دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔۔۔۔؟


husnain jamal (3)دہشت گرد اب بھاگ رہے ہیں۔ یار انعام رانا، میرا ملک اب محفوظ ہونے والا ہے، ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ میرا خوب صورت ملک اور اس کے پیارے لوگ بغیر کسی ڈر کے اور بغیر کسی خوف کے آزرادی سے باغوں میں گھومیں گے، پھریں گے۔ ہمارے بچے یہ سوال نہیں کریں گے کہ بابا، یہ دھماکے بھارت نے کرائے یا طالبان نے۔ انہیں وقت سے پہلے اتنی عقل ہم ہی نے دی ہے یار، کیا کریں بھگتنا پڑے گا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہیں، ہماری باتیں سنتے ہیں۔

خیر،  تو اس وقت تم کہو گے کہ مجھے خوشی ہے کہ میں پاکستان میں رہتا ہوں۔ ایسا کب ہو گا، شاید میں تب تک نہیں ہوں گا، کیوں کہ فی الحال تو بھاگتے دہشت گردوں میں بھی اتنا دم موجود ہے کہ میرا ہر اگلا سانس مجھے ایک نعمت لگتا ہے۔ ہاں یار میں ڈرپوک ہوں، مجھے زندگی سے پیار ہے۔ مجھے اپنے بیوی بچوں، دوستوں اور پیارے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے، مجھے پودے پسند ہیں، میں درختوں کو چار چار گھنٹے مسلسل دیکھ سکتا ہوں، مجھے جانور، کیڑے مکوڑے، ہر زندہ چیز سے پیار ہے۔ باوجود روز روز کے نئے جھمیلوں کے، زندگی بہرحال ایک مزے کی چیز ہے۔ لیکن رانا، یار آج کتنے لوگوں کو ادھر ایک بم دھماکے نے اس زندگی سے محروم کر دیا۔ وہ بھی درختوں کو دیکھنے آئے ہوں گے، انہیں بھی چٹ پٹے کھانے پسند ہوں گے، کئی تو بے چارے بچوں کی فرمائش پوری کرنے انہیں لائے ہوں گے۔ کتنے بچوں کے ہاتھ میں غبارے ہوں گے اس وقت۔ کتنے بچے تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہوں گے۔ کتنی مائیں بچوں کو جھک کر پیار کر رہی ہوں گی، اور یہ سب فنا ہو گیا یار، صرف ایک دھماکا !

adnan-khan-kakar-mukalima-3کتنے خیال، کتنے خواب، کتنی محبتیں، کتنی حسرتیں، سب مٹی میں مل گئے۔

عدنان کاکڑ! یار ہم جتنا مرضی لکھتے رہیں، اپنے ہاتھ لکھ لکھ کر گھسا لیں، روز نیا بلاگ، ہر دن نیا کالم لکھیں، لوگوں سے نظریاتی بحثیں کرتے رہیں، کچھ ہونے والا نہیں ہے یار۔ میں اتنا مایوس ساری زندگی میں کبھی نہیں ہوا۔ یا شاید پہلے میں ٹی وی ہی نہیں دیکھتا تھا اس لیے ایسا ہوتا ہو گا۔  آج ایک دن میں مجھے وہ کچھ دیکھنا پڑ گیا ہے کہ جو چلو بھر پانی کے بغیر ہی مجھے ڈبو کر مارے جا رہا ہے۔ ہم ساری زندگی یہی پڑھتے آئے کہ ہم وہ ہیں جو امن بانٹنے والے ہیں، ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں تو وہ بھی سلامتی کا پیغام ہوتا ہے، لیکن کدھر گئی وہ ساری سلامتی؟ جنید جمشید بے چارہ جو اپنی طرف سے نیک کام میں لگا تھا، دیکھو یار کیا ہوا اس کے ساتھ، کیسے بے چارے کو جان کے لالے پڑ گئے۔ پھر آج ہی کے دن یہ دھماکہ ہو گیا، کتنے خاندان لٹ گئے، پھر اسلام آباد میں دیکھ لو، ہم وہ گنجے ہیں جنہیں خدا نے اتنے بڑے ناخن دے دئیے ہیں کہ ہم مجبور ہیں اپنا منہ نوچنے پر، ساتھ والوں کو کاٹ کھانے پر اور جو بچ جائے ہم اسے زبان سے مار ڈالتے ہیں۔ کاکڑ، اندازہ کرو یار، لوگ اب بھی مسئلے پوچھ رہے ہیں کہ مسیحیوں کی موت پر کیا ہم انا للہ کا تعزیتی کلمہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

farnood

فرنود، دادا تم اپنے لوگوں میں عقل بانٹتے بانٹتے تھک جاو گے لیکن یہ ہر روز ایک نیا محاذ کھول لیں گے۔ جو مرضی کر لو دوست، اب کچھ امید باقی نہیں ہے۔ میں نے یہ بیان کتنے ہی لوگوں سے سنا، جو اس خط کا عنوان بھی ہے، کہ دہشت گرد بھاگ رہے ہیں، لیکن یار، ہم وہ فتنہ ساز لوگ ہیں کہ بھاگتا ہوا ایک دہشت گرد ہمیں سو نئے دہشت گرد دے کر جا رہا ہے۔ کس کس سے لڑیں گے ہم، کہاں تک اکیلے اپنی بانسری بجاتے رہیں گے، کب تک ایسے ہی معذوروں کی طرح بستر پر لیٹ کر لکھے جائیں گے، لکھے جائیں گے، لکھے جائیں گے، پھر ایک دن ہماری بھی سناونی آ جائے گی، بس! اس سے زیادہ اب کچھ نہیں ہونے والا۔ ہر ادارہ اپنی جگہ پھنسا ہوا ہے، کیا حکومت، کیا فوج، کیا میڈیا، کیا عدالت، یار یہ حالات کسی کے قابو میں آنے والے نہیں، شاید ہماری اٹھان ہی غلط تھی، یا شاید ہمارے خمیر میں فتنے گوندھے گئے ہیں!

وجاہت بھائی، آپ دیکھ لیں، یہ سب اس نصاب کا پیدا کیا فتنہ ہے جو آج ہمارے سروں پر مسلط ہے۔ وہی نصاب جس کے خلاف ہر آپ سمیت ہر ذی عقل کب سے دھائیاں دیتا چلا آ رہا ہے۔ کیا لاہور، کیا اسلام آباد کیا کراچی، بھائی یہ سب ہماری نسل کے وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی عظمت کا zafar kakarاحساس دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے۔ ہم لوگ اس عظمت اور اس بڑائی کو پانے کی خاطر اپنے ہی لوگ مار رہے ہیں، اپنے ہی دوستوں کو پکڑ کر پیٹ رہے ہیں، اپنی ہی املاک کو جلا رہے ہیں۔ کچھ نہیں بدلنا بھائی، وہ جو انعام رانا کو امید دلائی ہے، وہ بھی اس لیے کہ یار جو کچھ بھی ہے، زندگی تو ادھر ہی ہے نا، جتنی بھی ہے، آپ کی بھی اور میری بھی، تو بس سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود یہ امیدیں لگانا آپ ہی سے سیکھا ہے بھائی، دیکھیے، سانس باقی، آس باقی!

ظفر اللہ خان، یار تم کتنے مہذب انسان ہو، تمہاری تحریر، تمہارا انداز بیان، دونوں پڑھ کر اور دیکھ کر میں یہ سوچتا تھا کہ اگر دو ہزار انسان اسے پڑھتے ہیں تو وہ کیسے اس کی بات کے اثر سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن وہ بچ جاتے ہیں یارا! یہ سب ان کے اوپر سے یوں پھسلتا ہے جیسے چھتری پر سے بارش کے قطرے۔ ظفر اللہ، یار میرے لاہور میں آج اتنے لوگ مر گئے، میرے جیسے، ان سب کے بھی بچے، بیویاں، شوہر، بھائی، بہنیں، ماں، باپ تھے، وہ کس حال میں ہوں گے یار، وہ مسیحی تھے یا zeeshan hashimمسلمان، وہ میرے وجود کا حصہ تھے، وہ مر گئے۔ بس اب ٹی وی کے آگے بیٹھ کر لاشوں کی گنتی میں اضافہ دیکھ رہا ہوں۔ کیسا کم ظرف ہوں میں، ایسٹر کی مبارک باد تک نہیں دے سکتا، کس منہ سے دوں مجھے بتاو؟

وصی بابے، یارا شغل بہت ہو گیا، مجھے اب کوئی ایسی خبر دے یار کہ آج کے بعد کوئی بم دھماکہ نہیں ہو گا، کوئی بندہ ایسے نہیں بچھڑ جائے گا اپنوں سے، ایک دم! بابے، مجھے معلوم ہے یار تو پرانا صحافی ہے، خبروں میں رہتا ہے، میری طرح جذباتی نہیں ہو گا، لیکن یار آج کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا؟ اوپر تلے ایسی بھیانک خبریں، کدھر جائیں بابے، کوئی اچھی خبر سنا دے یار!

ذیشان ہاشم، تم ٹھیک کہتے تھے بھائی۔ تمہاری ساری باتیں درست تھیں۔ مگر ان سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہم سب آج بھی وہیں ہیں جہاں ایک سال پہلے تھے، ایک سال بعد بھی یہیں ہوں، ایک صدی بعد شاید نہیں، انعام رانا کو بھی تو واپس لانا ہے نہ یار!

waqar ahmad malikویسے آج اتوار تھا، ایسٹر بھی تھا، خواتین بل والا الٹی میٹم بھی آج ختم ہو گیا، شاید اسی لیے چہلم کو اٹھائسویں دن پر ہی کھینچ لائے یہ لوگ، اور پھر یہ دھماکہ بھی آج ہی ہمارے نصیب میں تھا، ذیشان ہاشم، جاو یار تم تو میرے ملتان میں ہی ہو، شاہ شمس کے مزار پر جا کر منت ہی مان لو کہ یہ سلسلے رک جائیں، کچھ کر دو بھائی، کچھ تو ایسا کر دو۔

وقار ملک، آج میں تمہاری طرح لفظوں میں رو رہا ہوں دوست، وہ مقام جو تم نے بہت پہلے پا لیا تھا، آج میں وہاں تک پہنچ گیا یار، شاید اس لیے کہ اب میں بھی ٹی وی اور اخبار دیکھتے رہنے پر مجبور ہوں۔ کب تک ریت میں منہ چھپاتا، باہر آنے پر سورج تو پھر آنکھوں میں ہی چبھے گا نا۔ کوئی پہاڑی وادی کا قصہ لکھ دو یار جلدی سے، کوئی اچھی سی محفل، کوئی پرانی یادیں۔ کہیں تو بہر “بشر” آج ذکر یار چلے!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 143 posts and counting.See all posts by husnain

8 thoughts on “دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔۔۔۔؟

  • 28-03-2016 at 3:03 am
    Permalink

    پیارے حسنین جمال سب کچھ اسی طرح رہے گا بلکہ اس سے بھی برا وقت آئے گا اور مجھے اس لمحے سے خوف آ رہا ہے جب میں اپنے دل کی بات آپ سے بھی نہیں کر سکوں گا اور مجھے شاکر حسین شاکر ، قمر رضا شہزاد ، وجاہت مسعود اور نوازش علی ندیم کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے بھی خوف آنے لگے گا ۔ حسنین وہ وقت بہت قریب ہے اور میں اس سے پہلے ہی کسی دہشت گرد کے ہاتھوں مرنا چاہتا ہوں

    • 28-03-2016 at 10:31 am
      Permalink

      بس ایسا ہی سر، واقعی وہ وقت قریب ہے۔ ابھی تو نہ جانے کتنی فصل اور کاٹنی ہے!

  • 28-03-2016 at 5:17 am
    Permalink

    بس آگے ایک لفظ مت کہنا دم نکل جائے گا

    • 28-03-2016 at 10:36 am
      Permalink

      خدا سلامت رکھے بھائی

  • 28-03-2016 at 10:04 am
    Permalink

    جولائی ۲۰۱۰ میٰ لاھور کی دو “عبادت گاھوں” میں “عبادت” کرنے والے مارے گئے تھے تب حکومت اور میڈیا نے کیا کار نمایاں یا تھا جو اب کوئی توقع کی جائے۔ اب تک میں اردو اور انگریزی میں کل کے قوعہ کے متعلق لگ بھگ بیس مضمون پڑھ چکا ہوں، کسی میں صرف چھ برس پہلے کے واقعے کا ضمناً بھی ذکر نہیں ملا۔

    • 28-03-2016 at 10:29 am
      Permalink

      آداب،

      ہم لوگ تو سر طالب علم ہیں۔ صدمے کے زیر اثر جو ذہن میں آیا وہ لکھ دیا۔ آپ بجا فرماتے ہیں۔ تمام دوستوں کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کی ضرورت ہے۔ واقعی وہ بھی المناک واقعہ تھا۔
      آپ کا فیڈ بیک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے سر، مجھ جیسے سبھوں کے لیے۔
      بہت نوازش
      نیاز مند

  • 28-03-2016 at 11:40 am
    Permalink

    بھائی حسنین جمال! امر واقعہ یہ ہے کہ دہشت گرد واقعی بھاگ رہے ہیں. البتہ ہمارا اس خوش فہمی میں مبتلا ہونا کہ وہ ڈر کر بھاگ رہے ہیں غلط ہے. اصل صورت حال اس کے برعکس ہے. وہ تو ہمارے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور جہاں چاہے ہمارے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے ایسٹر منا کر مذہبی ہم آہنگی کا عدیم المثال مظاہرہ کرتے ہیں.

  • 29-03-2016 at 2:28 am
    Permalink

    کیا پارک میں مرنے والے سبھی عیسائی تھے؟اور اگر وہ سبھی عیسائی بھی تھےان بھی کیا لازم ھے کہ یہ کہا جائے کہ عیسائی مار دیئے گئے؟انسان کہاں گئے۔۔۔انسان نئیں تھے کیا وہ؟یا ون جو مسلمان مار دیئے جاتےہیں وہ انسان نہیں ھوتے۔۔خدارا جوش میں آئیے نے تو مارنے والے مسلمان ھیں نہ مرنے والوں کا جرم کسی مذھب سے تعلق ھے۔۔خدارا اپنے قلم کو اور دماغوں کو بہکنے سے بچائیں۔۔۔تعصب سے نفرت سے ۔۔۔
    کچھ تو امن کی بات کریں۔۔۔

Comments are closed.