جنید جمشید اور گل بھوشن یادو پر مجرمانہ خاموشی


 zafar kakarاحباب بضد ہیں کہ بھائی صاحب جنید جمشید اور ’را‘ کے ایجنٹ گل بھوشن یادیو پر آپ لوگوں کی مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ آپ لوگ ایک خاص ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ کونسے ایجنڈے پر کاربند ہیں اور کس کے ایجنڈے پر کار بند ہیں اس پر بات ہوتی ہے لیکن پہلے دو واقعات سن لیجیے۔ حجرے میں محفل جاری تھی۔ لوگ بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ تازہ گل خان آ گئے محفل میں اور ماما قادر کی بغل میں بیٹھ گئے۔ چھوٹے کو آواز دی کہ چلم لے کر آ۔ چلم سامنے رکھ کر جیب سے تمباکو نکالااور چلم پر جما دیا۔ ماما قادر کی طرف دیکھ کر بولے، ’ ماما ایک انگارہ تو دیجیے‘۔ ماما نے کہا بھئی تازہ گل یہ انگارہ مانگنا ہمارے خاندانی روایت میں اچھی بات نہیں ہے۔ تازہ گل مگرہنس کر بضد ہوئے۔ ماما نے اپنی چلم کے پیندے سے ایک بڑا سا انگارہ اٹھا کر تازہ گل کی چلم پر رکھ چھوڑا۔ تازہ گل نے دو چار کش لئے لیکن شاید مزا نہیں آیا یا دھواں نہیں آیا۔ پاس پڑا آتش گیر اٹھا کر انگارے پر ایک زور کی چوٹ لگائی تو انگارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ادھر ادھر گر گیا۔ کچھ ہائے ہو کی آوازیں آئیں۔ لوگ اچھل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ ایک انگارہ ماما قادر کے دامن میں گر گیا تھا جو ماما کے دامن، پائنچے میں سے ہوتا ہوا ان کے گوڈے کو بھی جلا گیا۔ اب تازہ گل شرمندہ شرمندہ سے ہوئے اور ماما سے معافیاں مانگنے لگے۔ ماما نے لازوال جملہ کہا، ’ قصور تمہارا نہیں ہے تازہ گل خان۔ بابا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ آگ ہمسائے کے آنگن میں جلانے سے انگارے اپنے آنگن میں بھی گرتے ہیں‘۔

مدعا یہ نہیں ہے کہ گل بھوشن ایجنٹ نہیں ہے۔ مدعا یہ بھی نہیں ہے کہ ہندوستان بلوچستان اور فاٹا میں شرپسندوں کی اعانت کرتا ہے یا نہیں۔ یہ ثابت شدہ واقعات ہیں اس میں تو کوئی کلام ہی نہیں ہے۔ ایک طرف گل بھوشن ہے، رویندرا کوشک ہے اور کشمیر سنگھ ہے۔ دوسری طرف اجمل قصاب ہے۔ ذبیح الدین انصاری ہے یا پھر محمد اعزاز الیاس۔ ادھر سے مہران بیس اور بی ایل اے کی مدد کے الزامات ہیں ادھر سے ممبئی حملوں اور آئی ایس وائی ایف کی مدد کے الزامات۔ مدعا دراصل یہ ہے کہ دونوں ممالک نے آزاد ہوتے ہی ایک دوسرے کو اپنا دشمن قرار دیا تھا۔ یہ دشمنی اب ستر برس کو پہنچ رہی ہے۔ معاملہ مگر یہ ہے کہ آج بھی لکیر کے دونوں جانب لاکھوں افراد کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے۔ غربت، بر روزگاری اور ناخواندگی کا ننگا ناچ دونوں جانب جاری ہے۔ ایک طرف محمد اخلاق قتل ہوتے ہیں تو دوسری طرف شہباز بھٹی۔ عزتوں کے جھوٹے تقدس کے فوجدار ایک جانب منوج ببلی کو قتل کرتے ہیں تو دوسری جانب مسماة ف ہائی کورٹ کے دروازے پر قتل ہوتی ہے۔ ایک جانب جیوتی سنگھ درندگی کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتی ہے دوسری جانب کوئی مسماة س، ف، ج لیہ ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں درندگی کا نشانہ بن کر راہی اجل ہو جاتی ہے۔ ہاں دونوں جانب سے کچھ لمبی زلفوں والے تماشہ گر کبھی لال قلعہ اور کبھی شاہی قلعہ فتح کرنے کی نوید دیتے رہتے ہیں۔ اس بازی میں کبھی کبھی ایک دو پیادے یا فیلے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ بازی کچھ عرصے کے لئے پات ہو جاتی ہے اور پھر شہ مات تک جاری رہتی ہے۔ مگر ایک محب وطن شہری کی طرح مجھے گل بھوشن یادو کی گرفتاری پر خوش ہونا چاہیے تو میں خوش ہوں ۔ میں خوش ہوں کہ ہمارے دفاعی اداروں نے یہ بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک ایجنٹ کو کسی بڑی سازش کرنے یا تباہی پھیلانے سے پہلے گرفتار کر لیا۔ اب اس سے اس کے پھیلائے گئے نیٹ ورک کا بھی پتہ چل جائے گا ۔ ملک میں موجود دشمن عناصر کے گرد گھیرا تنگ ہو جائے گا۔ ہندو بنیے کے مکروہ عزائم خاک میں مل جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ

چلیںدوسرے قصے کی طرف چلتے ہیں۔ میر تقی میر ایک بار دلی سے لکھنو جا رہے تھے مگر گاڑی کا کرایہ پاس نہ تھا۔ مجبورا ایک دوسر ے صاحب سے مدد لی۔ اس شخص نے گفتگو کا آغاز کیا تو میر منہ پھیر کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کوئی اور بات کی تو میر بگڑ کر بولے، ’ صاحب قبلہ! آپ نے کرایہ دیا ہے، بے شک گاڑی میں بیٹھیے مگر باتوں سے کیا تعلق؟‘ اس نے کہا، حضرت! کیا مضائقہ ہے؟ راہ کا شغل ہے، باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے‘۔ میر بولے، ’ آپ کا شغل ہو گا میری زبان خراب ہوتی ہے میاں‘۔ بھائی صاحب جنید جمشید نے گانا بجانا چھوڑ کر خود کو تبلیغ کے لئے وقف کر دیا مگر معاملہ یہ ہوا کہ بیچ بیچ راہ کا شغل لگاتے رہے ۔ کبھی فرمانے لگے کہ عورت گاڑی چلائے گی تو خراب ہو گی۔ کبھی وعظ فرماتے ہوئے زبان سے غیر محتاط جملہ نکل گیا۔ کبھی قرآن میں عورت کا ذکر نہ ہونے کی اپنی سی تفسیر کر بیٹھے۔ اور اب کے پیٹنے والوں کو پہلے مسلکی پاگل کے بچے قرار دیا اور پھر ٹویٹ دیا کہ مسلمان ہیں میں تو بدعا بھی نہیں دے سکتا۔ بات یہ ہے کہ شغل شغل میں زبان خراب ہوگئی وگرنہ یہ کسی صورت بھی نہیں کہا جا سکتا کہ جنید جمشید ادنی درجے میں کسی محترم ہستی کی گستاخی کر سکتے ہیں۔ جہاں تک بات ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے الوں کی ہے تو عرض یہ کہ جب لوگ ریاست کی بجائے فرد کو سزا دینے کا اختیار دیتے ہیں اور پھر اس کو ایمانیات سے جوڑتے ہیں تو اس کا یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ توہین رسالت کی سزا پر تو احناف اور باقی مسالک میں اختلاف ہے لیکن چوری کی سزا چونکہ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس لئے اس پرکسی کو اختلاف بھی نہیں ہے۔ ایک نتیجہ ہم دیکھ چکے ہیں کئی نتائج مگر منتظر ہیں۔ کل کوئی مولوی ذید بکر صاحب تقریر میں چور کو سزا نہ دینے کو بھی ایمان کا مسئلہ بنا دے گا اور پھر گلی گلی لوگ ٹوکے لے کر انسانوں کے ہاتھ کاٹا کریں گے۔ بات الزام سے شروع ہوتی ہے۔ جنید جمشید کے ساتھ ہاتھا پائی تک آتی ہے۔ فرخندہ سنگسار کر دی جاتی ہے۔ اور آخر میں خدا کے قانون پر فیصلہ نہ کرنے کے جرم میں ریاست کے خلاف بندوق اٹھا کر خدا کا قانون نافذ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ کانٹے ہم نے اپنے ہاتھوں سے بوئے ہیں اور اس کی فصل ہم نے ہی کاٹنی ہے۔ جنید جمشید کا دکھ مجھے سب سے زیادہ ہے لیکن ان لوگوں کے دکھ پر حیران ہوں جو کل تک ایمانیات کا سہارا لے کر انسانوں کو قتل کرنے کا جواز بخش رہے تھے۔۔۔

بات خاص ایجنڈے سے چلی تھی۔ خاص ایجنڈے کی البتہ احباب نے وضاحت نہیں کی۔ غالب گمان یہی ہے کہ احباب سوشل میڈیا کے لٹمس ٹیسٹ اور بیرو میٹر سے ہمارا جائزہ لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی حب الوطنی کا معاملہ یوں ہے کہ مہینے میں ایک آدھ بار ہیت مقتدرہ کا سوشل میڈیا اسٹیٹس شئیر کرنا لازم ہے۔ اہل ذوق قدرت اللہ شہاب کے’ شہاب نامے،‘ اے حمید کے ’قاتل سگار‘ یا نسیم حجازی کے ’شاہین ‘ سے کوئی اقتباس شئیر کرتے ہیں۔ جبکہ سادہ پڑھے لکھے برادر بزرگ اخبار نویس اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ دانشور کے کالم کے اقتباسات سے کام چلاتے ہیں۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو ہم دل پر جبر کر کے ایک آدھ بار اس علم بے لذت کا مظاہرہ کر بھی لیتے لیکن معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ اب حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے سرشام ٹی وی پر بیٹھنے والے دو ’ڈاکٹر کم دانشوروں‘ یا وہ لمبی زلفوں والے دانشور کی ویڈیو بھی شئیر کرنا لازم ہے۔ کم سے کم درجہ بھی یہ ہے کہ کسی جرنیل کی باوردی تصویر یا الخالد ٹینک کی تصویر تو فیس بک پر لگا ہی لی جائے۔ کچھ ایسا ہی امتحان جذبہ ایمانی کو درپیش ہے۔ لٹمس ٹیسٹ اب جنازوں کی تصاویرہیں۔ اعلی ترین درجے میں محمد بن قاسم سے پاکستان کی بنیاد کا وجود ثابت کرنا ہے۔ چلتے چلتے بات سومنات کی بت شکنی تک آئے گی۔ مغل شاہوں کی مدح سرائی مسلمانوں کی صدیوں برصغیر پر حکمرانی کی کڑی ہو گی۔ تصویر چھپائی کا سلسلہ خادمین حرم شاہ فیصل مرحوم سے شروع ہو کر معمر قذافی، صدام حسین، یاسر عرفات، اسامہ بن لادن، ملا عمر حتی کہ معاملہ ایمن الظواہری کہ رمزی یوسف تک پہنچ جاتا ہے۔ جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے ان معیارات پر تو خاکسار پورا نہیں اترتا۔ اس لئے دیسی لبرل، کالا انگریز اور دجالی میڈیا کے گماشتے جیسی لغت ہائے حب الوطنی پر کان لپیٹ کر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “جنید جمشید اور گل بھوشن یادو پر مجرمانہ خاموشی

Comments are closed.