کراچی بنامِ لاہور


ghayyur ali khanمیرے سوہنے ویر

بھرا کا سلامِ محبت قبول ہو

مجھے علم ہے کہ اگر یہ خط کسی اور سمے لکھتا تو شاید تم شکایتوں کا ایک بھنڈار کھول کے بیٹھ جاتے کہ “اب تک کہاں تھے، کیسے تھے، اپنی خبر کیوں نہ دی، ماں جائے کی دعائیں کیوں نہ لیں؟” مگر آج کے دن تو تم کو اپنی سدھ بدھ بھی نہیں۔ آج تم دم سادھے بیٹھے ہو کہ اُن معصوموں کی نیند نہ ٹوٹ جائے جو ابھی چند گھنٹے پہلے جھولوں میں پینگیں بڑھا رہے تھے۔

گو میں دور سہی پر تیری خوشی غمی  کا سانجھی ضرور ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ ابھی پچھلے دن ہی تو تمھاری گود میں کچھ بچوں نے رنگوں کی ہولی کھیلی تھی۔  واہ کیا رنگ جما تھا کہ سمجھو اپنی روح بھی پھگوا بننے کو مچل گئی۔  اور آج، آج تو تیرے آنگن میں یسوع مسیح کے چاہنے والوں کی عید الفصح تھی، وہ عید جو زندگی کا استعارہ ہے۔ مگر پھر یہ کیا ہوا کہ جو بدن اولاد نے بسنت رنگ میں بھگویا تھا اس پہ انہی بچوں کے خون کا رنگ چھا گیا۔ حیاتِ نو کا جشن، آتشِ جہل میں جھلس گیا۔

بھائی کی آنکھوں کی ٹھنڈک، مجھے پتا ہے کہ کوئی تسلی، کوئی دلاسا تیرے غمِ بیکراں کا ازالہ نہیں کرسکتا کہ یہ زخم ہی اتنا گہرا ہے کہ اس کا مداوا کچھ نہیں۔ تاہم، ہم اپنے مستقبل کو تو بچانے کے لئے کچھ کرسکتے ہیں کہ دشمن کا گھاؤ چاہے کتنا ہی کاری کیوں نہ ہو، ہمیں اپنی اولاد کے تحفظ کے لیے مضبوط ہونا ہوگا کہ ہماری کمزوری ہمارے بچوں کی ہمت بھی پست کردے گی۔

جانِ برادر، ہمارا کل اِس آج سے وابستہ ہےجو ہمارے بچے جی رہے ہیں، مانا کہ یہ حال بہت بدحال ہے مگر اسی شکستہ پنجر میں ہمیں امید کی روح پھونکنی ہے۔ دیکھ آج کے سانحے نے صرف تیری کمر ہی نہیں توڑی بلکہ تیرے ماہِ کامل جمال گفت کو بھی گرہن لگا دیا ہے۔ وہ حسنین جمال جو تیری گلیوں چوباروں کے قصے سنا کر کراچی والوں کا دل للچاتا ہے۔ جسے پڑھ کر واقعی یہ لگتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ اور اور، اس انعام رانا کا بھی قصہ سن جو تیرے شیر پتر بھگت سنگھ کی مالا جپتا ہے مگر اس بات پہ شاکی ہے کہ شاید اب اُس بسنتی چولے والے کے شہر میں اِس کا کوئی والی وارث نہیں۔

ویرے، تو  اس دھرتی  ماں کی شان ہے،  تو اس دکھ سمے اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھنا کہ  کراچی کیا پورا پاکستان  تیرے غم میں برابر کا شریک ہے۔

فقط  تیرا بھرا

کراچی


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کراچی بنامِ لاہور

  • 28-03-2016 at 9:05 am
    Permalink

    واہ میرے غیور۔ بے شک یہ وقت بھائی کے بھائی کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے

  • 28-03-2016 at 9:17 am
    Permalink

    ” اور اور، اس انعام رانا کا بھی قصہ سن جو تیرے شیر پتر بھگت سنکھ کی مالا جپتا ہے مگر اس بات پہ شاکی ہے کہ شاید اب اُس بسنتی چولے والے کے شہر میں اِس کا کوئی والی وارث نہیں۔”
    بھائی جان آپ کے تمام جذبات نہایت قابل قدر ہیں۔ ہمارے دکھ میں شریک ہونے کا بہت شکریہ۔۔
    لیکن بھگت سنگھ والی بات محل نظر ہے۔ وہ انتہا پسند دہریہ سکھ،، کبھی لاہوری یا پنجابی مسلمانوں کا ہیرو تھا نہ ہو گا۔
    بھیا اب تو اسے بھارت دیش میں بھی شاید ہی کوئی یاد کرتا ہے۔ اسی حقیقت کا رونا بھارت کے سب سے سینئر ،،، اور پنجابی شرنارتھی،،، کالم نگار کلدیپ نائر نے بھی اپنے کالموں میں رویا ہے۔ یقین نہ آئے تو رانا صاحب یا حسن معراج صاحب کے کالموں پر کمنٹس میں موجود لنکس فالو کر لیجیے۔
    بھائی پنجابی ہندو اور سکھ کبھی بھی سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کے ساتھ نہیں رہے۔3 جون 1947 کے منصوبے میں میں پنجاب اور بنگال کے غیرمسلم اکثریتی علاقوں کے نمائندوں کو پاکستان میں شامل ہونے یا ان صوبوں کو تقسیم کروانے کی آپشن دی گئی تھی۔ ہندووں اور سکھوں نے خود دیس پنجاب اور بنگالی ماتا کے دوٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس پر ان دونوں خیالی ماتاؤں کی سرجری عمل میں آئی۔

  • 28-03-2016 at 9:48 am
    Permalink

    عبداللہ نور
    میرے بھائی، آپ نے کراچی کا پرسہ قبول کیا، بہت مہربانی۔ ابھی میرا لاہور بارِ الم سے نڈھال ہے تو بھگت سنگھ کی بات پھر کسی موقع کے لئے رکھ چھوڑیں۔

Comments are closed.