لاہور کا نوحہ، دشمن کو للکار


inam-ranaکس قدر کرب سے میں نے لکھا تھا کہ دس برس میں پہلی بار یہ احساس ہوا ہے کہ شکر ہے میں پاکستان میں نہیں رہتا۔ میں اس لاہور میں نہیں رہتا جو اب بھی میرے اندر رہتا ہے۔ مگر کیا کرتا میرا بچپن میرے ہاتھوں میں زخمی تھا اور میری جوانی کا دامن خون آلود تھا۔ میں پہلی بار نہیں رویا۔ میں تب بھی رویا جب ڈمہ ڈولا میں معصوم بچے مارے گئے۔ تب بھی چیخا جب پشاور میں سکول کے معصوم بچے اپنے ہی خون میں نہلائے گئے۔ میری سسکیاں ان کے لیے بھی ابھریں جو زندہ جلائے گئے اور ان کے لیے بھی جو اپنے جرم سے بے خبر مارے گئے۔ مگر اب کے میں ٹوٹ گیا کہ میرا بچپن زخمی ہوا اور میری یادیں جھلس گئیں۔ کہتے ہیں عیسائیوں پر حملہ ہوا اور کچھ مسلمان بھی مارے گئے۔ مگر میں تو جانتا ہوں کہ میرے 23 بچے مارے گئے۔ پیارے حسنین، تم نے میری چیخ سنی اور مجھے دلاسہ دیا، آو زرا تمھیں اپنا لاہور دکھاؤں۔

12895391_10154069503456667_845000838_nمیرے والدین کو ہمیشہ بہت شوق تھا ہم بچوں کو پکنک پر لیجانے کا۔ تب میکڈانلڈ اور پیزا ہٹ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی فیس بک تھا کہ بچے ڈھونڈنے کیلیے گھر کا راوٹر بند کرنا پڑے۔ ہم کو تقریبا ہر جمعہ مختلف پارکوں اور تاریخی مقامات پر سیر کیلیے لے جایا جاتا تھا اور ان مقامات کی تاریخ سے آگاہ کیا جاتا۔ کچھ ہی برسوں میں میرے والد جج بن گئے اور ہم پنجاب کے مختلف شہروں میں بستر اٹھائے پھرنے لگے۔ مگر لاہور کو ہمیشہ اپنے ساتھ لیے۔ گو میں بہت چھوٹا تھا مگر تب سے جہانگیر کا مقبرہ، کامران کی بارہ دری، شالا مار باغ، جلو، داتا صاحب اور گلشن اقبال میرے دل میں ایسے بس چکے کہ اب بھی جب چاہوں، لندن میں بیٹھا آنکھیں بند کرتا ہوں اور اپنے مرحوم والد کے ساتھ ان کی انگلی پکڑے ان جگہوں کی سیر کرتا ہوں۔ اسی گلشن اقبال میں، جو بڑا ماڈرن سا پارک تھا تب، میرے بچپن کے کئی دن گزرے ہیں۔ گو کچھ نوجوانی کی ساعتیں بھی ہیں، مگر بچپن 12900078_10154069504061667_1041040240_nہمیشہ زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ انھیں جھولوں پر میرے والد مجھے گود میں لے کر بیٹھے ہیں۔ یہ جو آج جا بجا کھانے پینے کی چیزیں بکھری نظر آتی تھیں نا، میں اور میری بہنیں بھی انھیں کھانے کی ایسے ہی ضد کرتے تھے اور ماں باپ کو مجبور کر دیتے تھے۔ مگر تب ان میں خون نہیں ملا ہوتا تھا۔ بہار میں گلشن اقبال کے جن پھولوں کی خوشبو میں لندن کے ٹھٹھرتے مارچ میں بھی سونگھ لیتا تھا، تب ان سے بارود کی بو نہیں آتی تھی۔

میں بہت چھوٹا تھا نا، کوئی چار پانچ برس کا تو اک بار اسی گلشن میں گم گیا۔ یوں گما کہ صرف مجھے پتہ تھا کہ میں گم ہو گیا ہوں کیونکہ جھولوں کو دیکھتے دیکھتے یہ یاد نہ رہا کہ میرے امی ابو کہاں بیٹھے ہیں۔ حسنین، سوائے اپنے ابا کی میت کو اٹھا کر بھاگنے کے میں کبھی اس اذیت سے نہیں گزرا جس سے اس وقت گزرا۔ خوف کیا ہوتا ہے اس دن شاید پہلی بار محسوس کیا جب میں پوری شدت سے روتے ہوے بھاگتے ہوے اپنے امی ابو کو ڈھونڈتا تھا۔ وہ پانچ سات منٹ میری پوری زندگی بن کر بیت گئے تھے۔ اسی پارک میں اک بار میری بہن گم گئی تھی۔ میں نے جیسے اپنے ماں کو روتے ہوے اور باپ کو تڑپتے ہوے اسے تلاش کرتے دیکھا تھا، کیا بتاؤں۔ آج جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھاگتے دیکھا، ماں باپ کو روتے دیکھا تو مجھے لگا جیسے وہ بھی گم گئے۔ جیسے وہ اک دوجے کو ڈھونڈتے دوڑتے ہیں، مگر شاید ہمیشہ کے لیے 12884335_10154069508411667_42494085_nگم گئے ہیں۔ مجھے لگا کہ ان کے ساتھ ہی میرا بچپن بھی گم گیا ہے بارود کے دھویں اور خون کی بو میں۔

میرے پیارے حسنین۔ آپ کی اس تحریر میں اتنا ہی کرب ہے جتنا مجھے یہ کہتے ہوے ہوا کہ شکر ہے میں پاکستان میں نہیں رہتا۔ میں سکتے میں تھا مگر تیرا لکھا نوحہ پڑھ کر رو پڑا۔ میرے یار تو نے وہ نوحہ لکھا ہے لاہور کی کربلا پر کہ جی کرتا ہے پڑھوں اور چھاتی پیٹوں، گریہ کروں۔ میں ان معصوموں کے تابوتوں کے سامنے مصائب پڑھوں اور انکے ساتھ ہی اپنا زخمی بچپن زندہ دفنا دوں۔ مگر نہیں دوستو، حسنین کے یہ الفاظ اور یہ جذبات گریہ و ماتم کر کے ضائع کرنے کے نہیں، بلکہ اک حوصلہ پکڑنے کے کام آئیں گے۔ جو دشمن ہم کو ہرانے آیا تھا خود ہار گیا۔ کیا آپ نے ہسپتال دیکھے جہاں مذہب و مسلک کی تفریق کے بغیر ہر لاہوریا، ہر پاکستانی خون دینے کھڑا تھا؟ نہ وہ خوفزدہ تھے 12920926_10154069510466667_1831520426_nنہ شکست خوردہ۔ ہماری زندہ دلی کی خیر کہ وہ ہمارا بانکپن ہے۔ بھاگتے دشمن کو خبر ہو کہ ہم نے اپنے بچوں کی لاشوں کو وہ آئینہ بنا دیا ہے جس میں ہم نے اپنا حوصلہ بھی دیکھا اور تمھاری شکست خوردہ مکروہ شکل بھی۔ دوستو آو ہم سب مل کر ایک خواب دیکھیں؛ امن کا، رواداری کا، عزت کا، عدل کا، فتح کا۔ ایسے پاکستان کا کہ جس میں بارود کا غبار نہ ہو اور خون کی بو نہ ہو۔ جس میں دہشت نہیں محبت اور تفریق نہیں اتحاد راج کرے۔ میں لاہور میں نہیں لیکن میرا لاہور مجھ میں زندہ ہے؛ آو دوستو وعدہ کریں کہ یہ لاہور کبھی مرنے نہیں دیں گے، یہ پاکستان کبھی ہارنے نہیں دیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

4 thoughts on “لاہور کا نوحہ، دشمن کو للکار

  • 28-03-2016 at 9:41 am
    Permalink

    چھ برس ہوئے یکم جولائی ۲۰۱۶ کو لاہور نےایک اور ایسا ہی بھیانک دن دیکھا تھا۔ اس موقعہ پر اسے بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔ اور یہ بھی کہ ارباب اقتدار نے اس سلسلہ میں کیا کیا تھا اور میڈیا نے کیا دلچسپی دکھائی تھی۔

  • 28-03-2016 at 9:52 am
    Permalink

    بہت قابل قدر خیالات ہیں۔
    البتہ لاہور کے واقعے پر عوام کا نہایت حوصلہ افزا ردعمل کوئی نئی چیز نہیں۔ ہر بڑے سانحے کے بعد عوام ایسا ہی کرتے ہیں۔ اور ہم اس خوش گمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اب دشمن کو حملہ آور ہونے کی جرات نہ ہو گی۔ لیکن جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں گزرتے کہ جسدِ ملّی پر ایک اور کاری چرکا لگا دیا جاتا ہے۔ اسکے بعد پھر وہی عوامی جوش، جذبہ،،،،،اور سیکورٹی اور سیاست والوں کے وہی بلند بانگ دعوے،،،، دشمن کی کمر پچھترویں بار توڑ ڈالنے کا کھوکھلا عزم۔
    بھائی،
    امن، رواداری، عزت، فتح وغیرہ وغیرہ کا خواب بہت مسحور کن ہے لیکن اسکی تعبیر صرف اور صرف ایک چیز کی فراہمی پر منحصر ہے،،، اور وہ ہے عدل و انصاف۔۔۔ اور اسکے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے،،،، معاشرے کے ہر شخص اور ادارے پر بلا امتیاز قانون کا یکساں نفاذ،،، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم۔۔۔۔
    جب تک یہ نہیں ہو گا،، مجھے افسوس ہے کہ ہمیں مستقبل قریب و بعید میں ایسے مزید سانحات اور خون دینے کے مواقع ملنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ہو گا۔

  • 28-03-2016 at 8:14 pm
    Permalink

    زندہ دلان لاہور کو سلام اس سانحہ نے انکے عزم وہمت کو دو بالا کیا ہے، آپکی یہ تحریر اس عزم و حوصلہ کو جلا دیتی ہے مگر رانا کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ ہم دیکھیں کہ اس قوم کی نفسیات کیا ہیں اسے کسی ماؤزے تنگ یا کاسٹرو کی ضرورت ہے جو قوم کو قوم بناسکے یہ جمہوری نظام دنیا کا سب سے بہتر نظام ہے مگر اس قوم کو سیدھا کرنے اور صحیح رخ دینے کیلئے کسی حجاج بن یوسف کے ضرورت ہے کم از کم دس سال مکمل مارشل لاء پوری دنیا سے آنکھیں بند کرکے صرف اس ملک وقوم کو بنانے اور اٹھانے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور کسی انسانی حقوق کے تحفظ کے ٹھیکیدار کی پرواہ نہ ہو کیا آپ اس کیلئے تیار ہیں؟

  • 29-03-2016 at 8:47 am
    Permalink

    “عیسائیوں پہ حملہ ھوا۔۔۔۔۔اور کچھ مسلمان بھی مارے گئے۔”۔حملہ آور خود کش بمبار تھا۔۔جس کا شناختی کارڈ بھی مل گیا۔۔۔کتنا آسان ھے نا حقیقت سے نظریں چرالینا۔۔

Comments are closed.