شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد…


hashirصدیاں گزریں جب اایک مرد دانا نے اپنےمخاطبین سے کہا تھا ” تم میں اور مجھ میں بس یہی فرق ہے کہ تم نہیں جانتے کہ تم نہیں جانتے اور میں جانتا ھوں کہ میں نہیں جانتا”

مجھے دانائی کا کوئی دعوی تو نہیں ہے مگر یہ جستجو ھمیشہ رہی کہ جومیں نہیں جانتا وہ میں جان سکوں۔ آگہی کو میں نے ہمیشہ نعمت جانا پھر اب کیسا کیا ہوا ہے کہ یہی آگہی عذاب لگتی ہے میں یہ تو سمجھ گیا ہوں کہ بہت کچھ ہے جو میرے فہم سے پرے ہے پر دل میں اب اسے کھوجنے کی کوئی خواہش نہیں ہے ہاں ڈر ضرور ہے کہ کہیں ایک دن زندگی وہ سبق نہ پڑھا دے جسے سیکھنے کی اور سمجھنے کی کوئی خواہش میں اپنے اندر نہیں پاتا

بہار کا موسم کسے پسند نہیں ہے۔ کھلتی ہوئ کلیاں، پھولوں کے شوخ رنگ، بادلوں کے کاندھوں پر دھری خوشبوئیں ۔ ہوا میں تیرتی رنگ برنگی پتنگیں ۔ رات کی ہلکی خنک سرگوشیاں ۔ میں ان سب سے آشنا ہوں ۔ مگر میں یہ نہیں جانتا کہ جب پھول سے بچے کے سینے پر خون کا سرخ گلاب کھلتا ہے، جب دال اور پاپڑ کی سوندھی مہک بارود کی بو میں مل جاتی ہے اور جب فضا میں تیرتی کیلیں اور بال بیرنگ نرم جسموں میں ترازو ہوتے ہیں تو یہ کیسا تجربہ ہوتا ہے

میں نے اپنے باپ اور اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے قبرمیں اتارا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ سرسے آسمان سرک جانے کا غم اور ہر دکھ کی سپرچھن جانے کا خوف کیسا ہوتا ہے مگر مجھے یہ نہیں پتا کہ پیر تلے سے زمین نکل جائے اور بازو شانوں سے کٹ جائیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے کیونکہ میرے بچے ابھی زندہ ہیں

پشاور سے لاہور تک پھیلا لاشوں کا ایک سلسلہ ہے۔ سفید کفن میں لپٹے ھوئے بیٹے، بھائی اور باپ اور ان کے قدموں میں اک ہجوم عاشقان ہے۔ ان کے چہرے دکھ میں ڈوبے ہیں، ان کی آنکھیں ویران ہیں، ان کے حوصلے شکستہ ہیں اور ان کے دل غم سے پھٹ چکے ہیں پر وہ خاموشی سے انہیں دفناتے کیوں نہیں ۔ یہ کس کے لئے احتجاج کرتے ہیں ۔ یہ کیوں ہرچند دن بعد کبھی کسی وزیر اعلی ہاوس کے باہر، کسی یونیورسٹی کے سبزہ زار میں، کسی اسکول کی داخلی گزرگاہ پر ماتم کناں ہوتے ہیں ۔ یہ میں نہیں جانتا۔ یہ عقل سے پرے کا معاملہ ہے اور میں اسے سمجھ نہیں پاتا۔ ۔ یہ شاید ان کے لئے یہاں نہیں روتے جنہیں یہ کھو چکے ہیں۔ یہ شاید ان کے لئے بولتے ہیں جنہیں یہ کھونا نہیں چاہتے مگر میں یہ نہیں جانتا۔ پر کوئی سنے اس سے پہلے ایک اور دھماکہ ہو جاتا ہے۔

پر چند دن بعد ٹوٹی ہوئی کمر والے میرے دشمن میرے تصویر کدے میں اور تصویروں کا اضافہ کرتے ہیں ۔ دیوار در دیوار چہرے ہی چہرے ہیں اور میں ان سے بھاگ نہیں پاتا ۔

ان بے شمار غمگین چہروں میں مجھے ایک بچی نظر آتی ہے میں اس کا نام نہیں جانتا پر اس سے کیا فرق پڑتا ہے میں اسے اپنی بیٹی کے نام سے پکار سکتا ہوں بیٹیاں تو سب ایک سی ہوتی ہیں اس بچی کے چہرے پر حیرانی ہے اور آنکھوں میں کتنے ہی سوال ہیں اور میں ان میں سے کسی کا جواب نہیں جانتا۔ آج کسی نے سوتے وقت اسے کہانی نہیں سنائی۔ کسی نے اس کے ماتھے پر بوسہ نہیں دیا اور کسی نے میری گڑیا که کر اسےبانہوں میں نہیں بھرا۔ اسکول کا ھوم ورک ابھی ویسا ھی پڑا ہے حساب کے کچھ سوال ہیں جو اسے مشکل لگتے ہیں۔ انگریزی کے متضاد الفاظ کی فہرست بھی ابھی بنانی باقی ہے اور تو اور نئی کاپیوں پر خاکی کور بھی نہیں چڑھے۔ اب یہ کون کرے گا۔ کون اس کا سبق سنے گا، اسے پڑھائے گا۔ میں نہیں جانتا۔ موت اور زندگی کا فرق ابھی اس کی کچی سمجھ میں نہیں آتا کتنی ہی بار یہ اپنے بابا کا کندھا جھنھوڑ چکی ہے مگر وہ ہے کہ اٹھتا ہی نہیں ہے ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا تھا ہر صبح جب یہ بابا کے بستر پرآ کر چڑھتی تھی تو بابا کی بانہیں پہلے سے کھلی ہوتی تھیں محبت سے بھری چھاتی سے لپٹ کر اس کی ہر صبح کا آغاز ہوتا تھا وہ صبح کہاں روٹھ گئی ہے۔ یہ نہیں جانتی پر یہ کچھ سوچتی تو ہو گی، کچھ سمجھنے کی کوشش تو کرتی ہو گی۔ اس کے اپنے خام، کچے، نا سمجھ جذبات اور احساسات کی دنیا میں کچھ خیال تو ابھرتے ہوں گے۔ مگر میں نہیں جانتا کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ میں اس کی آنکھوں کے سارے سوال پڑھ سکتا ہوں پر افسوس میں کسی ایک کا بھی جواب نہیں جانتا

اس بچی سے کچھ دور ایک چیختا کرلاتا لڑکا بھی کھڑا ہے۔ میں اس کا نام بھی نہیں جانتا اور جان بھی جاؤں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ چند دن گزریں گےکہ میں اپنی دنیا میں مگن اس کا بلکنا، رونا اور تڑپنا بھول جاؤں گا۔ زندگی میں کرنے کے اور بھی بہت کام ہیں۔ مگر ابھی کہانی تازہ ہے ابھی زخم نظر آتے ہیں۔ ابھی میڈیا پر یہ مسئلہ بکتا ہے تو میں بھی ابھی اس کا ذکر کر لیتا ہوں۔ پر میں نہیں جانتا کہ یہ رو کیوں رہا ہے۔ شاید اس لئے کہ اسے پتہ ہے کہ شام کو اس کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے ہاتھ اب کبھی گیند اور بلا نہیں پکڑ سکیں گے۔ کوئی اسے بولنگ اور بیٹنگ کرنا نہیں سکھاے گا۔ شاید اسے یہ بھی غم ہے کہ اسکول کی نئی یونیفارم کا وعدہ اب پورا نہیں ہو گا۔ اور اسے وہی پرانی اور بوسیدہ قمیض اور پرانی ادھڑی ہوے پائنچوں والی پتلون پہن کرکل اسکول جانا پڑے گا۔ یا شاید اس لیے کہ اب اسکول جاتے ہوے جب یہ ہاتھ بند کرے گا تو اس کی گرفت میں کوئی شفیق ہاتھ نہیں ہو گا۔۔ شاید اس لئے بھی کہ بازار سے گزرتے ھوئے اب کوئی اسے ٹافیاں نہیں لے کر دے گا۔ اس کے کھلونے جتنے ہیں اتنے ہی رہیں گے۔ بال اگر گم ہو گئی تو نئی بال کے پیسے دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ یا شاید اس لیے کے اسے اب وقت سے بہت پہلے بڑا ہونا ہے۔ شاید اسے پتا ہے کہ بم کے دھماکے نے اس کا باپ ہی نہیں چھینا بلکہ اس کا بچپن بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے۔ ۔ پتا نہیں۔۔ ۔۔میں نہیں جانتا کہ یہ کیوں رو رہا ہے

مانیں بہت عجیب ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کی ہر ایک ڈور ان کے بچوں سے جڑی ہوتی ہے۔ بچے ہنستے ہیں تو ان کے چہروں پرمسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ تکلیف میں بچے ہوتے ہیں پر آنسو ماں کی آنکھ سے گرتے ہیں۔ وہ جیتی ہے تو ان کی آرزوؤں، ان کی خواہشوں کے لئے۔ وہ بولتے نہیں بھی ہیں تو ماں ان کی ہر بات سنتی ہے۔ وہ کہیں یا نہ کہیں ماں سب جانتی ہے۔ اب کیسی دوویدھا ہے کہ یہی مائیں اپنے بچوں کے سرہانے کب سے بیٹھی ہیں، نا وہ کچھ بولتے ہیں اور نہ آج اسے ان کی کوئی بات سنائی دیتی ہے۔ کچھ دن گزریں گے کہ ان کی آنکھوں کے آنسو خشک ہو جائیں گے اور دل صحراؤں میں بدل جائیں گے پر زخم ہمیشہ ہرا رہے گا۔ اب ان کے بچے ان سے کبھی کچھ نہیں بولیں گے۔ اب کے خاموشی ایسی ہو گی کہ ماں بھی سن نہیں پائے گی۔ جن بچوں کے پیروں میں کانٹا چبھتا تھا تو یہ دیکھ نہیں پاتی تھیں۔ ۔۔آج ان کے جسموں کے ٹکڑے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے ہیں۔ کبھی یہ ان کے لئے نت نئے کپڑے خریدتی تھیں، آج انہی ہاتھوں سے انہوں نے ان کا کفن لیا ہے۔ ان کی امنگوں کے برگ و بار جن شاخوں پر کھلنے تھے آج وہ کٹ چکی ہیں۔ اب کوئی سونے سے پہلے ان کے پیر نہیں دبائے گا۔ کوئی ان کی دعائیں نہیں لے گا۔ اب یہ کسی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھیں گی۔ کسی کے بالوں میں انگلیاں نہیں پھیریں گی۔ کوئی اب ان کی گود میں سر رکھ کر نہیں سوئے گا۔ اب انہیں کسی کے کپڑے استری نہیں کرنے۔ کسی کے بے ترتیب کمروں کو سیدھا کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ رات کو اب کوئی دیر سے نہیں آئے گا جس کے لئے ان کی نظریں دروازے پر گڑی رہتی تھیں۔ اب انہیں کسی رزلٹ کارڈ پر دستخط نہیں کرنے۔ کسی نوکری کے پروانے پر کسی کی بلائیں نہیں لینی۔ کسی شادی کے دعوت نامے کو نہیں چھپوانا۔ ان کے گلے میں باہیں ڈالنے والا، ان سے لاڈ کرنے والا، ان کی ڈانٹ اور جوتیاں کھانے والا اب کوئی نہیں رہا۔۔ اب کوئی فرمائشی پکوان نہیں بنیں گے۔۔ کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ اودھم نہیں مچاے گا۔ کوئی اپنی قمیض کے بٹن ٹنکوانے نہیں آے گا۔۔ اب کسی کے سر میں تیل لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کو بیماری میں دوائی وقت پر پلانے کا خیال نہیں رکھنا۔ کسی کے گھر سے نکلنے پر اس کے حفظ و امان کی دعائیں مانگنے کی فکر نہیں کرنی۔ میں نہیں جانتا کہ اب یہ مائیں کیا کریں گی۔ جب زندگی سے اتنے سارے کام نفی ہو جایئں گے تو کرنے کو کیا بچے گا۔ میں نہیں جانتا۔

حیات کا سفر کبھی بہت طویل ہوتا ہے اور کبھی سمٹ کر بہت مختصر رہ جاتا ہے۔ پر اتنا ضرور ہے کہ ایک ہمسفر ضروری ہے وگرنہ یہ سفر آزمائش بن جاتا ہے۔ یہاں کتنے چہرے ایسے ہیں جن کے ہمسفر ایسے روٹھے ہیں کہ ماننے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اسی ہجوم عاشقان میں یہ نو بیاہتا دلہن بھی ہے۔ ابھی اس کے ہاتھوں کی مہندی تازہ ہے۔ ابھی اس کے ارمان دل میں ہیں۔ زندگی کا نیا سفر ابھی شروع بھی نہ ہوا تھا کہ وقت نے اس کی طنابیں سمیٹ لیں۔ اب یہ اٹھلا کر کس سے فرمائشیں کرے گی۔ جب ناراض ہو گی تو کون اس کے پیچھے پیچھے پھر کے اس کو مناے گا۔عید پر اس کا جوڑا کون لاے گا۔ اس کی چوڑیاں کون خریدے گا پھر کس کو یہ جوڑا اور چوڑیاں پہن کے دکھاے گی اور شوخی سے اترائے گی۔ شام کو کس کے بازو میں ہاتھ ڈال کر یہ سیر کے لئے نکلے گی۔ اب نہ کوئی شادی کی سالگرہ یاد رکھنے والا ہے نہ کوئی اسے بھولنے والا ہے۔ اس کے ہونے والے بچے کا نام کون رکھے گا۔ اداسی کے لمحوں میں کون سا کندھا ہو گا جس پر سر رکھ کر یہ روئے گی۔ خوشی کے پل کس کی باہوں میں جھولے گی۔ کون اس کے نئے لباس کی تعریفیں کرے گا۔ کون اس کے حسن کے قصیدے پڑھے گا۔ کون دفتر سے دیر سے آنے پر جھوٹے سچے بہانے بناے گا۔ کون اسے بازووں میں سمیٹے گا۔ کون اس کے بالوں میں پھول ٹانکے گا۔ کچھ دن پہلے اس کی دھڑکن کسی اور کے دل میں دھڑکتی تھی۔ آج نہ وہ دل ہے نہ دھڑکن۔۔ اس لڑکی کے لب خاموش ہیں پر چہرے پہ ہزار شکایتیں لکھی ہیں، سیکڑوں سوال رقم ہیں اور میں کسی ایک کا جواب بھی نہیں جانتا۔

ان غم زدہ چہروں کے بیچ میں ایک آنسوؤں سے بھیگا ایک چہرہ ایسا بھی ہے جس پر ٹھہر ٹھہر کر ایک مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ کوئی روتے میں ہنستا کیسے ہے میں نہیں جانتا۔ پر شاید دکھ کے ان دنوں میں یادوں کی بہتی ندی سے کوئی ایک لہر شاید ایسی دل پر دستک دیتی ہے جس میں ہنسی کا کوئی لمحہ کہیں چھپا ہوا ہے۔ شاید وہ لمحہ جب اس کے بھائی نے پیچھے سے آ کر اس کی چٹیا کھینچی تھی۔ یا شاید وہ لمحہ جب اس کے کرکٹ میچ دیکھنے کے دوران اس نے چینل بدل کر اسے ریموٹ کنٹرول دینے سے انکار کر دیا تھا اور پھر خوب ہنگامہ مچا تھا۔ یا شاید ان لمحوں میں سے کوئی ایک پل جب دوسرے رشتے داروں کی نقلیں اتارتے ہوے سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے تھے۔ یا پھر وہ دن جب لطیفے سنانے کا مقابلہ ھوا تھا یا پھر وہ رات جب اس نے چپکے سے اندھیرے کمرے میں اسے بھوت بن کرڈرایا تھا۔ چڑانا، دھمکانا، شکایتیں لگآنا،ناراض ہونا، لڑائی کرنا، ایک دوسرے کے راز کھولنا، روٹھنا، منانا۔ ۔۔بھای بہن کی زندگی میں کتنا کچھ سانجھا ہوتا ہے۔ میں جانتا ہوں پر بھائی کی جوان لاش دیکھ کر بہن کیا سوچ سکتی ہے، میں نہیں جانتا۔ وہ آنسوؤں کی برسات میں کبھی کبھی پل دو پل کے لئے کیسے مسکراتی ہے، میں نہیں جانتا۔

میں بہت کچھ نہیں جانتا۔ کفن کی سفیدی پر لہو کی سرخی کیسی لگتی ہے، میں نہیں جانتا۔ اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ وقت گزارنا کیسا تجربہ ہے، میں نہیں جانتا۔ موت کے سایے میں زندگی کرنا کیونکر ممکن ہے، میں نہیں جانتا۔ دیواروں سے سر ٹکرانا اور بے حسی کے طوفانوں میں کشتی کھینا کتنا مشکل ہے۔ میں نہیں جانتا۔ نفرت اور جہالت کے ہاتھوں بخشی ہوئی موت کا لمس کیسا ہوتا ہے، میں نہیں جانتا۔ رنگ، نسل اور عقیدے کی بنا پر کوئی کافرکیونکر ہوتا ہے، میں نہیں جانتا۔ بسوں سےاتار کر لوگوں کو گولیوں سے کیسے بھونا جاتا ہے، سر کیسے کاٹے جاتے ہے، نہتوں کی لاشیں گرا کے جنّت کیسے کمائی جاتی ہے، میں نہیں جانتا۔ اور جب یہ سب کچھ ہوتا ہے توآسمانوں سے عذاب تب کیوں نہیں اترتے، زمین الٹ کیوں نہیں جاتی، دریا بپھرتے کیوں نہیں،پھاڑ ریزہ ریزہ کیوں نہیں ہو جاتے، کیا قیامت کچھ اور بھی ہوتی ہے، میں نہیں جانتا

اور تم، تم بھی نہیں جانتے۔ تم اور میں جاننا بھی نہیں چاہتے کیونکہ ہمارے بچے ابھی جیتے ہیں، ہمارے گھر خوشیاں ابھی ناچتی ہیں، ہماری بیٹیاں ابھی ہنس سکتی ہیں۔ ہمارے بیٹے ابھی ہماری انگلی پکڑ کر چلتے ہیں۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کے سر پر چادر ابھی ٹھہری ہوئی ہے، ہمارے بھائیوں کے شملے ابھی اونچے ہے، ہمارے باپ کی دستار کے پیچ و خم ابھی سلامت ہیں، ہماری بیویوں کی چوڑیاں ابھی کھنکتی ہیں۔ ابھی ہمارے جسم زندگی کی حرارت سے دمکتے ہیں پر میں نہیں جانتا کہ کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔تو ڈرو اس دن سے جب یہ سیلاب بلا ہمارے گھروں کے اندر آے گا۔ جب ملبوس کی جگہ کفن لے لے گا۔ جب ہمارے کاندھوں پر ہمارے اپنوں کی لاشیں ہوں گی اور جب ہم بھی انھیں مٹی میں اتار نہیں پائیں گے۔ڈرو اس دن سے جب نفرت، جہالت، تنگ نظری اور تعصّب کا یہ بھیانک عفریت ہمارے اپنے گھر میں یہ لہو کھیل کھیلے گا۔ جب موت ناچے گی اور آنکھیں روئیں گی۔ اور اس دوران جب تم اور میں ان پرانے سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہیں تو اس منظر کے سارے کرداروں کی آنکھوں میں ایک نیا سوال لکھا گیا ہے ۔ یہ پوچھتی ہیں کہ کب تک قاتل شہید ٹھہریں گے۔ کب تک ان کے جرم کا بوجھ ان کے کندھے اٹھائیں گے اور کب تک ان کے گناہوں کا کفارہ ان کے خون سے ادا ہو گا ۔ افسوس میں اس سوال کا جواب بھی نہیں جانتا ۔ ۔ ۔ ۔

پرسوں چارسدہ غم کناں تھا ۔ کل پشاور لہو ہوا تھا ۔ آج شہر نگاراں، میرا شہر، میرا لاہور خوں رنگ ہے۔ کوئی ناصر کاظمی کو بلائے ۔ دکھائے کہ اس کے شہر کی ہواوٗں میں اب بارود کی بو بسی ہے، اس کی گلیوں میں نفرت کا آسیب ناچتا ہے ۔ اس کی فصیلوں پر اداسی بال کھولے سوتی ہے۔ رونقیں آباد نہیں رہیں ناصر۔۔۔ نہیں رہیں ۔ اب نوحے لکھو کہ موت کے رقص کو روکنے والے مدہوش ہیں اور شہر ہے کہ بھسم ہو گیا ہے ۔ محبتوں کی خاک گلی گلی اڑتی ہے ۔ اور میں بس رو ہی سکتا ہوں ۔ سایہ گل ڈھونڈتا ہوں پر آج تو پورا گلشن ہی جل گیا۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad