میرا کھویا ہوا پنجاب واپس لوٹا دو


پنجاب برصغیر میں ثقافت کے لحاظ سے منفرد ریاست تھی۔ اس کی روایات، رہن سہن، پہناوا اور بولی اس کی انفرادیت کی وجہ تھیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا پنجاب اب وہ پنجاب نہیں رہا جس پرہر غیرتمند کو فخر تھا۔ ایسے شرمناک واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ دنیا میں ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بچیوں سے زیادتی۔ سلمان تاثیر کا قتل۔ سیالکوٹ میں دو بھائیوں پر تشدد۔ بچوں کی نازیبا ویڈیو اور ان جیسے سینکڑوں واقعات۔ ہم مسلسل اس پنجاب کو ”البنجاب“ بنانے پر تُلے بیٹھے ہیں اور اس کا محنت کش۔ وفادار۔ سیکولر اور محبتوں سے بھرا ماضی کہیں دفن کر چکے ہیں۔

جو دھرتی بابا گرو نانک دیو۔ بابا فرید۔ عبداللہ بھٹی۔ بُلار بھٹی اور وارث شاہ جیسے ناموں سے پہچانی جاتی تھی۔ آج قاتلوں۔ ریپسٹ اور انتہا پسندوں سے بھری پڑی ہے۔ جس پنجاب میں صوفی معاشرے کی تربیت کیا کرتے تھے۔ خانقاہیں درس و تدریس کا کام کرتی تھیں۔ آج اسی پنجاب میں انتہا پسند مدرسے دہشتگردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

دیہاتوں میں بزرگ خواتین دھوتی پہنے گاؤں کے کسی چوراہے میں حقہ گڑ گڑاتی تھیں۔ گاؤں کا ہر شخص ان کو ”بے بے“ کہہ کر سلام کرتا تھا۔ لڑکیاں لاچہ پہنے سروں پر ٹوکریاں اُٹھائے سبزیاں۔ کھیلونے اور چوڑیاں بیچا کرتی تھیں۔ نہر پر کپڑے دھویا کرتی تھیں۔ کنوؤں سے پانی بھرنے جاتی تھیں۔ اور پورا گاؤں ان کی عزت کرتا تھا۔ کسی سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن آج گھر سے نکلتے ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔

پنجاب کی ثقافت کی جان میلے تھے اور ان میلوں کی رونق بچے۔ دادی نانی سے پیسے لے کر بلا خوف و خطر میلوں میں جا کر کھیلنا اور کھانا پینا۔ اور شام کو سارے بچے تایا برکت کی گدھا رہڑی پر اپنے گھروں کو واپس آ جاتے تھے۔ گلی محلوں میں کنچے۔ پٹھو گرم اور گُلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ بچیاں شٹاپو کھیلتیں، کیکلی ڈالتیں، گڈے گڈیوں کی شادی کرواتی تھیں۔ مگر افسوس کہ آج یہی بچے ہوس کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

جس پنجاب میں اگر کوئی بچہ کھو جاتا تو پورا علاقہ اپنے کام چھوڑ کر اس بچے کو ڈھنڈنے نکلتا تھا۔ مسجدوں میں اعلان ہوتے تھے۔ وہاں ننھی زینب 6 دن تک لا پتہ رہی اور اہل علاقہ کو خبر تک نا ہوئی؟

قصور کس کا تھا؟ زینب کے والدیں کا؟ جو معصوم بچی کو چھوڑ کر عمرہ کرنے چلے گئے۔ یا ان رشتہ داروں کا جن کو زینب سونپی گئی تھی۔ یا پولیس کا جو زینب کے گھر والوں سے کھانا تو کھاتی رہی مگر اس بچی کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی؟

سچ تو یہ ہے کہ قصور میرا، آپ کا اور بحثیت قوم ہم سب کا ہے۔ جو اپنے بیٹوں کو پنجاب کی سب سے خوبصورت روایت نا سمجھا سکے کہ ”بہنیں اور بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں“۔
خدارا اُس کھوئے ہوئے پنجاب کو ڈھونڈ کر واپس لے آئیں۔ تاکہ ہماری زینب محفوظ رہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

حسن ضیا خان کی دیگر تحریریں
حسن ضیا خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں