سندھ اسمبلی میں ملزمان کو آزاد کرانے کا بل کثرت رائے سے منظور


sindh assemblyسندھ اسمبلی نے قید ملزمان کو آزاد کرانے کا کریمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2015 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2015 پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ منظور بل کے متن کے مطابق قانون میں ترمیم کے بعد حکومت کسی بھی ملزم کو رہا کرسکتی ہے، اس کے علاوہ ریاست انسداد دہشت گردی سمیت تمام عدالتوں میں زیرسماعت مقدمہ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جب کہ پراسیکیوٹرجنرل یا پبلک پراسیکیوٹر مقدمہ ختم کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائےگا، ریاست کو قانون نافذ کرنے والے کسی بھی ادارے سے کسی بھی کیس کی تفتیشی رپورٹ حاصل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سندھ حکومت کے منظور کردہ بل کی شدید مذمت کی گئی۔ ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ بل منظور کر کے حکومت نے اپنی اجارہ داری قائم کردی، حکومت اتنا ظلم کرے جتنا خود برداشت کر سکے، صوبائی حکومت اس بل کے ذریعے حکومت اپنی کرپشن کو چھپانا اور ملزمان کو رہا کرانا چاہتی ہے۔
فنکشنل لیگ کی نصرت سحرعباسی کا کہنا تھا کہ زرداری لیگ نے جس طرح پہلے اپنے مفادات کے لئے کالے قانون پاس کرائے اسی طرح آج بھی یہ قانون پاس کرایا گیا، یہ لوگ اسمبلی نہیں اوطاق چلا رہے ہیں، سندھ حکومت اپنی مرضی سے چلتی ہے اور اپنی مرضی سے ہی قانون پاس کرتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments