گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش دھماکہ


adnan-khan-kakar-mukalima-3

گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش دھماکہ۔ 60 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ مرد عورتیں اور بچے زخمی۔ بظاہر مسیحی پاکستانیوں کو چن کر نشانہ بنایا گیا ہے۔

علامہ اقبال ٹاؤن کے اس علاقے میں اس عاجز کی چوتھائی صدی کے قریب زندگی گزری ہے اور اس کے مزاج سے واقفیت ہے۔ گلشن اقبال کے آس پاس مسیحی آبادیاں ہیں اور خاص طور پر کرسمس اور ایسٹر کے دنوں میں یہ مسیحی افراد اتنی زیادہ تعداد میں گلشن اقبال کا رخ کرتے ہیں ارد گرد کی سڑکیں جام ہو جاتی ہیں، اور خاص طور پر گلشن اقبال سے ملحقہ سڑکوں پر تو پیدل چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان دو شاموں میں ایسٹر اور کرسمس کی وجہ سے گلشن اقبال پارک غیر علانیہ طور پر صرف مسیحی افراد کے لیے ہی مختص ہو جاتا ہے۔ اس علاقے کے رہائشی کرسمس اور ایسٹر کے دنوں میں شدید رش اور ٹریفک جام کی وجہ سے ادھر سے گزرنے تک سے احتراز کرتے ہیں اور متبادل راستے اختیار کرتے ہیں۔

ایسے میں جب شام کو پہلے پہل خبر آئی کہ گلشن اقبال کی پارکنگ میں دھماکہ ہوا ہے اور تیس افراد زخمی ہوئے ہیں، تو یہی گمان تھا کہ پارکنگ میں کسی گاڑی کا سیلنڈر پھٹ گیا ہے جس سے تباہی پھیلی ہے۔ لیکن پانچ منٹ کے اندر اندر جب میڈیا ابھی یہی خبر ہی چلا رہا تھا کہ پارکنگ میں دھماکہ ہوا ہے، تو پچاس زخمی افراد کا نمبر دیکھتے ہی خیال آیا کہ یہ لازمی تخریب کاری کی کارروائی ہے اور خاص طور پر مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ آج ایسٹر کا دن ہے، اور دوسری طرف gulshaniqbalممتاز قادری کا چہلم ہے۔

کچھ دیر میں پارک کے اندر خودکش دھماکے کی اطلاعات سامنے آ گئیں اور تباہی اندازے سے کہیں زیادہ ثابت ہو رہی ہے۔ تیس افراد زخمی ہونے کی خبر سے شروع ہونے والی خبر اب ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی پچاس افراد کے ہلاک ہونے اور دو سو کے زخمی ہونے کی اطلاع حکومتی مشیر خواجہ سلمان رفیق کے ذریعے دے رہی ہے۔ روایت یہی ہے کہ حکومت ایسے اعداد و شمار کو گھٹا کر بیان کرتی ہے۔

دوسری طرف آج ممتاز قادری کا چہلم بھی تھا۔ ممتاز قادری کی پھانسی، حکومت کے لبرل ہونے کے عزائم، اقلیتی تہواروں پر چھٹی دینے جیسے اقدامات وغیرہ کے تناظر میں آج کا دن خاص طور پر خطرے کی سرخ بتیاں جلا رہا تھا۔ اور بدترین خدشات درست ثابت ہوئے۔

ادھر اسلام آباد میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کے گرد و نواح تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور لگ یہی رہا ہے کہ وہاں سے بھی بری خبریں موصول ہوں گی۔ لیڈروں کو چند لاشیں مل جائیں گی اور کارکنوں کے گھر ماتم برپا ہو گا۔ اسلام آباد میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔

تیسری خبر کل شام جنید جمشید پر حملے کی موصول ہوئی تھی۔

ان تینوں خبروں سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اب حکومت بھی ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے پر مائل ہو گی۔ مذہبی طبقات پر سخت وقت آ رہا ہے جس سے وطن عزیز کے حالات مزید بگڑتے نظر آ رہے ہیں۔

خدا سے خیر کی دعا ہی مانگی جا سکتی ہے۔ کاش خدا ہمارے حکومتی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو یہ احساس دلائے ملک میں امن و امان کا قیام پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک وقتی فائدے کے لیے ملک کو ایک بڑا نقصان مت پہنچائیں۔

جنید جمشید پر حملے کے بعد کیا اب بھی کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ لیکن نہ تو حکومت قانون پر چلتی نظر آتی ہے اور نہ احتجاجی طبقات۔

قانون کی یہی حکمرانی، دہشت گردی کو بھی ختم کرے گی اور انتہاپسندی کو بھی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar