جنید جمشید۔۔۔ وہی خِطّہ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں


 farnoodکچھ یاد آتا ہے کہ جسٹس (ر) میاں نذیر احمد صاحب ممتاز قادری کی وکالت میں کیا فرما رہے تھے؟ ہم دوہرائے دیتے ہیں۔ قانون اگر گستاخ کو گستاخ قرار دینے میں ناکام ہوجائے، فرد کو یقین ہو کہ فلاں شخص گستاخ ہی ہے، ایسے میں قتل کردے تو فرد سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ کیوں بھئی؟ کیونکہ قاتل نے ایک تو یہ قتل اشتعال میں کیا اور دوسرا یہ کہ قانون نے گستاخ کے معاملے میں کوتاہی برتی ہے۔ جسٹس صاحب کی اس حاشیہ آرائی کی آسان ترین تشریح تب بھی ہم نے یہ کی تھی جسٹس صاحب کے فارمولے کے مطابق سنی تحریک سے وابستہ کوئی عاشق رسول جنید جمشید کو گستاخ جان کر قتل کردے تو اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جائے۔ ایک اور سابق جج مفتی تقی عثمانی صاحب نے ایک خطبے میں سلمان تاثیر قتل کے معاملے میں کچھ اصول بیان کیئے جن کی رو سے سلمان تاثیر کا قتل سرتا سر غلط تھا۔ اصول بیان کرتے میں خوفِ خدا نے انہیں حصار میں لے لیا، سو اگلی ہی سانس میں کہنے لگے کہ چونکہ ممتاز قادری نے نیک نیتی کی بنیاد پہ ایک قتل کیا تو گمان رکھنا چاہیئے کہ انہیں رسول اللہ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ دونوں جج صاحبان کے فرامین کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ہم پر ان شرپسندوں کی نیک نیتی کا احترام واجب ہے جنہوں نے ہسپانوی سانڈ کی طرح جنید جمشید کو اسلام آباد ائیر پورٹ میں دوڑایا۔ جنہوں نے کل لاھور میں ڈھائی سو انسانوں کو خون میں تڑپایا، وہ اسلام کے ساتھ مخلص تھے، سو گمان اچھا رکھیئے۔ ان سے متعلق بھی حسنِ گمان لازم رکھیئے جنہوں نے پارلیمنٹ کو گھیراؤ میں لے کر نجی و سرکاری املاک کو دھواں کردیا ہے۔ عبیداللہ علیم کہیں سے آ جائیں، کچھ نہیں تو اپنے شعر کا لطف ہی لے لیں

کوئی اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائی

ہمی قتل ہورہے ہیں، ہمی قتل کر رہے ہیں

junaidآج کا سچ یہی ہے کہ جے جے کی آوٹ لیٹ میں لٹکے کسی بیش قیمت کُرتے کے دامن کو پکڑنے والی یہ آگ اندر ہی کے چراغ نے بھڑکائی ہے۔ احباب اب بھی موم بتی مافیا کے تعاقب میں ہیں جبکہ یہ واردات اگربتی مافیا کی ہے۔ اب یہاں جنید جمشید اپنا دوست ہے، نہ بھی ہو تو ہمدردیاں تو اس کے ساتھ ہیں۔ میں کچھ نیا کہنا نہیں چاہتا۔ وہی باتیں آج دوہرانے کا من ہے جو تکرار کے ساتھ جنید جمشید سے ہو چکیں۔ چلو پھر وہی سنگت لگاتے ہیں، تم خاموشی سے سنو، میں بات کرتا ہوں۔

جنید۔! تم اچهے بهلے انسان تهے مگر جانے کیا ہوا کہ “مسلمان” ہوگئے۔ سوچو وہ وقت کہ جب تم ایک انسان کی حیثیت سے اس معاشرے میں جی رہے تهے۔ سب تمہاری عزت کرتے تھے۔ کسی شاپنگ مال سے تم گزرتے تو ہاتھ ملانے کو لوگ مرے جاتے تهے۔ کسی مارکیٹ میں جاتے لوگ احترام میں کهڑے ہوجاتے۔ کسی شاہراہ پر سے گزرتے تو گاڑیوں کے شیشے اتر جاتے۔ بچے بوڑھے جوان سبھی تمہیں فلائنگ سلام سے نوازتے۔ ہر ادارے کے دروازے تم پہ کھلے تھے۔ ہر مدرسے کی اونچی فصیلیں تمہیں مرحبا کہتی تھیں۔ تم گهر پہنچتے تو گفٹ کے انبار ہوتے۔ خطوط کے سلسلے ہوتے۔ خواہشیں ہوتیں، فرمائشیں ہوتیں۔ ملاقات کی درخواستیں ہوتیں۔ خط کسی صدیقی یا فاروقی کا ہوتا گفٹ کسی قادری یا نقشبندی کا۔ خواہش کسی سلفی یا حجازی کی ہوتی اور فرمائش کسی جعفری یا نقوی کی۔ صرف ایک محبت تھی جس کا کوئی مسلک نہیں تھا۔ دیوبندی نے کبهی کافر نہیں کہا۔ شیعہ نے کبهی گمراہ نہیں کہا۔ اہل حدیث نے کبهی مشرک نہیں کہا۔ بریلوی نے کبهی گستاخ نہیں کہا۔تم کسی بهی تقریب میں جا سکتے تهے۔ بلاتمیز رنگ ونسل لوگ تمہارے کنسرٹ میں آسکتے تھے۔ آنے سے پہلے تمہارے مسلک کا نہیں ہوچھتے تھے۔ ایمان نہیں تولتے تهے۔ کیوں؟ کیونکہ تم ابھی ایک انسان تهے۔

کیا اچها وقت تها نا کہ تم ٹوپی کے بوجھ سے یکسر آزاد تهے۔ جب سر پہ ٹوپی تهی ہی نہیں توکون دیکھتا ہری ہے کہ سفید۔ تمہارا سر عمامے کی قید سے آزاد تها۔ جب عمامہ تها ہی نہیں تو کون دیکھتا کہ کتھئی ہے، سفید ہے کہ سیاہ۔ تمہارے چہرے پہ داڑهی نہیں تهی۔ جب تهی ہی نہیں تو کون دیکھتا کہ اہل حدیث کی طرح ایکسٹرا لارج ہے، دیوبندی کی طرح میڈیم سائز ہے، بریلویوں کی طرح مہندی مارکہ ہے، شیعوں کی طرح منی پیک ہے یا پهر مودودیوں کی طرح سمال سائز ہے۔ کسی کو تمہارے بود وباش اور تمہاری وضع قطع میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کیوں؟ کیونکہ تم ابھی ایک انسان تهے۔

تم انسان تهے تو کسی کو تمہاری نماز سے سروکار نہیں تها۔ کوئی نہیں دیکهتا تها کہ تم نیت سینے پہ باندهتے ہو، ناف پہ باندهتے ہو، زیرناف باندهتے ہو کہ سرے سے باندهتے ہی نہیں ہو۔ تم جس مسجد میں چاہتے چندہ دے سکتے تهے۔ کیونکہ تمہارے پیسے نہ شیعہ تهے نہ سنی۔ تمہاری خیرات مصطفی ویلفئیر سوسائٹی، الرشید ٹرسٹ، حسینی کربلا ٹرسٹ اور فلاح انسانیت ٹرسٹ سمیت ہر خیراتی ادارے کے لیے معتبر تھی۔ کیونکہ تمہارے محنتانوں کی کوئی فرقہ ورانہ شناخت نہیں تھی۔ تم کسی بهی مسجد میں جا سکتے تهے۔ کیونکہ تمہارے سجدوں پہ کسی پیشوا کے کاپی رائٹس نہیں تهے۔ تمہاری گاڑی میں کوئی بهی بیٹھ جاتا تها۔ کیونکہ تمہاری گاڑی کے کان میں ابھی کسی نے اذان نہیں دی تهی۔ تمہارے ساتھ کوئی بهی کهانا کها لیتا تھا۔ کیونکہ تمہاری ڈائننگ ٹیبل، ڈنرسیٹ، فریش جوسز، سلاد، رائتہ، باربی بی کیو، بریانی اور نہاری کا کوئی فرقہ نہیں تها۔ تم سے کوئی بھی ہاتھ ملا سکتا تھا تمہیں کوئی بهی گلے لگا لیتا تها۔ یہاں تک کہ کسی بھی مسلک کی پری زاد تم پہ جان چھڑک سکتی تھی۔ کیوں؟ کیونکہ تم ابهی ایک انسان تهے۔

کیوں؟ آخرایسا کیوں تها؟ کیونکہ تم محبت کے گیت گاتے تهے۔ تم پیارکے راگ بکهیرتے تهے۔ تم الفت کے سرتال میں زندگی کا راز ڈھونڈ تے تھے۔ تم شب وصل کے عشوے اور شب ہجرکے غمزے سناتے تهے۔ تم درد اور کرب کی دهنوں پہ احساس کی لے اٹهاتے تهے۔ تم بارود کے ڈھیر پہ کھڑی دکھی خلقت کی توجہ وائلن سے بٹاتے تھے۔ تم خون خون ہوجانے والی شام کا دل بانسری کے سروں سے بہلاتے تھے۔ تم نفرتوں کی اٹھائی گئی دیواروں کے بیچ کہیں گٹار کی دھنیں بکھیرکر جینے کی آس دلاتے تھے۔ تم موسیقی کی آفاقی زبان کے امین تھے۔ تم سر ساگر کی عالمگیر ثقافت کے سفیر تھے۔ تم تو دلوں کے سوز کو اپنے ساز سے ہم آہنگ کرکے انسانیت کو جذبات کے ایک ہی رنگ میں رنگ رہے تھے۔ وہ انسانیت جو دنیاکا سب سے بڑا مذهب ہے۔ وہ مذهب جس کے تم ایک لازوال پیشوا تهے۔اب محبت اور پیارکا کوئی مسلک تو نہیں ہوتانا صاحب۔ شب وصل اور شب فراق کی لہریں کسی فرقے سے تو نہیں اٹهتیں۔ درد اور کرب کے جملہ حقوق کسی طبقے کے نام تو محفوظ نہیں ہوتے۔ سو تم قبول ہوئے اور انسانیت نے تمہاری بلائیں لیں۔

مگر یہ کیا ہوا؟ یوں ہوا کہ تمہیں ایک زاہد کی نظرلگ گئی۔ تم “مسلمان” ہوگئے۔ شب زندہ دار ہوگئے۔ انسان تم سے دور ہوگئے۔ مسلمان قریب آگئے۔ صرف ایک مسلک کے مسلمان۔ یہ مسلمان تهے ہی کتنے۔ کل آبادی کا یہی کوئی بیس پچیس فیصد؟ سو زمین نے پاؤں سمیٹ لئے۔ انسانوں نے ہاتھ اٹها لئے۔ فیتے لے کر لوگ تمہاری داڑهی ناپنے لگے۔ مائکرو اسکوپ لے کر تمہارے عمامے کا رنگ جانچنے لگے۔ پیمانے اٹها کر تمہارا ایمان تولنے لگے۔ تمہارے پیسے گمراہ ہو گئے۔ تمہاری گاڑی کافر ہوگئی۔ تمہارے ٹماٹر، پیاز اور انڈے، ڈبل روٹی فاسق ہوگئے۔ تمہارے محنتانے فاجر ہو گئے۔ تم سے جو آٹو گراف لیئے گئے تهے وہ مشرک ہوگئے۔ تمہیں جو گفٹ دیئے گئے تھے ان کا خلوص مرتد ہو گیا۔ تم سے رشتے ناتے الہامی ضابطوں کے مطابق ناجائز ہو گئے۔ تم سے ہاتھ ملانا مکروہ ٹھہرا۔ گلے لگانا ناجائز ہوگیا۔ محبت کا اظہار حرام ہوگیا۔ بالآخرعصبیت نے مکمل طور پہ تمہارا گهیراؤ کر لیا۔ پهر یوں بھی ہوا کہ تم توہین رسالت کے شکنجے میں کس لئے گئے۔ اب تمہاری سزا یہ ہے کہ تمہارا سر تن سے جدا کردیا جائے۔

تم اب سوچتے ہو گے کہ یہ فرقہ ورانہ تعصب کسے کہتے ہیں۔ اس کی نفسیات کیا ہوتی ہیں۔؟ اس سے بہتر کوئی مو قع نہیں ہوگا کہ میں تمہیں سمجها سکوں۔ حالات کی بے رحمی نے اب جو تمہیں تنہائیاں عطا کی ہیں، انہی ڈستی تنہائیوں میں تم میری ایک بات پہ غور کرنا۔ بالکل اسی طرح کہ جس طرح تم نے ایک گانے میں کسی پری وش سے کہا تھا کہ بیتی ہوئی باتوں کو جاگی ہوئی راتوں کو، یاد کرنا اور جی لینا۔ یاد کرو وہ وقت کہ جب تم واجبی سے مسلمان تھے۔ گرہ بند اور گٹہ دار نمازی نہیں تهے۔ تم ایک پاپ سنگر تهے۔ ایک گٹارسٹ تهے۔ مسجد اکثر نہیں جاتے تهے۔ سوچو کہ تب تمہارا اسٹیٹس کیا تها؟ بتلاؤں؟ تب تم صرف ایک گناہ گار تهے۔ ہاں بس ایک گناہ گار۔ یعنی نماز نہ پڑھ کر بهی تم ایک مسلمان ضرورتهے۔ مگر ایک وقت آیا کہ تم نے خدا کے پڑوس میں اپنا گهر تعمیر کرنا شروع کردیا۔ جانتے ہو نا پهرتمہارا اسٹیٹس کیا بنا؟ پهر تم کافر ہوگئے۔ نہیں سمجهے۔؟ نہیں سمجھے تو پھر تضمین کے ساتھ بسمل سعیدی کا ایک شعر ہی ملاحظہ کرلو۔ کمپوز کرلو اور فرصت کے لمحوں میں گنگناتے رہو

کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر

میخانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے

ایک بات پہ کبھی غور کیا۔؟ وائلن کی طرح کپڑے کا بھی کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ وائلن گنہگار ضرور ہے مگر کپڑا تو گنہگار بھی نہیں۔ غور کرو کہ تمہا رے گنہگار وائلن کی دھن پہ ہر مسلک کا پیروکار کھنچا چلا آتا تھا، مگر تمہارا مقدس کرتہ صرف ایک مسلک اور اس کے ملحقہ مسلک کے پیروکار ہی خریدتے ہیں۔ یہ کس بند گلی میں آگئے ہو دوست؟ مینار سے اترے اور کنویں میں جا بیٹھے؟ یہ کیسا سودا کیا تم نے؟ تم کیا اپنے ہی گانے کے وہ بول بھول گئے، جو تم نے دانتوں میں خلال دبائے ایک ٹیکسی سے جھانکتے ہوئے گایا تھا

ہم کیوں چلیں اس راہ پر

جس راہ پر سب ہی چلیں

کیوں نہ چنے وہ راستہ

جس پر نہیں کوئی گیا

تم اسی راہ پہ چل دیئے جس پہ کمزور اعصاب کے سبھی مارے چلتے ہیں۔ جو خود جیتے ہیں نہ دوسروں کو جینے دیتے ہیں۔ جو زبان کی بندوق کے بجائے بندوق کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ صبر سے نہیں، جبر سے جو ہماری آنکھوں میں گھس جانا چاہتے ہیں۔ ہدایت دینے والی ذات کو جنہوں نے یر غمال بنا رکھا ہے، انہی کی ان خیمہ بستیوں میں تم جا پہنچے ہو، جو انہوں نے نفرت کے صحراؤں میں قائم کی ہیں۔ کس قدر سطحی مسائل میں تمہاری ذات الجھ گئی۔ دو سیلفیاں اور ایک بیان۔ اب ساری عمر کپڑے سیتے رہو گے اور کپڑے دھوتے رہو گے؟ اب کسی باریش و متشرع نوجوان کو اپنی طرف آتا دیکھ کر سہمتے رہو گے؟ ہوائی اڈے بھی تمہارے لئے غیر محفوظ ہوگئے؟ جو رات تمہارے ساتھ ہوا، میں اس کی مذمت بھی کرلوں تو اب کیا حاصل؟ ہم کل بھی روئے تھے تو صرف اس لئے کہ اب یہ آگ کسی آسیہ کسی رمشہ کے دوپٹے سے نہ لپٹے۔ کتنی سطریں دکھاؤں کہ جو تکرار کے ساتھ چلارہی ہیں کہ ڈرو اس دن سے کہ جب تمہاری ہی لگائی ہوئی یہ آگ تمہارا آشیانہ بھی جلا کر خاکستر کر دے گی۔ آگ کا تو کوئی مسلک نہیں، لگتی ہے تو ہر مکان کو بھسم کردیتی ہے۔ ہوا کا کوئی مسلک نہیں ہوتا، چلتی ہے تو ہر چراغ کو بجھا کر رکھ دیتی ہے۔ جنید یہ وہی آگ ہے جو تمہیں تسلی دینے والے ان زاہدانِ خشک نے لگائی ہے۔

 

کل تم نے دیکھا؟ تمہیں ایک تھپڑ اور دو گھونسے پڑنے پہ جو لوگ چیختے چلاتے حرم سے باہر نکل آئے تھے، وہ لاھور میں ستر سے زائد لاشیں دیکھ کر نماز کو چل دیئے۔ یہ کیا ہے؟ آج نہیں تو کل یہ آگ تمہارے دروازے پہ لگنی ہی تھی۔ وقتِ قیام نادان جب جب سجدے میں گرے گا، آگ آپ کی طرف بڑھتی رہے گی۔ اب جب لگ گئی ہے، تو تم سے بہتر اس درد کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اپنا جلا ہوا دامن سنبھال رکھو، جب جب موقع لگے ان شیوخ کی معطر بارگاہوں میں اسے لہرا کرالتجا کرو۔ وہ شیوخ جنہوں نے آسیہ مسیح کی معافی مسترد کردی تھی۔ جنہوں نے قاتلوں سے متعلق حسن گمان کی ہمیں تلقین کی تھی۔ تمہاری واپسی کا راستہ بند ہے۔ ویسے تو تم اپنے شہرہ آفاق گیت میں کہتے تھے کہ اعتبار بھی آ ہی جائے گا، ملو تو سہی، راستہ کوئی مل ہی جائے گا، چلو تو سہی، چلو تو سہی، اعتبار بھی آ ہی جائے گا۔ مگر جنید یہ اعتبار کی نہیں، اعتقاد کی دنیا ہے۔ تعصب کی تاریک دنیا ہے جس کی تائید الہامی صحیفے کرتے ہیں۔ اس دنیا میں اگر الٹے قدموں لوٹنے کے لیے رستہ ڈھونڈو گے توایک مسلک کی حمایت سے بھی جاؤ گے۔ وائلن اٹھاؤ گے تو چابی سے چلنے والے لبرل جان عذاب کردیں گے۔ ویسے بھی مذھب کی انڈسٹری سے تمہیں جو برگ و بار میسر ہے اس کا دسواں حصہ بھی میوزک انڈسٹری اب تمہیں نہیں دے سکتی۔ تم کیوں پلٹوگے؟ رہو وہیں رہو کہ فرد اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ بس ایک کام کردو، جس آگ میں جھونکے گئے ہو اس آگ سے کسی بھی ماں کے جنید کو بچا لو۔ کوشش ہی کرلو۔

دکھی کردیا نا میں نے؟ چلو چھوڑو ان بکھیڑوں کو۔ بات بدلتے ہیں۔ دوسری طرف چلتے ہیں۔ چلتے ہیں ماضی کی وہ شام ڈھونڈتے ہیں، جو کسی جھیل کے کنارے چاند کے سائے میں کھڑی ہے۔ مل کے دھیمی آواز میں تمہارا لازوال گانا سنتے ہیں

یہ شام پهر نہیں آئے گی

اس شام کو

اس ساتھ کو

آؤ امر کرلیں


Comments

FB Login Required - comments

12 thoughts on “جنید جمشید۔۔۔ وہی خِطّہ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

  • 28-03-2016 at 12:26 pm
    Permalink

    ’’مفتی تقی عثمانی صاحب۔۔۔ خوف خدا نے انہیں حصار میں لے لیا‘‘۔ خوف خدا؟ شاید آپ خوف خلق خدا لکھنا چاہتے ہوں گے۔ مذہبی شخص اور خوف خدا میں مشرقین کا فاصلہ ہوتا ہے ۔ دوستوئیفسکی کا محتسب اعلی کا قصہ تو یاد ہو گا۔

  • 28-03-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    شاید جنید کے لیے اب انسان بن کر رہنا ممکن نہیں رہا پہلے زاہد کی نظر لگی تھی اب گستاخی کا بھوت اس کا پیچھا کر رہا ہے

  • 28-03-2016 at 4:57 pm
    Permalink

    میرے علاقے کا مقامی ایم این اے جب تک محض رسہ گیری، اجرتی قتل اور تاوان وغیرہ میں ملوث تھا کسی کو اعتراض نہی تھا لیکن اب کچھ شرپسند سبز پگڑی والے فرقہ سے تعلق پر اعتراض کرنے لگے ہیں 🙂

  • 28-03-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    wa dada wa ————- kash k ye wo bhi par lain ……….. great —

  • 28-03-2016 at 7:20 pm
    Permalink

    ایک انتہائی حقیقت پسند سچائی جو شاید کسی کسی کو ہضم ہوگی۔ ایسی سچائی لکھنے پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اُمید ہے کہ آئیندہ بھی اسی مستقل مزاجی سے یہ سچائی بیان کرتے رہیں گے۔

  • 28-03-2016 at 7:31 pm
    Permalink

    آ لوٹ کے آ جا میرے میت
    تجھے ”تیرے“ گیت بلاتے ہیں

  • 28-03-2016 at 7:47 pm
    Permalink

    فرنود!!
    اگر جُنید جمشید میں انسانیت کی رمق ذرا بھی باقی ھے تو اُسے آپ کے لکھے پر سوچنا ہو گا اور محبت کی زندگی کی طرف لوٹنا ہو گا ( جو مشکل دکھائی دیتا ھے) ورنہ ” درودی ” مسلمانوں کے خوف کے حصار میں جینا ہو گا ـ درودی مسلمان، بارودی مسلمان سے زیادہ خطرناک ھے ـ

  • 29-03-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    مذھب ایک افیون ہے– نہرو کو جب سرکاری افسر نے تبلیغی جماعت کے بارے مین کہا تو پنڈت نہرو نے کہا یہ لوگ (تبلیغی جماعت) اسمان کی باتین کرتے ہین انکو زمین سے تعلق نہی– جی سچ کہا کوئی جماعت کیا اکھڑی اج تک– نوجوانون کو بھڑکا رہے ہین– اب عقل کے ناخون کرین پمپچر کی دوکان کرین–

  • 30-03-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    جزاک اللہ، آپ نے آنکھیں کھول دیں-پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ ملک ریاض، میاں منشاء وغیرہ کھل کھیل کماتے ہیں اور ہرسو عزت پاتے ہیں جبکہ گالیاں، نواز، عمران وغیرہ کو پڑتی ہے کہ رہبری کا راستہ، محدود، تنگ اور پرخار ہواکرتا ہے-حالانکہ وہ ملک ریاض کی راہ پہ چلتے تو پرسکون ہوتے-
    بہرحال، آپ سے متفق ہوں۔جنید کی ہر طرف عزت تھی، اب ایک زاہد خشک کے ہاتھوں، اپنے بھی بیگانے کربیٹھا-کئ سو سال پہلے، مکہ شہر میں ایک مصعب نامی شہزادہ، بیش قیمت عطر لگائے پھراکرتا تھا، شہر بھر کا دلاور تھا-اسکو بھی ایک زاہد خشک کا ساتھ نصیب ہوا تو سگی ماں بھی ساتھ چھوڑ گئ-مانگے تانگے کے کفن میں تدفین ہوئ تھی اسکی-
    آپ نے آنکھیں کھول دیں-واقعی، بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست-

  • 01-04-2016 at 12:44 am
    Permalink

    Behtareen SAleem JAwed Sahb Umeed KArta HUn Hamare FArnood Sahab Isy Zaror Parhe Ge

  • 01-04-2016 at 11:16 pm
    Permalink

    totali aik insan k lpersonal life me mudakhelat aur taadat se bhara culom. aik trf khta he lkhe k tera karobar maslk tk mehdud ho gya he jbk dosre trf khta he k mazhab ki waja se tumko ab ziada pise mil rahe he , wo namaz prta tha ya kya krta tha ap ko kise pta ki c ki personal life k bare me ya apna life uska life smjhte ho

  • 02-04-2016 at 3:28 am
    Permalink

    ؟ تم کیا اپنے ہی گانے کے وہ بول بھول گئے، جو تم نے دانتوں میں خلال دبائے ایک ٹیکسی سے جھانکتے ہوئے گایا تھا

    ہم کیوں چلیں اس راہ پر

    جس راہ پر سب ہی چلیں

    کیوں نہ چنے وہ راستہ

    جس پر نہیں کوئی گیا

    تم اسی راہ پہ چل دیئے جس پہ کمزور اعصاب کے سبھی مارے چلتے ہیں۔

Comments are closed.