1965ء کی جنگ، ریڈیو پاکستان اور شکیل احمد کی خبریں


1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے جب بھی مورخ تاریخ لکھے گا تو ریڈیو پاکستان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ خصوصاَ ریڈیو پاکستان کا شعبہ خبر جس سے منسلک معروف نیوز ریڈر شکیل احمد نے زمانہ جنگ کے دوران جس انداز میں خبریں پڑھیں وہ آج بھی نو آموز براڈ کاسٹرز اور نیوز ریڈرز کے لیئے مشعل راہ ہیں۔ شکیل احمد کا اصل نام وکیل احمد تھا ۔ 1908ء میں بھارت کے شہر ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ اور ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد محکمہ ریلوے میں ملاز م ہو گئے ریلوے میں تین سال ملازمت کرنے کے بعد کلکتہ میں ان کی ملاقات تھیٹر کے بادشاہ آغا حشر کاشمیری سے ہوئی۔ آغا صاحب کی باغ و بہار اور علم و ادب سے مرصع شخصیت نے ان کی زندگی پر گہر ااثر ڈالا۔ یہ آغا حشر ہی تھے جنہوں نے نوجوان وکیل احمد کا نام بدل کر شکیل احمد رکھا۔ اور اپنے زیر ہدایت کئی سٹیج ڈراموں، جن میں طرابلس کا چاند، یہودی کی بیٹی، اور سیتا بن باس قابل زکر ہیں، میں اداکاری کے جوہر دکھانے کا موقع دیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں ریڈیو کا آغاز ہو رہا تھا اور بابائے نشریات زیڈ اے بخاری نے شکیل احمد کو نشریاتی دنیا کے لیے دریافت کیا۔ شکیل احمد 1937ء میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ اسی دوران دوسری عالمی جنگ کے عروج کے زمانے میں شکیل احمد نے دہلی ریڈیو اسٹیشن سے خبریں پڑھنا شروع کیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب شکیل احمد کی آواز برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچ گئی۔

قیام پاکستان کے بعد شکیل احمد بھی پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان کے مرکزی شعبہ خبر سے منسلک ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا، قافلہ بڑھتا گیا، ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر میں نئی آوازیں شامل ہوتی گئیں۔ لیکن شکیل احمد جن کو دادا شکیل احمد بھی کہتے تھے کا انداز سب سے منفرد اور جدا ہی رہا۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا جس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شکیل احمد کی آواز کو امر کر دیا۔ ہماری مراد 1965ءجنگ ستمبر کے زمانے سے ہے۔

رفیع الزماں زبیری 1965ء میں ریڈیو پاکستان کراچی میں نیوز ایڈیٹر تھے۔ شکیل احمد کے فن کے حوالے سے ریڈیو پاکستان بہاولپور کے نمائندے سجاد پرویز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر سے معروف نیوز ریڈرز مسعود تابش، انور بہزاد، شمیم اعجاز اور شکیل احمد منسلک تھے لیکن زمانہ جنگ کے دوران خبرنامہ پڑھنے کے لیے شکیل احمد کا انتخاب کیا گیا۔ کیونکہ ان کی آواز میں Clarity تھی اس کے علاوہ آواز کی تھرو بہت زیادہ تھی Cultured Voice  تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران شکیل احمد نے جس خصوصی ولولہ انگیز انداز میں خبریں پڑھیں ان سے قوم کے جذبات کو ابھارنے میں بہت مدد ملی۔ حتیٰ کہ آل انڈیا ریڈیو نے ان کے انداز کی نقل کرتے ہوئے ایک شخص سے خبریں پڑھوانے کا سلسلہ شرو ع کیا لیکن اصل شکیل احمد تو ریڈیو پاکستان کے پاس تھے لہذا آل انڈیا ریڈیو کا وہ منصوبہ فلاپ ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ ستمبر کے دوران شکیل احمد کا جذبہ عقیدت اور وقار نشریات کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہیں گے۔

 6 ستمبر سے لیکر جنگ بندی تک محاذ جنگ پر برسر پیکار مجاہدین اور فوجی جوانون سے لیکر ملک کے چھوٹے سے چھوٹے قریے اور آبادیوں میں خبروں کے وقت لوگ اس خواہش کے ساتھ ریڈیو کھولتے تھے کہ شکیل احمد خبریں سنائیں گے۔ شکیل احمد کی انہیں خدمات کے اعتراف میں 1966ء صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ انہوں نے 12 جون 1977ء کو کراچی میں وفات پائی۔ آئیے، آپ کو شکیل احمد کی آواز میں خبریں سنائیں.

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 33 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz