کیا کھویا کیا پایا


ہم نے ہر سال کی طرح اس سال بھی زندگی کو ذمہ داری سمجھ کے گزار دیا اور ہم وہ لوگ ہیں جو ذمہ داری کبھی پوری طرح نہیں نبھاتے ہم زندگی کو زندگی سمجھ کر نہیں جیتے ہم زندگی کو بوجھ سمجھ کر ڈھوتے رہتے ہیں اور یہی بوجھ ہماری کمر میں خم ڈال دیتا ہے، ہم نے ہر سال کی طرح اس سال بھی آغاز میں ایک دوسرے کو مبارکبادی دی خوشی کا اظہار کیا دیواروں پر جھنڈیاں سجائیں پھولوں کے تحفے بھیجے مٹھائیاں منہ میں ڈالیں کپڑے بدلے کارڈذ بانٹے اور کیلنڈر بدلتے ہوئے سالِ نو کا نعرہ لگایا

ہم نے صرف کیلنڈر بدلا ہم نے دل نہیں بدلے ہمارا دل وہی پچھلے سال اور پچھلے عرصے کی کدورت لیے نفرت کی آگ میں جلتا رہا ہمارے دل میں الفت و محبت نے گھر کبھی کیا نہ کر سکے گی اور ہم صرف ایک دوسرے کے ہاتھوں پہ دل بناتے رہ گئے ہم نے کتنے نئے تعلق تو بنائے کتنے نئے لوگوں سے ہاتھ بھی ملایا کتنی نئی محفلوں میں گئے اور محبت کا پرچار کرنا چاہا لیکن ہم نے اپنے پرانے تعلقات پہ پڑی گرد ہٹانے کا نہ سوچا روٹھے ہوؤں کو منانے کا نہ سوچا پیچھے مڑ کے نہ دیکھا کہ کوئی ہماری مڑتی نظر کا منتظر بھی ہو سکتا ہے ہم صرف اپنے آگے کی طرف بڑھتے رہے

ہم نے فکری معاملات اور بہتر سوچ کا پرچار تو کیا لیکن اپنے سوچنے سمجھنے اور دیکھنے کا انداز نہ بدلا ہم نے پہلے کی طرف اس سال بھی معاملات میں خامیاں نکالیں ہم نے ہر شخص کی ہر کوتاہی کی نشاندھی کی لیکن اس کی کسی خوبی کو نظر انداز کر گئے اور یہ ہماری پرانی روش ہے ہم نے اس سال بھی پچھلے سالوں کی طرح اپنے آپ سے گفتگو نہیں کی ہم نے اس سال بھی اپنے آپ کو درست سمجھا ہم نے اس سال بھی اپنے اندر نہیں جھانکا ہم نے اس سال بھی خود سے کوئی وعدہ نہیں کیا اور ہم نے اس سال کو بھی پچھلے سالوں کی ردی میں ڈال دیا

اور ستم تو یہ ہے کہ ہم اس سال کے اختتام پہ بھی اپنے اس مضمون میں زیادہ زور خامیوں پہ دے رہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نہیں بدلیں گے لیکن ایک امید تو ہے ایک یقین نہ سہی ایک اشارہ تو ہے کہ ہم اس سال میں جن اچھائیوں کو بڑھا سکے شاید وہی اچھائیاں ہمیں آئیندہ کے لیے مزید کچھ کرنے کی ہمت دے دیں ہم نے اس سال صرف کھویا نہیں بہت کچھ پایا ہے اور صرف مالی ذاتی اور معاشی فوائد کے علاوہ ہم ادب کے لوگ تو علامات و نظریات کے بھوکے ہوتے ہیں تو میں صرف وہی بیان کروں گی کہ ہم نے نظریاتی و فکری حوالوں سے کیا پایا اور کیا سیکھا

ہم نے اپنے آپ پہ بھروسہ کرنا سیکھا اس سال ہم نے بہت سے رشتوں اور بہت سے اپنائیت کا دم بھرنے والوں کو آزما کر بھی سیکھا اور اپنے مستقبل کو اپنے سامنے سے دیکھ کر بھی یہ جانا کہ ہمیں صرف اپنے حصے کی سانسیں ملنی ہیں اور ہمیں دوسروں کی توقعات پہ جینے کی بازی نہیں کھیلنی چاہیے ہم نے یہ بھی سیکھا کہ ہمارے دور میں ایک چہرے والے لوگ بھی موجود ہیں جو ایک ہی جیسے رہتے ہیں اور انہیں کسی قسم کا پیار اور خلوص ان کی دلی کدورت سے دور نہیں کر سکتا اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جو ہر حال میں آپ سے منسوب رہتے ہیں آپ خوش تو وہ خوش آپ اداس تو وہ اداس اور ان کے چہرے کا گمان ہزار یقینوں سے بہتر ہوتا ہے اور ایسے لوگ سال میں ایک آدھ بار بھی میسر آ جائیں تو سال ضائع نہیں جاتا

ہم نے اپنی قوم کو دیکھا اپنے ماحول کو دیکھا عالمی معاملات کو دیکھا اور مذہبی لڑائیاں دیکھیں جنگ کے امکان دیکھے اندرونی سازشیں دیکھیں اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سب کے سب خسارے میں شمار ہوں گی؟ وہ سب خسارے دے کر یا نہ دے کر بھی ہمیں آگاہ کر گئیں کہ خسارہ ہوا تو آئندہ اس سے بچ کے رہنا اور اگر بچ گئے تو پھر ایسی نوبت تک حالات نہ آنے دینا اور جب قومیں ایسے حالات سے سیکھ جاتی ہیں اور بروقت فیصلہ کرنے کا حوصلہ سنبھال لیتی ہیں وہ اپنے آپ کو مجبور اور لاچاری کے عالم میں دوسروں کی طرف جھکتے ہوئے نہیں پاتیں اور یہی نظریہ قومیں بناتا ہے

میں نے ہمیشہ سے عورت کے جذبات و احساسات اور ان کی سوچ اور فکری آزادی کی بات صرف محدود انداز میں نہیں کی بلکہ میں نے عورت کو بھی مرد کے برابر کی فکری سطح پر رکھتے ہوئے جانچنے کی کوشش کی اور یہ سوالات صرف معاشرے کے مردوں سے نہیں کہ انہوں نے پورے سال میں کیا کیا بلکہ یہ سوالات سب سے پہلے عورتوں سے ہے کہ انہوں نے کیسی نسل پیدا کی اور اس نسل نے کیا ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر دوسرا سوال ان کی ذات سے ہے کہ انہوں نے انفرادی طور پر کیا کیا اور پھر اس کے بعد معاشرے کے تمام افراد سے ہے کہ ہم سب نے کیا کھویا اور کیا پایا

ہم نے ہمیشہ سے کسی بھی سال کے اختتام پہ کوئی تقریب منعقد نہیں کی لیکن ہمیں اصل میں تقریب سال کے اختتام پہ رکھنی چاہیے تا کہ ہمیں اس میں علم ہو سکے کہ ہم نے اس سال کی کارکردگی کیسے نبھائی اور ہم نے اس سال سے کیا دیکھا اور کیا سیکھا جو پہلے نہیں جانتے تھے اور کیا پایا جو پہلے سے موجود نہ تھا اور کیا کھویا جو ہمارے پاس موجود تھا کیا ہم نے بھروسہ تو نہیں کھو دیا؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر ہمارا سال نہیں پوری زندگی بے اثر گئی، کیا ہم نے اپنا نظریہ اپنی فکر اور انفرادی سوچ تو نہیں کھو دی اور اگر ایسا ہے تو پھر ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ کئی دنیاؤں کا سفر بھی گیا لیکن ہم ایسا کب سوچتے ہیں ہم ایسا کب کر سکتے ہیں ہمیں صرف سانس لینے کی جلدی مار گئی اور ہم اپنے اندر ہی سمٹے ہوئے بہت سے معاملات کو زندگی سمجھ کر جی جاتے ہیں لیکن اصل میں وہ ہماری زندگی نہیں ہوتی اور بعض اوقات ہم کسی اور کے حصے کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں یا پھر کسی کی چھوڑی ہوئی زندگی جی رہے ہوتے ہیں خیر جو بھی جی رہے ہوں وہ بے کار نہیں جانا چاہیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
بشریٰ بختیار خان کی دیگر تحریریں
بشریٰ بختیار خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں