اس ہفتے کی کتاب (ortadirek)


کون پابندِ جنوں فصل بہاراں میں نہ تھا۔ طالب علی کا یہ مصرعہ یشار کمال پر کیا صادق آتا ہے۔ معروف ترک ناول نگار، یشار کمال نے 1923 میں جنوبی ترکی ایک گاؤں میں آنکھ کھولی۔ یشار کے بچپن میں بس دو ہی یادیں اہم تھیں۔ عید کے موقع پر جب والد بکرا ذبح کر رہے تھے تو داہنی آنکھ کو چاقو لگا اور آنکھ ضائع ہو گئی۔ چھ سال کی عمر میں والد کو اپنی آنکھوں کے سامنے مسجد میں قتل ہوتے دیکھا۔ اظہر نے کہا تھا، ۔ ’اس حادثے کو دیکھ کر آنکھوں میں درد ہے‘۔ والد کے درد نے مگریشار کی قوت گویائی سالوں تک سلب کیے رکھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد یشار کو کھیتوں میں مزدوری کرنا میسر آیا۔ وقت نے کروٹ لی تو ایک متبادل استاد کے طور پر بھرتی ہو گئے۔ وقت کروٹیں بدلتارہایشار کی زندگی ساتھ کروٹ لیتی رہی۔ لائبریری آفیسر، ٹرک درائیور، فیکٹری مزدور اور جانے کیا کیا۔ وقت میں یہی تو اچھائی ہے کہ گزرتا چلا جاتا ہے۔

1940 کا عشرہ آیا تو بائیں بازو کے لکھنے والوں سے شغف پیدا ہوا۔ کچھ سیاست اور صحافت اور میں دلچسپی بڑھی۔ پیدائش کا جبر مگر چیز دیگر است! چونکہ نسلاً کرد تھے تو سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر سترہ سال کی عمر میں ہی جیل کی سلاخوں سے شناسائی ہوئی۔ جیل سے رہائی کے بعد یشار نے ایک ٹائپ رائٹر خریدا اور پبلک لیٹر رائٹر بن گئے۔ مزاج ایسا پایا تھا کہ سماج کے استحصال سے بھڑتے تھے۔ 1950 میں کمیونزم کے پروپیگنڈے کے جرم میں پھر گرفتار ہوئے۔ ایک اور رہائی کے بعد استنبول گئے اور ایک اخبار سے منسلک ہو گئے۔ اس بیچ ان کی پہلی کتاب جو مختصر کہانیوں پر مشتمل تھی ’’ Sari Sicak‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ 1955 میں پہلا ناول ’’ Memed، My Hawk‘‘ شائع ہوا جس نے ان کو ایک باقاعدہ ناول نگار کی شناخت دی۔ اسے سال کا بہترین ناول قرار دیا گیا اور دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ 1960 میں ان کا ناول ’’ ortadirek‘‘ شائع ہوا جو آج کا موضوع سخن ہے۔ ortadirek کا پہلا انگریزی ترجمہ یشار کی شریک حیات تھلڈا کمال (Thilda Kemal) نے کیا تھا اور 1963 میں ’’William Collin Sons‘‘ نے اسے ’’ The wind from the plain‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد دنیا کی تقریباً چالیس زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ فرخ سہیل گوئندی نے تنویر اقبال کا اردو ترجمہ ’’ بوئے گل‘‘ کے نام سے 2012 میں شائع کیا تھا۔

یوں تو ناول کا پلاٹ بہت سادہ ہے مگر اس میں پوری زندگی کی مہانتا موجود ہے۔ جنوبی ترکی کے ایک گاؤں کے لوگ ہرسال کپاس کی چنائی کرنے پہاڑوں کے پار چکروا کا دشوار گزارسفر کرتے ہیں تاکہ آنے والے سال کے لئے ضروریات زندگی کا بندوبست کر سکیں۔ ہواؤں سے موسموں کا تعین کرنے والا بوڑھا خلیل اس برس سفر کے قابل نہیں ہے۔ گاؤں میں صرف بوڑھا خلیل ہی ہے جسے ہواؤں سے علم ہوتا ہے کہ چنائی کا وقت کب شروع ہو گا۔ لمبو علی، گاؤں کا ایک نوجوان، چاہتا ہے کہ بوڑھا خلیل گاؤں میں اکیلا نہ رہ جائے۔ وہ اسے اس سفر میں ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ علی کی ماں مریم جی علی مگر خلیل کو پسند نہیں کرتی۔ بالآخر علی اپنی ماں کو خلیل کو ساتھ لے جانے پر راضی کر لیتا ہے۔ بوڑھے خلیل کو مریم جی علی کے ساتھ اسی کے گھوڑے پر سفر کرنا پڑتا ہے جو اب زندگی کے مشکل راستوں پر سفر کرتے کرتے تھک چکا ہے۔ سفر کی دشواریوں اور مریم جی علی کے گھوڑے کا بڑھاپا اس قابل نہیں ہے کہ وہ خلیل اور مریم جی علی دونوں کا بوجھ برداشت کر سکے۔

گھوڑا بیچ راستے مر جاتا ہے۔ لمبو علی، مریم جی علی اور بوڑھا خلیل گاؤں والوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ علی اپنی ماں کو اپنی کمر پر لاد کر چلتا ہے۔ خلیل خود کمزور ہے۔ ان کا اور گاؤں والوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ فاصلے بڑھتے ہیں تو زندگی کا سفر کٹھن ہوتا جاتا ہے۔ چکروا پہنچ کر انہیں علم ہوتا ہے کہ گاؤں کے مختار نے رشوت لے کر گاؤں والوں کو کم پیداوار والے کھیتوں میں چنائی پر مجبور کیا تھا۔ صرف یہ لوگ ہی محروم نہیں رہے، گاؤں کے دیگر افراد بھی نہ قرضے چکانے کے قابل رہیں گے اور نہ آنے والی بہارکے لئے ضروریات زندگی کا بندوبست کر سکیں گے۔ پیدائش کا جبر، سماج کا استحصال، انسان کی مجبوریاں۔ ایک کہانی میں کئی کہانیاں موجود ہیں۔

اس سادہ پلاٹ کو یشار نے مگر کمال سے برتا ہے۔ بنیادی موضوع تو استحصالی سماج اور اس میں مزاحمت کرنے کی ترغیب کی کہانی ہے۔ تاہم انسانی احساس کو اندر تک کیسے سمجھنا ہے اور اس کو کس کمال سے بیان کرنا ہے، امید یں کیسے ٹوٹتی ہیں، ٹوٹی امیدیں کیسے دوبارہ باندھی جاتی ہیں، زندگی کا سامنا کیونکر کیا جا سکتا ہے، یہ یشار کو پڑھ کر ہی سمجھ آتا ہے۔ یشار کا تخیل لاجواب ہے۔ تحریر سحر طاری کر دینے والی ہے۔ تحریر میں دریا کی سی روانی ہے۔ سچ پوچھیں تو داستان گو اصل خطاب کے لائق بورخیس کے یشار ہی ہیں۔ بورخیس نے ایک paradoxical سوال پوچھا تھا کہ ’ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کہانی کو لکھنے والا لکھتا ہے یا کہانی لکھنے والے سے خود کو لکھواتی ہے‘۔ یشار مگر کہانی لکھتاکم ہے اور کہانی برتتا زیادہ ہے۔ وہ کردار جیتا ہے۔ یشار کمال کے والدین کا تعلق وان سے تھا۔ وہ پہلی جنگ عظیم کے دوران وان سے چکروا منتقل ہو گئے تھے۔ چکروا ہی اس ناول میں کپاس کے کاشت کا علاقہ ہے۔ چکروا میں یشار نے پہلے کہانی پہلے جی ہے اور پھر لکھی ہے۔

یشار کمال کا انتقال 28 فروری 2015 کو ہوا۔ یشار نے بے شمار خوبصورت ناول لکھے ہیں۔ قسمت کی یاوری دیکھیے کہ یشار کمال اپنے وطن ترکی میں ممنوع تھا۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کہتے ہیں کہ میرا بیٹا سلجوق ترکی جا رہا تھا تو میں نے اپنی کتاب ’’خانہ بدوش‘‘ اسے دی، اور کہا کہ جب استبول پہنچو تو اسے یشار کمال کے چرنوں میں رکھ دینا، اسے کہنا یہ کتاب اگر آپ کے کتب خانے کے کسی شیلف میں جگہ پا لے تو میں اپنے آپ کو ایک خوش بخت انسان تصور کروں گا۔ سلجوق ترکی سے واپس آیا توکہنے لگا، استنبول پہنچ کر یشار کی کھوج کی خاطر میں وہاں پریس کلب میں گیا اور وہاں بیٹھے صحافی حضرات سے یشار کمال سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہر سو سناٹا چھا گیا۔ تمام آنکھیں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔ تب ایک نوجوان صحافی نے مجھے بازو سے پکڑا اور باہر آ کر کہنے لگا، ’’ لڑکے کیا تم نہیں جانتے کہ ترکی میں یشار کمال ایک ممنوعہ نام ہے، وہ ایک taboo ہے۔ وہ بے شک ترکی کا بہت بڑا ناول نگارہے اور اس کے ناول کسی بھی ترک وزیراعظم کے سرہانے پائے جا سکتے ہیں مگر وہ ایک کرد ہے۔ ہم ترک یونانیوں سے تو ہاتھ ملا سکتے ہیں لیکن کرد!‘‘۔ طالب علی کا ہی دوسرا مصرعہ ہے، ’اس رسائی پہ نارسا ہیں ہم‘۔ یشار کمال کو پڑھ لیجیے، مختصر زندگی کی مہانتا بانہیں پھیلائے نظر آئے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 163 posts and counting.See all posts by zafarullah