صحرا میں اے خدا، کوئی دیوار بھی نہیں


\"ramish-fatima\"یادش بخیر ایک نیشنل ایکشن پلان تھا، شاید قانون کے رکھوالے عزت مآب رانا ثنا اللہ اسی کی کامیابی پہ نازاں تھے کہ دھماکہ چھ ماہ بعد ہوا۔ اور یہی خوشی کی خبر ہے یعنی پچھلے چھ ماہ اگر \’امن\’ رہا تو وجہ ٹوئیٹر والی سرکار کے کارنامے ہیں اور حالات بھی یہ بتاتے ہیں کہ سرکار آج کل نئی چالیں چلنے میں مگن ہیں۔ لیکن کیا ہے نا حضرت کہ دھماکہ ہوا اور ایسٹر پہ ہوا۔ تو بھئی ایسٹر پہ ہوا، تو؟ مسیحی برادری نشانہ تھی، تو؟ تیس کے قریب بچے مر گئے، تو؟ برسلز میں بھی ہوتا ہے، پیرس میں بھی ہوتا ہے، یہاں ہو گیا تو اتنا شور ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ کچھ ڈالنا ہی ہے تو عادت ڈالیں اور وہ تو سرکار اب ہم سب ڈال چکے۔ تو پھر پھر اب کیا کریں؟ کیا کریں؟ نوحہ کہیں؟ پرسہ دیں؟ ماتم کریں؟ سوگ منائیں؟ یعنی ایسا کیا کریں جو بتا سکے کہ تکلیف کیا ہے، اور کس قدر ہے؟

مذمتی بیانات؟ ہو گئے ہسپتال کا دورہ؟ ہو گیا زخمیوں کی خیریت دریافت؟ ہو گئی۔ مذمتی قرارداد بھی ہو گئی، پریس ریلیز جاری ہو گئی، ٹکرز چل گئے، زخمیوں اور مرنے والوں کی امدادی رقوم کا تعین ہو گیا اب اور کیسے بتائیں کہ رہنما واقعی کچھ کرنے میں سنجیدہ ہیں؟

بکھرے جوتوں، انسانی اعضاء، چیتھڑے بنی لاشوں، چیخ و پکار، آہ و فغاں کے بیچ انسانیت کہیں منہ چھپائے سسک رہی ہے سرکار، یہ کیسا یوسف ہے (وہ خودکش حملہ آور جو شناختی کارڈ جیب میں ڈالے گلشن اقبال پہنچا)جو زلیخا کی گود اجاڑ گیا، ارے یوسف زلیخا تہمت سہنے کو تیار ہے مگر میرا بچہ واپس کر دو، میرے خواب واپس کر دو۔

پنجاب کے صدر مقام سے نکلیں تو ملک کے دارالحکومت میں منفرد مطالبے ہمارے منتظر ہیں۔ جو باتیں صلح حدیبیہ، میثاق مدینہ، فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع پہ بھی نہیں کی گئیں وہ اب فرمائی جا رہی ہیں کہ شاہ کے اس مصاحب کی کیا آبرو جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ثابت نہ ہوں۔ یہ کیسا مذہب ہے؟ یہ کیسے ماننے والے ہیں؟ اے مونسِ بیمارِ غم یہ ہو کیا رہا ہے آپ کے نام پر؟ ہم کچھ کہیں؟ ہم کچھ لکھیں؟ ارے نہیں آپ کو برا لگے گا نا۔۔۔ تو شبیر نازش کی طرح ہم چپ رہ جاتے ہیں

ہم ہیں خاموش تو خاموش ہی رہنے دیجیے ہم جو بولے تو سماعت پہ گراں گزرے گا۔

پھر بھی جی کرتا ہے اپنا موقف بیان کریں مگر جو بھی لکھا وہ آپ کے نازک دل کو حسبِ روایت ٹھیس پہنچا گیا تو؟ توہین اور گستاخی کا دامن چھوڑنے کو آپ کسی صورت تیار نہیں۔ ہماری بات آپ کسی طور سمجھنے کو تیار نہیں ۔ سانولی سلونی محبوبہ بھی اداس ہے اور ملتان کے دیوانے بھی پریشان ہیں کیونکہ ہر فکر سے تعلق رکھنے والے عشاق کے قافلے اب محبوب کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ قمر رضا شہزاد کا ایک شعر ہے اے دوست یہ تہذیب مجھے عشق نے دی ہے، میں دشت میں بھی خاک اُڑا کر نہیں آیا۔ تو اے دوست، اپنے عشق کو تہذیب کا پابند کرو کیونکہ خاک اڑتی ہے تو غبار دور دور تک جا پہنچتا ہے۔ بس ایک پریشانی ہے، تصویر دیکھی ہے نا آپ نے گلشن اقبال کے اجڑنے کی، وہ جوتے جو وہاں بکھرے پڑے ہیں وہ میں اپنے سر پہ ماروں یا آپ کے سر پہ؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “صحرا میں اے خدا، کوئی دیوار بھی نہیں

  • 28-03-2016 at 5:45 pm
    Permalink

    khoob ikha ….ikhti raho….jagen ge tou naheen ekin tm to naqara bajate raho…

  • 28-03-2016 at 7:12 pm
    Permalink

    شکریہ

  • 29-03-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    رامش… وہ یوسف تو خود زلیخا کی طرف سے لگائی گئی تہمت کا غم غلط کرنے کے لیے پارک میں گیا تھا….
    لیکن اسے شاید نہ معلوم نہ تھا کہ
    “اور بھی غم ہیں زمانے میں تہمت کے سوا ”
    یوسف کے جانے کے بعد زلیخا کو اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں اپنی سہیلیوں کو یوسف کا دیدار نہ کرا سکی..
    یوسف کا دامن اور سہیلیوں کے ہاتھ سلامت رہے..

Comments are closed.