پاک ایران تعلقات: ہمارے ہاتھ تو بندھے ہیں


mujahid aliایرانی صدر حسن روحانی نے یہ کہہ کر بہت سے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ دونوں ملک جب بھی قریب آنے لگتے ہیں، افواہیں گشت کرنے لگتی ہیں۔ کل شام پاکستان کا دو روزہ دورہ ختم کرنے کے بعد وطن روانگی سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے ایران کے صدر نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اس بیان کو مسترد کیا کہ انہوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مداخلت کے حوالے سے کوئی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں سنا بہت ہے لیکن جنرل راحیل کے ساتھ میری اس مسئلہ پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے آئی ایس پی آر ISPR کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کے سربراہ نے ایرانی صدر کو بتایا ہے کہ کس طرح ”را“ بلوچستان میں مداخلت کر رہی ہے اور بعض صورتوں میں برادر ملک ایران کی سرزمین بھی استعمال کرتی ہے۔ صدر روحانی کی تردید کے بعد جنرل باجوہ نے ایک ٹویٹ میں اس بات پر اصرار کیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے صدر روحانی کو ایران کے راستے بلوچستان میں ”را“ کی مداخلت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ”انہیں (بھارت) کو بتا دیا جائے کہ یہ سرگرمیاں بند کی جائیں اور پاکستان میں استحکام پیدا ہونے دیں“۔

ایک اہم اور  نازک موضوع پر ہمسایہ ملک کے صدر اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی اس تضاد بیانی سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں لیکن اس سے یہ دوٹوک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مستقبل قریب میں تعلقات بہتر ہونے اور سکیورٹی جیسے اہم سوال پر تعاون میں اضافہ کا امکان نہیں ہے۔ بلکہ اقتصادی اور انرجی کے شعبہ میں جس تعاون کے ذریعے پاکستان اپنے متعدد مسائل حل کر سکتا ہے اس کی راہ ہموار ہونے کی ابھی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ یہ تجزیہ یا تفہیم ملک کے الیکٹرانک میڈیا اور سرکاری ترجمانوں کے بیانات کے ذریعے سامنے آنے والی دلکش اور سہانی تصویر کے برعکس ہے۔ تاہم قومی مسائل کی بہتر تفہیم اور ان میں حائل الجھنوں کو دور کرنے کے لئے پہلے حقائق کی روشنی میں صورتحال کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی قوم خود کو یہ دھوکہ دیتی رہے گی، (جو عام طور سے اس کے لیڈر چاہتے ہیں اور جس کے لئے حتی الامکان کوشش بھی کی جاتی ہے) کہ سب اچھا ہے تو کبھی حقیقی مسائل کو حل کرنے کی نوبت نہیں آ سکتی۔

1073596-image-1459027010-925-640x480پاک ایران تعلقات ہمیشہ سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ خاص طور سے بلوچستان کے حالات کے حوالے سے دونوں ملک ایک دوسرے کو شک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ صدر روحانی نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”پاک ایران سرحد پر مسائل ضرور ہیں لیکن یہ ایران کی طرف سے نہیں ہیں۔ بعض دہشت گرد پاکستان کی طرف سے دراندازی کرتے ہیں“۔ گویا انہوں نے سکیورٹی کے سوال پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور تقریباً وہی موقف اختیار کیا ہے جو بھارت اور افغانستان کی طرف سے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا یا سمجھنا تو ممکن نہیں ہے کہ سرحدوں کے آر پار دہشت گردی کے حوالے سے سارا قصور صرف پاکستان کا ہی ہوگا اور دوسرے ملکوں کے ادارے بالکل بے قصور اور معصوم ہیں لیکن اس کا بوجھ بہر صورت سب مل کر پاکستان پر ڈالتے ہیں اور پاکستان کے حکمران اس حوالے سے کوئی موثر کارروائی کرنے یا واضح حکمت عملی اختیار کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی خارجی اور سکیورٹی پالیسی کے ذمہ دار اپنے تینوں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات کو جان بوجھ کر شک و شبہ کے سائے میں پروان چڑھانا چاہتے ہیں تا کہ اصل صورتحال سامنے نہ آ سکے۔

صدر حسن روحانی کے دورہ کے دوران بھی پاکستان کی طرف سے تو گرمجوش اور بظاہر خیر سگالی کے پیغامات دئیے گئے ہیں لیکن درحقیقت اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ صدر روحانی کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس دورہ سے زیادہ مطمئن نہیں تھے اور اسلام آباد میں وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے جن کی امید لے کر وہ یہاں آئے تھے۔ اس دورہ کے دوران صحت ، انشورنس ، ثقافت ، تحقیق ، تجارت اور بینکنگ کے جن معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں، وہ رسمی نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے جب تک ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی ایسی بنیاد فراہم نہیں کی جاتی جس پر دونوں ملک باہمی اعتماد کے ساتھ آگے قدم بڑھا سکیں، اس وقت تک یہ سوچنا محال ہے کہ پاکستان آئندہ 5 برس میں ایران کے ساتھ تجارت کا حجم 250 ملین ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کر لے گا۔ یا دونوں ملک علاقائی اور عالمی مسائل پر کسی مشترکہ ایجنڈے کے لئے کام کرنے لگیں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام ہے کہ اقتصادی تنہائی کے جس دور میں ایران تنہا تھا اور دوستوں کو تلاش کر رہا تھا، اس وقت بھارت نے عالمی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ اس کے علاوہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر اور وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبوں پر دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ ہو گیا تھا۔ اس کے برعکس پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایران سے فاصلے پر کھڑا تھا۔ حتیٰ کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا جو منصوبہ پاکستانی معیشت کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا، اس پر بھی جوش و خروش سے معاہدہ کرنے کے بعد پاکستان پیچھے ہٹ گیا تھا اور اس منصوبے کی تکمیل سے انکار کر دیا تھا۔

ایرانی صدر عالمی اقتصادی پابندیاں ختم ہو جانے کے بعد پاکستان کا دورہ کر رہے تھے۔ اس لئے یہ بات فطری تھی کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر واضح بات کی جاتی اور اس کی تکمیل کا اعلان کیا جاتا۔ اس کے برعکس بات چیت کے اعلان شدہ ایجنڈے اور سامنے آنے والے معاہدوں میں اس منصوبہ کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ ایرانی لیڈر نے البتہ اپنی پریس کانفرنس میں ضرور یہ بات کی ہے کہ ایران نے اپنے طور پر پائپ لائن مکمل کر لی ہے اب پاکستان کو اس منصوبے کی تکمیل کے لئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم پاکستانی وزیراعظم یا سرکاری ترجمان اس بارے میں کوئی واضح بیان دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اس گریز کی کیا وجوہات ہیں؟ اس بارے میں صرف قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں۔ حکومت پاکستان کسی بھی فورم پر قوم کو اپنی ترجیحات اور ان کی وجوہات کے بارے میں مطلع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ اسی لئے پاک ایران اقتصادی راہداری کا اہم ترین اور عظیم منصوبہ بھی شکوک و شبہات کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی صورتحال غیر واضح ہے۔

صدر روحانی کے دورہ پاکستان سے صرف ایک روز پہلے پاکستان نے بلوچستان سے ایک بھارتی جاسوس کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کلبھوشن یادو نامی یہ شخص بھارتی بحریہ کا کمانڈر اور ”را“ کا ایجنٹ بتایا جاتا ہے جو 2013 سے ایران کے شہر چاہ بہار میں مقیم تھا۔ بعض خبروں کے مطابق وہ اس ایرانی ساحلی شہر میں جیولری کا کاروبار کرتا تھا تا کہ اس کی مشکوک سرگرمیوں کا پردہ فاش نہ ہو سکے۔ یہ شخص مبینہ طور پر بلوچستان کے قوم پرست جنگجوﺅں کو ملک میں مسلح تصادم کے لئے کروڑوں ڈالر فراہم کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے فرقہ وارانہ فسادات کے لئے بھی کام کیا ہے۔ یہ الزام بھی ہے کہ یہ شخص بلوچستان سے لوگوں کو فوجی تربیت کے لئے بھارت لے جانے کا اہتمام بھی کرتا تھا۔ اس کے علاوہ چاہ بہار میں وہ ایسا گروہ تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو گوادر یا کراچی کے ساحلی راستے سے پاکستان میں دہشت گردی کے کام آ سکے۔ اس شخص کے پاسپورٹ پر ایرانی ویزا لگا ہوا ہے لیکن وہ جعلی دستاویزات یا خفیہ طریقے سے پاکستان کا دورہ کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک دورے کے دوران جمعرات کو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ان ساری معلومات کی روشنی میں حکومت پاکستان کو اس معاملہ پر ایران کے ساتھ براہ راست بات کرنے کی ضرورت تھی جو مسلمہ سفارتی ذرائع سے آسانی کے ساتھ کی جا سکتی تھی۔ آخر یہ ضرورت کیوں محسوس کی گئی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ یہ معاملہ براہ راست مہمان صدر کے سامنے اٹھائیں۔ اس طرح تو خیر سگالی کے ایک دورہ کو خود ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ ایرانی صدر کی طرف سے باہمی ملاقات میں ”را“ کے مسئلہ پر بات کرنے سے انکار کے بعد بھی آئی ایس پی آر کیوں یہ اصرار کرنا ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ایرانی صدر کی بات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے موقف کو درست ثابت کرے۔

اس سے قطع نظر اور یہ جاننے کے باوجود کہ پاکستان کے خارجہ اور سکیورٹی کے معاملات میں فوج براہ راست ملوث ہے، آخر آرمی چیف نے ایک ہمسایہ ملک کے صدر سے خاص طور سے ملاقات کرنا ضروری سمجھا۔ اس موقع پر ہی آخر یہ واضح کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا کہ کسی بھی ملک کو پاکستان کے حوالے سے اگر اہم معاملات طے کرنے ہیں تو اسے پاک فوج سے رابطہ کرنا ہو گا۔ یہ طریقہ مروجہ سفارتی آداب کے منافی اور ملک میں جمہوری پارلیمنٹ کے اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ بھارتی ایجنٹ اور ایران کے راستے ”را“ کی سرگرمیوں کے بارے میں وزیراعظم بھی بات کر سکتے تھے۔ آرمی چیف نے ایرانی صدر سے ملاقات کر کے اور اہم اور حساس موضوع پر بات کر کے نہ صرف ملک میں جمہوری حکومت کے اختیار کو پامال کیا ہے بلکہ فوج کے پیشہ وارانہ کردار کو بھی داغدار کیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جنرل راحیل شریف وزیراعظم کے مشورہ سے صدر روحانی سے ملے ہوں لیکن اس بارے میں سرکاری طور سے وضاحت سامنے آنی چاہئے تھی۔ اس ملاقات کے بارے میں جو بیان آئی ایس پی آر نے جاری کئے ہیں، اگر وہ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہوتے تو ان کی نوعیت مختلف ہوتی۔

ایران کی طرف سے پاکستان پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ وہ اس کی انرجی کی تمام ضروریات جن میں تیل، گیس اور بجلی شامل ہیں…. پوری کرنے کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس پیشکش کے کچھ سیاسی مضمرات بھی ہوں گے۔ ان میں سرفہرست سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے عسکری تعلقات کی نوعیت اور بھارت کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ صدر روحانی نے یہ پیشکش تاجروں کے ساتھ ملاقات اور پریس کانفرنس کے دوران کی ہے، اس بارے میں پاکستان کا موقف سامنے نہیں آیا۔ اس لئے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ صدر روحانی نے چاہ بہار اور گوادر کے درمیان ریل گاڑی چلانے اور بحری مواصلت کو مضبوط کرنے کی بات بھی کی ہے۔ پاک چین معاشی راہداری کے ساتھ یہ پیش رفت پاکستان کی ترقی کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ چین چاہ بہار اور گوادر منصوبے میں اشتراک عمل کے لئے اشارے دے چکا ہے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔ گویا یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ بندھے ہیں اور وہ اپنے مفادات کو بھی سعودی عینک سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ جب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

اسلام آباد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے اقتصادی بحالی کے منصوبوں کا آغاز کرے یا سعودی عرب کے ریجنل تسلط کے خواب کا حصہ بن کر اس وقت کا انتظار کرے جب سعودی عرب ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کر کے مشرق وسطیٰ پر مکمل تصرف حاصل کر لے گا۔ ایران پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے لیکن یہ سوچنا خام خیالی ہو گی کہ ایران ، پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ فاصلہ پیدا کر لے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali