ہم ہتھیار نہیں ڈالا کرتے


wajahat“رات ہے، جھاڑیوں میں مجھے اذیت دی جا رہی ہے، میں چیختا ہوں، قریب ہی سڑک پر لوگ چل پھر رہے ہیں اور کوئی میری چیخ پکار پر توجہ نہیں دیتا۔” آرتھر کوئسلر نے اپنا یہ خواب دوسری عالمی جنگ کے دوران لکھا تھا جب یورپ سے باہر بہت کم لوگ نازی عقوبت خانوں کی حقیقت سے آگاہ تھے۔ رائے عامہ کا بڑا حصہ ان اذیت گاہوں کے بارے میں بتائی جانے والی باتوں کو اتحادی قوتوں کا پراپیگنڈا سمجھتا تھا۔ چنانچہ آرتھر کوئسلر کا خواب دراصل اس تکلیف کا اظہار تھا کہ دوسرے لوگ اس کے بیان پر اعتبار کیوں نہیں کر رہے۔ آج لکھنے کے لئے قلم اٹھاتے ہوئے محسوس ہو رہا ہے کہ آرتھر کوئسلر کا خواب ہمارے ضمں میں الٹ ہو گیا ہے۔ اب سڑک پر لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ہم جھاڑیوں میں بیٹھے کالم لکھ رہے ہیں۔ کل ایسٹر کے روز لاہور میں بچوں کی ایک تفریح گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ چھ درجن سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں جن میں تیس بچے بھی شامل تھے۔  حملہ کرنے والوں نے ذمہ داری قبول کر لی ہے اور غیرت کا پرچم لہرانے والے کہیں نظر نہیں آ رہے۔ یہ لوگ کچھ روز بعد اپنی کمین گاہوں سے برآمد ہوں گے اور اس سانحے سے پھیلنے والے خوف کو گلشن اقبال کی خون آلود خاک سے اٹھا کو اپنی ابہام آلود زنبیل میں رکھ لیں گے۔ تو لکھنے والا کیا کرے؟ کیا لکھنے والا بے حس ہے؟ پھول جیسے بچوں اور چھائوں جیسی ماؤں کی معصومیت پر وحشت کے اس حملے پر وہ چیختا کیوں نہیں؟ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا۔

چپ ہو گئے تیرے رونے والے

دنیا کا خیال آ گیا ہے

تو ایسا ہے کہ جہاں دوسرے اس وحشت سے خوف کا بیوپار چمکائیں گے، ہمیں اس اذیت کو اپنے مجموعہ درد میں شامل کر کے معاملات کو دیکھنا ہو گا۔ ہمیں نوحہ نہیں، نسخہ لکھنا ہے۔ ہمیں اس ملک میں دہشت گردی کا عذاب جھیلتے ہوئے کئی عشرے گزر گئے ہیں۔ دہشت گردی کیا ہے؟ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہتھیار اٹھانا، بلا امتیاز قتل و غارت کر کے اپنا مؤقف منوانے کی کوشش کرنا اور اس تشدد سے پھیلنے والے خوف و ہراس کو ایک مستقل دھمکی کی صورت میں قائم رکھنا۔ 1979 میں ہم افغان  جنگ میں شامل ہوئے تو افغان اور سوویت قوتوں نے جوابی کارروائی کے طور پر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں۔ سینکڑوں دھماکے ہوئے، ہزاروں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک میں آمریت تھی۔ آمر اس جنگ کو منطقی انجام تک لے جانا چاہتا تھا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر حکومت کا اجارہ تھا۔ اخبارات پر پابندیاں تھیں اور ملک کے اندر ایک مکتبہ فکر اس جنگ کو گویا اپنے سیاسی اقتدار کی کنجی سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس مہم جوئی کے نتیجے میں شہریوں پر ٹوٹنے والے عذاب کی خبروں کو دبایا جاتا تھا۔ اس دوران روسی ہوائی جہازوں نے پاکستان کی فضائی حدود کی بلا مبالغہ سینکڑون خلاف ورزیاں کیں لیکن ان لبوں نے ہماری مسیحائی نہ کی جنہوں نے بعد ازاں پاکستان کی زمین پر پناہ لینے والے دہشت گردوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کے خلاف مہم چلائی۔ اس افغان مہم جوئی میں ایک برادر ملک ہماری مالی پشت پناہی کر رہا تھا اور اس برادر ملک کی ہمارے برادر ہمسایہ ملک سے چشمک تھی۔ ریاستوں کے مفادات کا کھیل تھا، اسے فرقہ واریت کا رنگ دے کر ہماری سرزمین پر صف بندی کی گئی۔ فرقہ وارنہ مار دھاڑ نے ہمارا گھر دیکھ لیا۔ بعد کے عشروں میں فرقہ پرست لشکر ریاست کے خلاف دہشت گرد مہم کا اثاثہ بن گئے۔ اس دوران آمریت اور جمہوری قوتوں میں کشمکش بھی جاری تھی چنانچہ زبان کے نام پر بھی کچھ شجر کاری کی گئی۔  دہشت گردی ہتھیار کی ثقافت ہی تو ہے۔ لہو کا کاروبار زبان کے نام پر کیا جائے یا عقیدے کے نام پر، دیواریں اٹھانے کا دھندا ہے، خانوں میں بانٹنے کا روزگار ہے اور اس طرح کہ میرے خانہ برباد کی خبر آپ کو نہیں ہوتی اور آپ کی سسکی مجھ تک نہین پہنچتی۔ اس میں ساحل لہو رنگ ہوتے ہیں اور بستیاں ویران ہوتی ہیں۔

درویش نے دیواریں گرانے اور دہشت کا بیانیہ ختم کرنے کے لئے مساوات اور انصاف کے اخلاقی اصولوں کی بات کی تھی۔ اس پر ایک محترم بھائی مہناز پاکستانی صاحب نے پیغام بھیجا ہے۔ پیغام کیا ہے، حقیقتوں کے خزانے لٹا دیے ہیں۔ آپ بھی پڑھ لیجئے۔ “یہ اخلاقی اصول اقبال ڈے ختم کرتے ہوئے کیوں یاد نہ  آئے۔ اک عالم جانتا ہے کہ وطن عزیز اقلیتوں کے لیے جنت ہے۔ ہمیں اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے تہواروں پر ملکی معیشت پر اک مزید چھٹی کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت ںہیں۔  ہاں ہندو برادری کے افراد اس روز چھٹی کے مستحق ضرور ہیں۔ ہمارا قرضوں سے بدحال ملک اضافی ہڑتالوں اور فراغتوں کا متحمل نہیں  ہو سکتا۔ ہمیں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنے قومی تشخص کی بلی چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ بھارت اور اسرائیل انتہا پسند مذہبی ریاستیں ہیں۔ وہاں اقلیتوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک ہوتا ہے مگر ان کی سفارت کاری ہم سے بہتر نتائج دیتی ہے۔ ہولی پر رنگ ڈالنے یا مردوں کو “چوڑیاں” پہنانے سے ہَم پاکستان کو مثالی ریاست نہیں بنا سکتے اور نہ دنیا سے اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔”

سبحان اللہ، گویا  بات سفارت کاری پر آ کر ٹھہری ہے۔ کسی روز ظفر ہلالی صاحب سے پوچھ لیجئے گا کہ دنیا ہماری بات کا اعتبار کیوں نہیں کرتی۔ فی الحال ڈیڑھ بات اقلیت اور اقلیت کے حقوق کی ہو جائے۔ قومی ریاست کی جغرافیائی حدود طے ہوتی ہیں چنانچہ ناگزیر طور پر ہر قومی ریاست میں شہری اپنی مختلف شناختوں کی بنیاد پر عددی مساوات میں اقلیت اور اکثریت کے خانوں میں بٹے ہوتے ہیں۔ ایک پنجابی مسیحی پاکستان میں عقیدے کے اعتبار سے اقلیت اور لسانی اعتبار سے اکثریت کا حصہ ہے۔ اسی طرح کراچی کا ایک اردو بولنے والا مسلمان شہری عقیدے کے اعتبار سے اکثریت اور لسانی اعتبار سے اقلیت کا حصہ ہے۔ ریاست جب شہریوں میں مساوات کا اصول تسلیم کرتی ہے تو دراصل ان تمام شناختوں کو یکساں احترام دیتے ہوئے بطور شہری کے حقوق کی مساوات کا اعلان کرتی ہے۔ ہم جمہوریت کی تفہیم کے ضمن میں ایک بنیادی غلطی کا شکار ہیں۔ جمہوریت کا بنیادی اصول مساوات ہے، اکثریت کا استبداد نہیں۔ زبان، جنس، عقیدے اور ثقافت کے امتیازات سے قطع نظر ہر شہری ملک کے بندوبست حصہ لینے کا حق رکھتا ہے اور اس کی رائے یکسان وزن رکھتی ہے۔ جمہوریت میں کثرت رائے کا اصول محض رفع نزاع یعنی اختلافات کو دور کرنے کے لئے ایک طریقہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔  جمہوریت میں کوئی مستقل اکثریت یا اقلیت نہیں ہوتی۔ اکاون کے حقوق انچاس کے حقوق سے زیادہ نہیں ہوتے۔ البتہ اختلاف کی صورت میں اکاون کی رائے تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اکاون نے انچاس کو فتح کر لیا ہے اور مساوات، انصاف اور حقوق کا تعین اب اکاون کی صوابدید کا معاملہ ہے۔ یہ بات حسین شہید سہروردی نے 1948 میں لیاقت علی خان کو بتانے کوشش کی تھی کہ پاکستان کے قیام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلم لیگ کو چھوڑ کر باقی پاکستانیوں کے حقوق فسخ ہو گئے ہیں۔ الطاف گوہر نے 1971 میں ڈان کا اداریہ لکھ کر بھٹو صاحب کو یہی بتایا تھا کہ جناب آپ نے انتخاب جیتا ہے، پاکستان کو فتح نہیں کیا۔ پاکستان کے جمہوریت پسند پاکستان کی تمام مذہبی، لسانی اور ثقافتی اکائیوں کے لئے مساوات، تحفظ اور یکساں حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ دہشت گردی اور انسان دوستی میں ایک ہی فرق ہے۔ دہشت گرد ہتھیار اٹھاتا ہے اور انسان دوست دلیل دیتا ہے۔ جو لوگ ہتھیار نہیں اٹھاتے اور نہ ہتھیار اٹھانے کی تلقین کرتے ہیں، ان کے بارے میں تاریخ کا ایک ہی فیصلہ ہے۔ یہ لوگ ہتھیار نہیں ڈالا کرتے۔

اس معرکے میں  عشق بیچارہ کرے گا کیا

خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “ہم ہتھیار نہیں ڈالا کرتے

  • 28-03-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت سر

  • 28-03-2016 at 7:41 pm
    Permalink

    آخری جملہ کمال ہے ۔ اور آخری جیت اسی کی ہوتی ہے جو ہتھیار نہیں ڈالتے

  • 28-03-2016 at 8:33 pm
    Permalink

    سرکار نے خود کوئی فیصلہ نہ کیا تو ہم جیسوں کو قلم کا ہتهیار پهینک کر بندوق اٹهانی پڑے گی.

  • 28-03-2016 at 9:07 pm
    Permalink

    ہم بندوق کسی صورت نہ اٹھائیں گے، اور قلم کا ہتھیار ہر گز نہ چھوڑیں گے!!

  • 28-03-2016 at 9:47 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ہے جناب

Comments are closed.