہارے جسم کے متعلق پڑھایا جائے اور تمہیں اپنے جسم کی حفاظت کے طریقے سکھائیں جائیں۔ وہ لوگ یہ بھی چاہتے تھے کہ جب تم شعور کی عمر کو پہنچو تو تمہارے ماں باپ یا استاد تم سےاس بارے میں کھل کر بات کریں۔

وہ تمہیں بتائیں کہ تمہارا جسم تمہارا اپنا ہے اور تمہاری اجازت کے بغیر کوئی اسے نہیں چھو سکتا۔ وہ تمہیں بتائیں کہ اس دنیا میں کئی ایسے درندہ صفت انسان ہیں جو عام لوگوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں حیوانیت ہوتی ہے جو ہر دم تمہارے جسم کو بھنبھوڑنے کے مواقع تلاشتی رہتی ہے۔ مگر افسوس ہم ہی میں موجود کئی لوگوں نے ان چند لوگوں کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اگر ان چند لوگوں کو نہ روکا جاتا تو شاید تم اور تمہارے جیسے دیگر بہت سے بچے آج ہمارے ساتھ ہوتے۔

پیاری زینب، تم خوش قسمت ہو کہ تمہاری اس دردناک موت نے پورے ملک کو چند روز کے لیے ہی ضرور مگر جگا دیا ہے۔ پچھلے دو روز سے ملک کے مختلف شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں لوگ حکومت سے تمہارے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ ان لوگوں کو شاید تم نہیں جانتیں۔ یہ تمام لوگ میری اور تمہاری طرح انسان ہیں، اسی ملک میں رہتے ہیں، ہمارے جیسا ہی لباس پہنتے ہیں اور ہماری ہی زبان بولتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مجھ سے اور تم سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اس سے تمہیں یا مجھے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئیے۔ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ میرے ہوں، جوزف کے ہوں، پاروتی کے ہوں یا مرزا احمد کے ہوں۔ اس وقت جب تمہیں ہم سے بچھڑے چند دن ہوگئے ہیں یہ تمام لوگ آپسی اختلافات بھلا کر حکومت سے تمہارے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ تمہارے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ان میں سے کسی نے تمہارا یا تمہارے والد کا عقیدہ نہیں پوچھا تھا۔ ان کے لیے تم ایک سات سالہ ننھی بچی ہو بالکل ان کے صحن میں کھیلتی ان کی اپنی بیٹی کی طرح۔

مگر تمہارے والد کو ان لوگوں پر اعتماد نہیں ہے۔ پیاری زینب، حکومت نے تمہیں انصاف دلانے کے لیے ایک جے آئی ٹی کمیٹی بنائی ہے۔ یہ کمیٹی ہر اس بچے کے لیے نہیں بنتی جسے ہمارے اس معاشرے میں موجود درندے اپنی حیوانیت کا شکار بناتے ہیں۔ اگر تمہارے لیے پوری عوام مختلف سطحوں پر احتجاج نہ کرتی تو تمہارے لیے بھی یہ کمیٹی نہ بنتی۔

تمہارے لیے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس کا سربراہ تم سے اور مجھ سے مختلف عقیدہ رکھتا ہے لیکن بیٹی زینب اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں تو صرف اور صرف تمہارے لیے اور تمہارے جیسے دیگر بچوں کے لیے فوری انصاف چاہئیے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس کمیٹی کا سربراہ جو بھی ہو وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے کرے۔

پیاری زینب، افسوس کا مقام یہ ہے کہ پوری قوم کی کوششوں سے تمہارے لیے جو انصاف کی راہیں کھولی جا رہیں تھیں ان راہوں کو تمہارے والد نے اپنے ایک بیان سے بند کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس کمیٹی کا سربراہ احمدی عقیدے سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کمیٹی کا سربراہ کسی ’مسلمان‘ کو بنایا جائے۔ ان کی یہ درخواست منظور بھی کر لی گئی ہے مگر اس سے ان سب لوگوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں جو عقیدے سے بالاتر ہو کر تمہارے لیے انصاف مانگ رہے تھے۔ پیاری بیٹی، وہ لوگ تمہارے والد کے اس بیان سے بہت دکھی ہیں لیکن پھر بھی وہ تمہارے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔

تمہارے والد کے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کمیٹی میں کسی بھی تبدیلی کا مطالبہ کریں لیکن یہ جو اعتراض انہوں نے اٹھایا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ تمہارے والد کو تم سے زیادہ فرقہ واریت عزیز ہے۔ انہیں تم سے زیادہ اپنے وہ پیر عزیز ہیں جو تمہارے ساتھ ہونے والے ظلم کو اپنی دکانداری چمکانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

زینب، ہم تمہارے والد کی تکلیف سمجھتے ہیں۔ اپنی بیٹی کو اس طرح کھونا کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ اس مشکل گھڑی میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے مگر انہوں نے یہ بیان دے کر تمہارے لیے کی جانے والی پوری قوم کی کوششیں مٹی میں ملا دیں ہیں۔ اب تمہارا کیس بھی سیاستدانوں کی سیاست اور مولویوں کی فرقہ واریت کی نظر ہو جائے گا۔ مجھے افسوس ہے کہ زینب اب تمہیں انصاف نہیں مل سکے گا۔ پیاری زینب، ہم سب کو معاف کر دینا گو ہم تمہاری معافی کے قابل نہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں