لاہور پھر رو رہا ہے


amjad_parvez_sahilاے لاہور تجھے کیا ہوگیا ہے۔ اب اور کتنا لہو بہے گا۔ ابھی اور کتنی لاشیں بن نہلائے دفن ہوں گی؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ میرا لاہور پھر سے رو رہا ہے۔ آج شام خبر ملی کہ لاہور میں گلشن اقبال پارک میں ایک خود کش حملہ ہوا ہے جس میں ستر کے قریب لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ہیں اور 300سے زیادہ شد ید زخمی ہوئے ہیں ابھی اصل حقائق سامنے آنا باقی ہیں لیکن شنید یہ ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ایک میڈیا چینل کی خبر کے مطابق اس دفعہ خود کش حملہ آوار نے جیکٹ کی بجائے ایک بڑے سائز کی بیلٹ باندھ رکھی تھی جس میں ایک اندازے کے مطابق دو سے تین کلووزنی مواد تھا حملہ آور کی عمر بیس سے پچیس کے درمیان تھی اور اس کا تعلق مظفر گڑھ کے علاقہ بتایا جاتا ہے سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس کے مطابق کسی اور جگہ کا خدشہ تھا لیکن دھماکہ اس جگہ پر رونما ہوگیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب پارک لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا آج کے دن مسیحی برادری ایسٹر کا دن منارہی تھی اور ایسٹرڈے کی وجہ سے رش معمول سے زیادہ تھا ۔ہلاک ہونے والوں میں مرد عورتیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہیںجو شام کو اپنے ماں باپ کے ساتھ تفریح کے سلسلہ میں آئے تھے

ملک میں کسی انہونی کے خطرے کا اندیشہ پہلے سے موجود تھا کیونکہ حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں غیرمعمولی طور پر اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہی تھی جس میں غیر مسلم پاکستانیوں کے مذہبی تہواروں کو سرکاری حمایت حاصل ہونا اور اسمبلی میں بغیر کسی لمبی بحث کے ہولی ،دیوالی اور ایسٹر وغیرہ پر عام تعطیل کا اعلان ہونا اور اس کے علاوہ بلاول بھٹو کا ہولی کے تہوار میں بذات خود شریک ہونا وطن عزیز میں کچھ حلقوں کو ناگوار گزرنا ہو سکتا ہے۔ ویسے تو یہ سب اندازے ہو سکتے ہیں۔ حقیقت کا پتہ تو تحقیق کرنے کے بعد ہی چل سکتا ہے کیونکہ کی اقلیتوں کے تحفظ کا خیال رکھنا کوئی جرم تو نہیں اور نہ ہی اس سے کسی طرح ملک کی نظریاتی اساس کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہمارے ملک کو شاید کسی کی نظر لگ گئی ہے جو امن اور سکون ہم سے چھینا جا رہا ہے لوگ جیسے نفسیاتی مریض سے ہوگئے ہیں اور حکومت بھی اس مسئلے کا کو ئی مستقل حل نکالنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عوام اور حکومت کے نظریات میں تصادم نظر آتا ہے عام آدمی حکومت سے نالاں اور بے امید نظر آتا ہے جس کی وجہ سے عوام میں پوری طرح دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہونے میں گومگو کا مظاہر ہ کیاجاتا ہے ۔حکومت اور عدلیہ عا م آدمی کو مفت اور بر وقت انصاف پہنچانے میں ناکام ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ قصور وارو ں کو سزا نہیں ملتی اور لوگ دہشت گردی کے مسلہ میں خود کو الگ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیںاور سارے مسائل کے حل کا ذمہ دار حکومت اور سکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے لوگ کسی مصیبت زدہ اور زخمی کو بروقت مدد پہنچانے سے گھبراتے ہیں محض اس لیے کہ بعد میں خواہ مخواہ کی پوچھ گیچھ ہوگی۔ دہشت گرد ی کو قابو کرنا اتنا بھی ناممکن نہیں جتنا ہمارے رویوں نے کر دیا ہے۔ اگر ہمارے عوام عملی طور پر اور بے خوف ہو کر آگے بڑھیںتوہم ہر ہونے والے واقعے کی روک تھام کرسکتے ہیںلیکن ہم تو بس اس اندوہناک واقعے پر کچھ لمحے آنسو بہاتے ہیں پھر ایک ہفتہ سے پہلے بھول جاتے ہیں کہ کوئی واقعہ بھی ہوا تھا کہ نہیں۔

لاہور پاکستان کادل ہے اور آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور چیخ چیخ کر امن کی بھیک مانگ رہا ہے۔ خدا ر،ا اس کو زندہ رہنے دیں لاہورایک خوبصور ت شہر ہے اس کا چہرہ خون آلود ہو چکا ہے. آئیں سب اپنے اپنے ہاتھ اُٹھائیں اور خدا سے اس شہر کے امن کے لیے دُعا مانگیں۔ خدایا ہمیں معاف فرما۔ ہمیں خطائیں معاف کراور میرے وطن کے دل کو امن ،دوستی اور خوشحالی سے ہمکنار فرما ۔ آمین


Comments

FB Login Required - comments