گلشن اقبال…. ایک دوست مگر زخمی پارک کی کہانی


 samina ansariگلشن اقبال میرا پارک ہے۔ میں نے اب تک اپنی زندگی کے چھے گھنٹے اسی پارک میں گزارے ہیں۔ وہ پارک جہاں میں نے بے پناہ محبت پائی۔ آج زخمی ہے۔ محبت سے مراد صرف جسمانی لطف تو نہیں۔ محبت تو کئی قسموں کی ہوتی ہے۔ محبت تو قدرت کی لطافتوں و کثافتوں کو محسوس کرنا بھی ہے۔ جہاں یہ دونوں ملیں اپنی خوبصورتی کے جلوے دکھائیں آپ اسی زمیں کے ٹکڑے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ میرے عزیز پارک تم میرے ایسے دوست ہو جو میرے راز جانتے ہو۔میں کتنی اُداس تھی۔ تم نے اپنے اندر میری اداسی سمولی تھی۔ میں جینا چاہتی تھی اور تم نے اپنے جلووں سے مجھے اپنے دکھ بھلانے اور زندگی کو پھر سے جینے میں مدد دی۔ یاد ہے مجھے۔ میں ڈھیر ساری محبت سمیٹ کر گئی تھی۔ رنگوں کی برسات مجھے پسند ہے۔ چاہے وہ سبز نیلا پیلا سرخ رنگ ہو یا ہستے مسکراتے بچے۔ جھیل بھی اس دن کچھ گہرے رنگوں میں تھی۔ بطخیں اپنے گیت گا رہی تھیں۔ زندگی کے ہونے کا پتہ دے رہی تھیں۔ اور بچے انہیں دیکھنے کو بے چین اندر گھسے چلے آتے تھے۔ سرخ گلابوں نے اپنے سر اونچے کر رکھے تھے۔ اور دوسرے پھول بھی سورج چاچا دیکھنے کو بےتاب اپنی پنکھڑیاں کھولے بیٹھے تھے۔ کبھی ہوا تیز چلتی تو کبھی اپنی رفتار دھیمی کر لیتی۔ گویا تم نے جنت اپنی حوروں سمیت میرے قدموں میں ڈھیر کر دی تھی۔ میرے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ یہاں تھے۔ ان میں سے ہر کوئی تجھ میں پناہ لینے کو آیا تھا۔

میرے پارک ، میرے زخمی پارک کل تک تیرے آنگن میں کئی ننھی کلیاں اور کئی چھوٹے چھوٹے گھگو گھوڑے تھے۔ وہ آئے۔ بہت کھیلے۔ بہت ہنسے ہوں گے۔ کئی کو تو چوٹ بھی آئی ہو گی۔ اور کچھ دن بعد شفقت و محبت کے ساتھ وہ پھر سے تیرے آنگن میں کھیلنے آئے ہوں گے۔ میرے پارک۔مرے عزیز مگر زخمی پارک میں آج پھر سے اداس ہوں۔ کیونکہ یہاں محبت شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ کلیاں کھلنے سے پہلے توڑ دی جاتی ہیں۔آج تو زخمی ہے اور تیرے آنگن میں کھیلنے والے بچے دھرتی ماں کی گود میں ہیں۔ جو بچ رہے وہ اسپتالوں میں درد سے کراہ رہے ہیں۔ ننھی معصوم کلیاں ہی تو بچے نہیں۔ ہم بھی تو تیری اولاد ہیں۔تیرے بچے ہیں۔ سبھی زخمی ہیں۔ یہ لوگ اتنے ڈرپوک کیوں ہیں۔خودکشی کرنے والا بزدل ہوتا ہے نا؟ ہم نے اپنی نرسری سے دسویں تک پڑھا۔ خودکشی حرام ہے۔ خودکشی کرنے والا بزدل۔ کیا کوئی ان بزدلوں کو بتائے گا کہ ہم زندہ رہنے والوں میں سے ہیں۔ تم سو بار مارو، تب بھی آنسو پونچھ کر ہم ہنستے ہیں۔ تمہاری ادھ مری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہنستے ہیں اور زندگی جی لیتے ہیں۔
ارے ! وہ دیکھو۔ صبح کی سورج طلوع ہوتے ہی چڑیاں دانہ چگنے پھر سے گھروں سے نکل پڑی ہیں۔ اور کوئل ، ارے! کوئل کہاں گئی۔ ابھی آتی ہی ہو گی۔دیکھو! کبوتریاں بھی تواپنے کبوتروں کے سنگ پَر پھیلائے اڑنے لگی ہیں۔ کوے بھی اپنی کائیں کائیں کرنے آ گئے ہیں۔ سب پرندے یہاں پھر سے دن بھر گنگنائیں گے۔جلد تیرے زخم بھر جائیں گے میرے عزیز مگر زخمی پارک اور ہر دن پھر سے یونہی ہنستے ہنستے شام میں ڈھلنے لگے گا۔


Comments

FB Login Required - comments