عشق رسالت کی آڑ میں سیاست


aqdas sandhilaہماری قومی کرکٹ ٹیم کی ہار کے بعد اب ان کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور ہمارے میڈیا کے حضرات یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ شاید ناراض تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے جائیں گے۔ کوئی گندے انڈے دیکھنے کو ملیں گے، کوئی جوتیوں کا ہارپہنایا جائے گا، کوئی گلے سڑے ٹماٹر پھینکے جائیں گے، کوئی ڈنڈوں کی برسات ہو گی اور میڈیا والوں کی شب برات ہو گی۔ اسی چکر میں میڈیا کی ڈی ایس این جیز بھوکی چیلوں کی طرح ایر پورٹ کے اردگرد منڈلا رہی تھیں۔ مگر افسوس ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا ، سوائی چند خالی خولی نعروں کے۔ اور ان کو بھی بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا گیا۔ ویسے مجھے لگتا ہے کہ بریکنگ نیوز سے مراد یہ ہے کہ اپنے ٹی وی کی اسکرین بریک کریں، کیونکہ اس طرح کی خبریں دیکھنے کے بعد انسان بس یہی کر سکتا ہے۔

میڈیا کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی تواضع نہ ہونے کی کمی جس ویڈیو نے پوری کی وہ تھی آج اسلام آباد ایر پورٹ پر جنید جمشید پر “عشاق” کے حملے کی ویڈیو۔ جرم وہی پرانا کہ بی بی عائشہ کی شان میں گستاخی کی ہے لہذاتوہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے حضرت عائشہ سے متعلق بیان میں جو بھی غلطی ان سے ہوئی وہ اس پر معافی بھی مانگ چکے ہیں اور اپنے نقطہ نظر کی وضاحت بھی کر چکے ہیں ۔ مسلمان کی گستاخی کے دو پہلو ہیں۔

اول یہ کہ بندہ صاحب ایمان اور عقیدہ  ہو لیکن  عقل یا ہوش کی کمی کے نتیجے میں (کج عقلی ، زبان کی روانی، حالت نزع)  زبان سے کفریہ الفاظ نکل جائیں  کہنا کچھ اور چاہتے ہوں لیکن کہہ کچھ اور دیں۔ پھر  ہوش میں آنے پر یا  اپنی غلطی کا ادراک کرنے پر  توبہ استغفار کر لے۔

دوئم یہ ہے کہ بندہ اپنے عقیدے سے روگردانی کرے اور  اور سوجھ بوجھ سے اور پورے ہوش و حواس میں شان رسالت ﷺ  میں غلط کلمات کہے۔

شریعت میں پہلے شخص کو نہ ہی مرتد تصور کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ وہ تجدید نکاح کرے۔جبکہ دوسرے شخص کو فقہاء کی ایک کثیر تعداد مرتد تصور کرتی ہے اور اس کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرے، پھر سے اسلام قبول کرے، معافی مانگے اورشادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح کرے ۔ فقہ حنفی کے مشہور  اِمام ابویوسف ”کتاب الخراج“ میں لکھتے ہیں”جس مسلمان نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی، یا آپ  کی کسی بات کو جھٹلایا، یا آپ میں کوئی عیب نکالا یا آپ کی تنقیص کی، وہ کافر ومرتد ہوگیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا، پھر اگر وہ اپنے اس کفر سے توبہ کرکے اسلام ونکاح کی  تجدید کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ “(کتاب الخراج ص:۱۹۷)

بہت سے فقہاء اس بات کو بھی تسلیم کر چکے تھے کہ یہ محض زبان کی لغزش تھی  اور جنید کا مقصد رسول اللہ ﷺ یا ان کے اہل و عیال کی شان میں گستاخی کرنا نہیں تھا۔ عوام اور علماء بھی ان کی معافی اور وضاحت کو تسلیم کر کے اس قصے کو ختم کر چکے تھے۔۔ مگر ممتاز قادری کی پھانسی کو جس طرح سے مولوی حضرات نے کیش کروایا ہے اس کے بعد توہین مذہب کی ایک وبا سی پھوٹ پڑی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ شہر کا شہر مسلمان بنا پھرتا ہے اور رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ جو بھی سر اٹھائے گا وہ اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

اگر توہین مذہب کے الزامات کے محرکات میں جائیں تو یہ بات پتا چلتی ہے کہ معاملہ عشق کا نہیں، معاملہ دراصل مذہبی ٹھیکہ داری کا ہے۔ بریلوی اور دیوبندی کی تفریق کی چنگاری میں ہمارہ معاشرہ جل کر بھسم ہو رہا ہے ۔ اور افسوس یہ کہ جو افراد اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ان مکاتب فکر کا جھگڑا تقسیم  ہند سے بھی پہلے کا ہے ۔انگریزوں نے بھی مسلمانوں کے درمیان ان کو اختلافات کو بھرپور ہوا دینے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں۔ دونوں مسالک کے درمیان جھگڑا چھوٹی چھوٹی باتوں مثلا ، گیارہویں اور بارہویں کے ختم، چالیسویں، اور عید میلادالنبی منانے سے شروع ہوا اوراب نوبت یہاں آ پہنچی ہے کہ ایک دوسرے پر کفر کر فتوے لگاتے نہیں تھکتے۔

جنید جمشید کی اگر بات کی جائے تو وہ دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پرگستاخ رسول کا الزام لگانے والے اور ان پر حملہ کرنے والے بیشتر لوگ بریلوی مکتبہ فکر کے پیروکار ہیں۔ دونوں مکاتب فکر سنی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر دونوں کا اصرار ہے کہ صرف وہی مذہب کے ٹھیکہ دار ہیں اور باقی سب صرف مزدور ہیں۔ بریلوی حضرات خاص طور سے فتوے لگانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ممتاز قادری کا تعلق بھی بریلوی مکتبہ فکرسے تھا۔جس طرح سے سلمان تاثیر کی باتوں کو  غلط رنگ میں میڈیا پر پیش کیا گیا ،اسی طرح جنید جمشیدکی باتوں کو بھی غلط انداز میں پیش کیا گیا- یہ وہی لوگ ہیں جو مختلف جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ انہی لوگوں نے اپنے فرقہ وارانہ تعصب میں نہ صرف جنید جمشید کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی بلکہ قتل کے فتوے بھی جاری کیے۔ان کے ایک رہبر پیر مظفر علی شاہ  فرماتے ہیں

” جنید جمشید ایک مراثی کی اولاد ہے، اسے کس نے حق دیا کہ یہ نعتیں پڑھے،  محمد یوسف پہلے عیسائی تھا پھر مرتد ہوگیا۔”

یہ حضرات مراثی اورمرتد صرف اس لیے ہو گئے کہ ان کا تعلق دوسرے فرقے سے ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسند بس اسی تلاش میں رہتے ہیں، کہ کاش توہین مذہب کا لازام لگانے کا کوئی موقع مل جائے- اس جنگ میں جیت کسی کی بھی نہیں ہو گی مگر مذہب کا نقصان بہت ہوگا۔ جس طرح سے توہین مذہب جیسے حساس موضوع کو ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کیا جا رہا ہے اس سے اسلام کو یا آپ ﷺ کی ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ پنجابی میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے “جھاکا کھلنا”- یہ مولوی صرف لوگوں کا جھاکا کھلوا رہے ہیں۔ حب رسول ﷺ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔ کسی قانون میں ترمیم کا مطالبہ کرنے سے نہ میں، نہ سلمان تاثیر، نہ جنید جمشید اور نہ ہی ہم جیسے کروڑوں مسلمان توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں  اور نہ ہی کوئی ہماری رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تعین کر سکتا ہے۔ لہذا میری علماء سے درخواست ہے کہ اپنی دوکان چمکانے لے لیے براہ کرم حضرت محمد ﷺ کی مقدس ذات کا سہارا نہ لیں-


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “عشق رسالت کی آڑ میں سیاست

  • 27-03-2016 at 10:04 pm
    Permalink

    اس پر مولانا سندھی جو افغانستان رہ کر بھی آئے تھے طویل عرصہ کی بات یاد آگئی۔۔۔ “رجعت پسند طبقہ کی حکومت اور پھر وہ مذھب کا نام لیوا بھی ھو، خدا اس کے شر سے ھر قومُکو محفوظ و مامون رکھے”

Comments are closed.