جنسی زیادتی، اسباب محرکات اور سدَباب کے طریقے


وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

زینب جیسے بچوں اور بچیوں کے لیے کلیجہ ہی کیوں نہ آنسو بن کر آنکھوں سے ٹپک جائے تو بھی غم کا بوجھ ہلکا نہیں ہو سکتا۔ ایسے کئی لاکھ بچے اور بچیاں ہر سال مردوزن کے روپ دھارے وحشی درندوں کی جنسی ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مگر ابھی تو زینب ہی ایک استعارہ ہے۔ ان سبھی معصوم پھولوں کا نمائندہ۔ اور ہمارا دکھ ان سب کے لیے یکساں ہے۔ مذمت کرنا، غم منانا، احتجاج کرنا، حوصلہ دینا۔ یہ سب کیوں ہے؟ کیا جنسی عمل میں ہی کوئی برائی ہے یا اس کے طور طریقوں کا لحاظ نہ رکھنے میں؟ شاید، بلکہ یقناً آپ بھی آخر الذکر پر اتفاق کریں گے۔ تو پھر سوال یہ ہیں کہ یہ طور طریقے ہیں کیا؟ ان کی بنیاد کیا ہے؟ ان کا لحاظ رکھنا کیوں ضروری ہے؟ اور اگر ضروری ہے تو کیا اقدامات کیے جائیں؟

جنسی عمل عین فطری ہے۔ اور اس کی خواہش کے ہونےکا انکار کرنا ممکن نہیں۔ حالیہ سالوں میں ہم جنس پرستوں کی تحاریک نے بھرپور مخالفت اور تنقید کے باوجود بہت سے ممالک میں اپنے مطالبات منوائے ہیں اور اسے ”فطری“ ہونے کی وجہ سے قانوناً قبول کیا گیا ۔ شاید اس سے پہلے اس کے فطری ہونے کے ثبوت نہیں تھے۔ مگر میڈیکل میں ترقی ہونے کے باعث ”جنسی عمل ” کی ایک بنیاد جو قابل قبول نہ تھی، اب اس کو قبول کرنا پڑا۔ جنسی عمل میں طبی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس طرح جنسی عمل کے فطری یا غیر فطری ہونے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ البتہ فقط فطری ہونا بھی کافی نہیں۔ کیونکہ فطرت کی ہوبہو اور جابجا پیروی نہیں کی جا سکتی۔

جیسے جیسے انسان سماج کی تشکیل کرتا چلا گیا، فطری اصولوں کے ساتھ ساتھ کچھ اقدار بھی فروغ پاتی گئیں۔ اگر تاریخی شواہد کی بات کی جائے تو جنسی عمل میں کافی بے تکلفی کے واقعات ملتے ہیں۔ جیسے کہ بہن بھائیوں اور والدین سے جنسی تعلقات! ایسے واقعات مذہبی کتب اور ادب کے کچھ شاہ پاروں میں لکھے گئے ہیں۔ ان کی حقیقت کا اندازہ کرنا مشکل ہے مگر عام طور پر کسی بھی زمانے کی تہذیب کی عادات و اطوار کا اندازہ اس کی باقیات سے ہی لگایا جا سکتا ہے لہٰذا اتنا کہا جا سکتا ہے کہ قدیم زمانوں میں ایسی اقدار تھیں جسے آج کا انسان معیوب سمجھتا ہے اور کراہت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

جنسی عمل میں ”تکلفانہ“ روایات کی خطرناک بنیادیں شاید مرد و زن میں تفریق کے ساتھ ساتھ بننا شروع ہوئیں۔ یعنی جب عورت کی ذاتی ملکیت کا تصور پروان چڑھا، شرمگاہ، شرم و حیا اور پھر بکارت کا ”خون بہا“ یعنی مہر وغیرہ جیسی چیزیں آہستہ آہستہ تشکیل پاتی گئیں۔ فطری بنیادوں کی بدلتی سماجی اقداروں سے مطابقت کے نہ ہونے سے کچھ بگاڑ تو پیدا ہونے ہی تھے، اور ان میں ایک بنیادی بگاڑ ”جنسی ہوس پرستی“ کا بھی ہوا۔ مگر فطری بنیادوں کی سماجی اقدار سے مطابقت کس طرح ہو رہی تھی یا ہو سکتی تھی؟ تو شاید اس مطابقت کو ہی ”شعور“ یا آگہی کہا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک انسان نے فطری بنیادوں پر اقدار کو جب بھی تشکیل کیا ہوگا تو ان کہ لیے بنیادی اصو ل یہی ہوا ہو گا کہ ہر وہ فعل اچھا سمجھا جائے جس سے انسان کو تسکین ملے بشرطیکہ اس سے کسی دوسرے انسان کی تسکین متاثر نہ ہو۔ چاہے یہ تسکین بدنی ہو، مالی یا نفسیاتی! سماج کو یہ اصول ساتھ ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا۔ اپنے ہر فرد کو اس کا عادی بنانا سماج کی ذمہ داری تھی کہ وہ کوئی بھی تسکین حاصل کرنے سے پہلے اس بات کا یقین کر لیتا کہ اس سے کسی دوسرے کی تسکین متاثر تو نہیں ہو رہی۔ اور اس بات کا یقین صرف اور صرف پختہ رائے رکھنے والے اپنی آزاد رائے سے ہی دے پاتے۔

بہرحال جنسی زیادتی بھی ایک آدھ صدی میں تو پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی بھی بنیادیں ہیں۔ اور ہماری ہی نسلیں اس کی پرورش کرتی آئی ہیں۔ جنسی زیادتی کو فقط شرمگاہوں تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جس میں عموماً ایک فرد اپنی عمر سے چھوٹے فرد (کو مرضی کے بغیر) یا بچے کو عملاً یا اشارتاً جنسی لذت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کی تفصیل آگے بیان کرتا ہوں۔ یہاں پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں پر ”مرضی“ والی شرط لاگو نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کی رائے ناپختہ ہی ہوتی ہے جو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دیکربآسانی بدلی جا سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنسی عمل میں فطری، طبی اور سماجی پہلوؤں کو ایک طرف رکھ کر، ہر فرد کو فقط ”آزادانہ مرضی“ کا اصو ل سکھا دیا گیا ہوتا تو ایسے سانحے دیکھنے کو کم ہی ملتے۔

جنسی زیادتی کا میسر ریکارڈ اگرچہ بہت کم ہے۔ کیونکہ اس طرح کے کیسسز زیادہ تر رپورٹ نہیں ہوتے۔ پھر بھی ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق بچیوں میں ہر 3 میں سے ایک اور بچوں میں ہر 7 میں سے ایک کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کم از کم ایک بار جنسی زیادتی کا شکار بننا پڑتا ہے۔ اور ہم میں سے تقریباً ہر انسان کسی ایک ایسے شخص کوضرور جانتا ہے جس نے یہ گھناونا جرم کیا ہو!

اور اس سے بھی حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ 90٪ بچے ایسے لوگوں سے زیادتی کا نشانہ بنے جن کو وہ پہلے سے جانتے تھے اور جن پر ان کو اور ان کے والدین کو بھروسا تھا۔ اور بعض اوقات والدین خود بھی اسیے واقعات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ پائے جاتے ہیں۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ جنسی لذت ہی اصل مقصد ہو، بلکہ جنسی زیادتی کے واقعات پیسہ کمانے، بلیک میل کرنے، دشمنی کا بدلہ چکانے یا دیگر مقاصد کے لیے بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ بہرحال جنسی زیادتی کے ایک عادی مجرم میں عموماً مندرجہ زیل خصوصیات پائی جا سکتی ہیں۔

1۔ بچوں سے غیر ضروری یا بغیر کسی خاص وجہ کے حد سے زیادہ محبت اور شفقت دکھانا، بالخصوص بوس و کنار اور بدن کے حصوں کو چھونا
2۔ بچوں کے ساتھ کھیلنا مگر ان کو محدود کر کہ رکھنا جب کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہوں
3۔ بچوں کو زبردستی سینے سے لگانا جب کہ وہ اس سے تنگ ہو رہے ہوں
4۔ بچوں کو تنہائی میں لے جانا
5۔ بچوں کو اپنے بارے میں زیادہ بولنے نہ دینا
6۔ بچوں کے سامنے ایسے لطیفے یا کہانیاں بیان کرنا جن میں جنسی تسکین کے معاملات کا ذکر ہو
7۔ بچوں کی شرمگاہوں پر ہاتھ لگانا
8۔ اکثر ایسی کہانیاں پڑھنا یا ویڈیوز دیکھنا جن میں بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوں
9۔ ایسے افراد جو خود بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ہوں اور ان کو نفسیاتی مدد فراہم نہ کی گئی ہو

جنسی زیادتی کا مرتکب یا تو عملاً یہ جرم کرتا ہے، یعنی بچوں کی شرمگاہوں اور بدن کو استعمال کر کے (کسی بھی طریقے سے) یا پھر اشارتاً جیسے کہ بچوں کو پورن ویڈیو دکھا کر۔ اپنی شرمگاہ دکھا کر۔ بچوں کی نامناسب پوزمیں ویڈیو یا فوٹو بنا کر یا پھر اس جیسے دیگر طریقوں سے جس میں بچوں کے بدن کو جنسی تسکین کے طور پر بالواسطہ طور پر استعمال کیا جا سکے۔ زیادہ تر کیسسز میں بچوں کو ڈرا دھمکا کر چپ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایسے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں غیر معمولی حرکات کا نشاندہی ضرور کریں۔ جیساکہ، نیند میں ڈرنا، بڑبڑا کر جاگ جانا، نہانے دھونے یا کپڑے بدلنے میں حیلہ بازی کرنا، جسمانی طور پر کسی علامت کا سامنے آجانا (جیسے خون، چوٹ، درد یا کم سن بچیوں میں حمل) بدن کے ایسے حصوں کے ایسے نام لینا جو غیر معروف ہوں، انگوٹھا چوسنا، بڑوں جیسی حرکات کرنا، خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا، یا پانی تحاریر یا پینٹنگ وغیرہ میں خوف اور غم و غصہ کا اظہار کرنا وغیرہ

اگر کسی بچے کے ساتھ یہ حاثہ پیش آ جائے تو فوراً تین طرح کے اقدامات کرنے بہت ضروری ہیں۔ پولیس رپورٹ درج کروانا۔ بچے کا طبی معائنہ اور بچے کو نفسیاتی مدد فراہم کرنا۔ یہ بہت اہم ہے۔ اور اس کےلیے کسی ماہر نفسیات کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ تاکہ بچے کا اعتماد بحال ہو اور وہ معمول کے مطابق زندگی گزارے۔

آخری مگر سب سے اہم بات جو معاشرے کے ہر فرد کی بالعموم اور والدین کی بالخصوص ذمہ داری ہے وہ بچوں کی حفاظت ہے۔ اور اس کے لیے کم ازکم مندرجہ زیل اقدامات کو یقنی بنایا جائے۔

1۔ بچوں کو بدن کے ایسے اعضا کا بتائیں جن کو عام طور پر چھوا نہیں جا سکتا۔
2۔ بچوں کو ”نا“ کہنا سکھائیں کہ کس طرح کی صورتحال میں کیسے ”نا“ کہا جائے اور کیا کِیا جائے
3۔ بچوں کی نگرانی کریں اور ان میں غیر معمولی حرکات کو نوٹ کریں
4۔ بچوں کو“حد“ سکھائیں، کون کتنا قریب آسکتا ہے اور کوں نہیں۔
5۔ بچوں سے مختلف موضوعات پر بات کریں اور ان کے رویے کو نوٹ کرتے رہیں
6۔ بچوں کو راز اگلنے کی مشق کروائیں
7۔ بچوں کے لیے چند ہی لوگوں کو بھروسے مند نہ رہنے دیں۔ بلکہ ان کا اعتماد حاصل کرتے رہیں۔ تا اہم ان کو اپنے راز کسی سے بھی شئیر کرنے کی آزادی دیں۔
8۔ بچوں کو غیر معمولی حالات سے نمٹنا سکھائیں
9۔ بچوں کے دوستوں سے بھی باخبر رہیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
قیصر عباس فاطمی کی دیگر تحریریں
قیصر عباس فاطمی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں