بلوچستان پولیس کی قربانیاں


بلوچستان کی تاریخ پولیس کے قربانیوں سے بھری پڑی ہے بلوچستان پولیس نے ہمیشہ عوام کے جان ومال کے تحفظ اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان پولیس جس کٹھن حالت میں عوام کی خدمت کر رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بلوچستان پولیس ہمیشہ اپنے شب و روز اپنے پیاروں کو چھوڑ کر عوام کی خدمت میں لگی رہتی ہے بہت سے لوگ پولیس کو منفی سوچ میں دیکھتے ہیں۔ کبھی ہم ان کے مثبت سوچ پہ بھی سوچیں کبھی تعصب کی عینک اتار کر بھی دیکھئے یہ لوگ بھی وطن پہ قربان ہوتے ہیں یہ بھی کسی کے پیارے ہوتے ہیں ہمیں ان کو عزت کی نگاہ سے بھی دیکھنا چاہیے۔ حتاکہ 2017 بلوچستان پولیس پہ بہت بھاری گزرا ہے اس سال کوئٹہ میں چمن ہاؤسنگ اسکیم میں ڈی آئی جی حامد شکیل، سریاب میں ایف سی کمانڈنٹ کرنل اشتیاق، پشین اسٹاپ پر پاک فوج کے ٹرک، گلستان روڈ پر آئی جی آفس اور سبی روڈ پر بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک پر اور زرغون روڈ پر میتھوڈیسٹ چرچ، ایس ایس پی قلعہ عبداللہ ساجد خان مہمند، ایس پی قائد آباد کوئٹہ مبارک شاہ، ایس پی انویسٹی گیشن سٹی کوئٹہ محمد الیاس، ڈی ایس پی عمر الرحمان، سی ٹی ڈی انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی سمیت اعلیٰ پولیس آفیسران بھی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں۔

جبکہ بلوچستان پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں نو خودکش حملوں سمیت 37 بم دھماکے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 54 افراد جاں بحق اور 164 زخمی ہوئے۔ اس طرح دیسی ساختہ بم دھماکوں میں 2015ء کی نسبت 37 فیصد تک کمی آئی ہے۔ 2015ء میں 162 بم دھماکے ہوئے تھے۔ 2013ء میں یہ تعداد 435 اور 2009ء میں تو 582 تھی۔ 2017ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سب سے زیادہ 63 حملے ایف سی پر ہوئے جن میں 27ایف سی اہلکار جاں بحق اور 83زخمی ہوئے۔ ایف سی پنجگور رائفلز کے لیفٹیننٹ کرنل بھی فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہوئے۔ جبکہ پولیس پر 18 حملے ہوئے جن میں 52 پولیس اہلکار جان سے گئے۔ 83 اہلکار زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ 21 اہلکاروں کی موت جون میں دو دہشتگرد حملوں میں ہوئی تھی۔

پلوچستان پولیس اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں مجھے اس کا مکمل ادراک ہے اس لئے مجھے ہمیشہ پولیس سے ہمدردی رہی ہے اور میں بھر پور انداز میں بلوچستان پولیس کا دفاع بھی کرتا ہوں اس وقت بلوچستان پولیس حالت جنگ میں ہیں اور جوانوں کے حوصلے بلند ہیں انہیں اپنی فرائض کی انجام دی سے کوئی دہشت گردی روک نہیں سکتی ہے۔ عوام کے تحفظ اور امن وامان کی بہتری کے لئے بلوچستان پولیس نے بہت سی قربانیاں دیں ہیں اور آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف صف اول میں رہیں گے۔ مگر آج بھی برطانوی دور کے پولیس قوانین موجود ہے ہم 21 صدی میں رہتے ہیں برطانوی قانون 1843ء کے بنے ہوئے ہیں۔ اب دنیا میں حالات اور مجرمانہ طور طریقے تبدیل ہو چکے ہیں اسی لیے نئے قوانین بننے چاہیئں حالیہ چند سالوں میں جو جوان بلوچستان پولیس میں بھرتیاں NTS ٹیسٹ کے ذریعے ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے نوجوان پڑھے لکھے بلوچستان پولیس میں آ گئے ہے جس سے پولیس فورس مزید بہت مضبوط ہو گیا ہے ویسے بھی پولیس کا نظام اس کی وردی کا رنگ بدلنے سے نہیں بلکہ نئے قوانین بنانے سے تبدیل ہوتے ہیں بلوچبلوچستان پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرکے دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ باہمی تعاون سے جرائم کی شرح کم سے کم ہو سکیں۔

بلوچستان پولیس کے کے ریکارڈ کے مطابق 1979ء اب تک بلوچستان پولیس کے868 اہلکاروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں ان میں تین ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی، دو ایس پی، اٹھارہ ڈی ایس پی اور 24 انسپکٹر شامل ہے جبکہ گزشتہ پانچ سال بلوچستان پولیس کے جوانوں پہ بہت بھاری گزرے ہیں جن میں 564 اہلکاروں نے شہادت پائی ہے۔ لیکن پھر بھی بلوچستان پولیس پہ انگلیاں چند لوگوں کی وجہ سے ضرور اٹھتی ہے۔ بلوچستان پولیس والے بھی انسان ہوتے ہیں پر بلوچستان پولیس میں موجود چند اہلکار برے ہونے کی وجہ سے پوری پولیس فورس کو بد نام کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ بلوچستان پولیس کے تمام درپیش مسائل کو حل کرنے کے فوری اقدامات کرتے ہوئے سب سے پہلے انہیں دیگر صوبوں کے برابر مراعات دے اور ساتھ میں پولیس افسران و اہلکاروں کو جدید ساز و سامان اور رویوں کی اچھی ٹریننگ دیں تاکہ بلوچستان پولیس مضبوط سے مضبوط تر ہو سکیں اور پوری دنیا میں اپنا روشن کرسکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔