کیا پھانسی ضروری تھی؟


kashif naseerگو کچھ متنازع بیانات اور اقدامات کے سبب مرحوم سلمان تاثیر  پر توہین رسالتﷺکا الزام عائد  گیا تھا لیکن اس الزام کی صحت اس قدر کمزور تھی کہ  اگر 295 سی کے تحت بھی مقدمہ چلایا جاتا  تو عدالت میں اسے  درست ثابت کرنا تقریبا ناممکن  تھا۔ مگر اس سنگین الزام کی کمزور  صحت سے قطع نظر،یہ بھی درست ہے کہ بطور گورنر ان کا کردار انتہائی متنازع تھا۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب ایک جانب مغربی ممالک میں توہین رسالت ﷺ کے تکلیف دہ واقعات جنم لے رہے ہوں اور دوسری طرف ملک کے اندر قانون توہین رسالت میں ممکنہ ترمیم کے خلاف ایک بهرپور تحریک اپنے جوبن پر ہو، ان کا  یوں ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا خطرناک تھا۔ سو  اس  ماحول میں روالپنڈی کےایک  شعلہ بیان بریلوی خطیب، مفتی حنیف  قریشی کی تقریر سے متاثر ہوکر ملک ممتاز حسین قادری نامی ایلیٹ  فورس کے ایک نوجوان  سپاہی نے انہیں قتل کر دیا۔ واقعہ بہرحال افسوس ناک بهی تها اور قابل مذمت بهی۔

لیکن یہاں تین بنیادی محرکات نے جمہور کو قاتل کی مذمت کے بجائے تحسین پر مجبور کردیا۔

اول: سلمان تاثیر نے معاشرے کی اکژیتی سوچ کےساتھ جس انداز میں برتاو کیا، اس  کے نتیجے میں ان کے قتل پر بھی ہمدردی کے جذبات دیکھنے کو نہ مل سکے۔ دوم: جس ممکنہ ترمیم کو تمام مذہبی جماعتیں مل کر نہ روک سکی تهیں، اس ایک قتل کے بعد اس پر  مکمل خاموشی چھا گئی۔ سوم: قاتل کا تعلق ملک کے اکثریتی بریلوی مکتب فکر سے تها۔ اس تناظر میں اعتدال کا راستہ یہی تها کہ  پھانسی سے گریز کیا جاتا۔ یوں بھی وطن عزیز میں قائم نظام انصاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ہم  بخوبی جانتے ہیں کہ کس طرح مقدمات برسوں زیر التوا رہتے ہیں اور کس طرح طاقتور ملزمان کو مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ سزا سے تامل تو درکنار مقدمے کی کارروائی اور سزا میں غیر معمولی عجلت برتی گئی، جس سے  شک و شبہات نے جنم لیا۔ دوسری جانب لبرل طبقےکے چند اہل دانش کی جانب سے فاتحانہ اور تحکمانہ انداز میں کہا جانے لگا کہ ریاست نے اپنی سمت متعین کرلی ہے اور وہ تیزی سے سیکولر پاکستان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یوں وہ مذہبی طبقہ جو اصولی طور پر اس قتل کی حمایت پر تیار نہ تھا اور مصلحت خاموشی کا شکار تھا، بادل ناخواستہ قاتل کی  مدح سرائی   پر مجبور ہوا۔

اندیشہ تھا کہ اگر سزا ہوئی تو اس سے کئی نئے فتنے جنم لیں گے اور  اندیشے درست ثابت ہورہے ہیں۔ جو ممتاز قادری  کل تک ایک گمنام پولیس سپاہی  تها، ایک  مظلوم، شہید اور ہیرو کے طور پر سامنے  ہے اور اسے داد و تحسین پیش کرنے میں مسلک اور فرقوں کی تقسیم بهی بے معنی ہوگئی ہے۔ آزاد ذرائع نے رپورٹ کیا کہ میڈیا کے بلیک آوٹ کے باوجود جنازے میں بینظیر  بھٹو اور ضیاالحق  کے جنازوں سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جن کی انکھیں جنازے پر نہ کھلی، اسے آج ریڈ زون میں برپا ہونے والے دهرنے سے ضرور حقائق کا ادراک ہوگیا ہو گا۔ گلشن اقبال پارک کے اندوہ ناک سانحے اور فوج کی آمد کےباوجود  متشدد دهرنا  بدستور جاری ہے اور لوگ مرنے مارنے پر تلے ہیں۔ نفاذ شریعت کا وہ نعرہ جو کل تک صرف قبائل میں طالبان اور شہروں میں  جماعتیوں کی محفلوں  تک محدود تھا، آج پیروں ،فقیروں  اور سجادہ نشینوں کے  درمیان سے بھی اٹھنے لگا ہے۔ کوئی پوچھے کہ ملک کے مفاد میں اگر سلامتی کے اداروں سے مفاہمت کرکے مشرف کو  محفوظ راستہ دیا جاسکتا تھا تو   ممتاز قادری کیس کو آسیہ مسیح کیس کی طرح التوا میں کیوں نہیں ڈالا جا سکتا تھا؟ اگر میاں صاحب کو   ایک لبرل سیاسی مدبر کی سند درکار تھی تو ان کے اس شوق کے نتائج یہ غریب ملک کیوں بھگتے؟

مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جانے والے نمائشی  اقدامات خود اسے مزید بڑھاوا دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تشدد  اور شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لبرل ازم کا نعرہ مرہم  بنا کر پیش کیا  جا رہا تھا لیکن یہ مرہم زخم پر  نمک کا اثر دے رہا ہے۔ ممتاز قادری کی پھانسی ہو یا حقوق نسواں ایکٹ، مذہبی طبقہ منطقی طور پر چاہے غلط ہو، عملی طور پر حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہا ہے۔ بریلوی مکتب فکر جو  خانہ جنگی کے حالات میں  ریاست کے ساتھ کھڑا تھا، ریاست کے مدمقابل آنے کو تیار ہے۔ مزارات ، خانقاہوں اور پیری مریدی کے تمام استحصال کو نظرانداز  کر کے جس  صوفی ازم کو وہابی ازم کے مقابلے پر کھڑا کیا جاتا تھا، آج وہ خود ریاست کے لئے سب سے بڑا چیلنج بننے کو تیار ہے۔۔ حکومت نے  بھی تو  انہیں ممتاز قادری کی شکل میں ایک ایسا  لیجنڈری ہیرو دے دیا ہے جس کے راستے پر چل کر وہ بهی عشق رسول کی  شارٹ کٹ سند حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کی ضرورت نہیں رہتی، اگر جنید جمشید بهی سامنے آ جائے تو کام چل جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کیا پھانسی ضروری تھی؟

  • 28-03-2016 at 7:12 pm
    Permalink

    What a confused column, what’s the purpose of it?

  • 29-03-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    “یوں وہ مذہبی طبقہ جو اصولی طور پر اس قتل کی حمایت پر تیار نہ تھا اور مصلحت خاموشی کا شکار تھا، بادل ناخواستہ قاتل کی مدح سرائی پر مجبور ہوا۔ ”

    لگتا نہیں کہ لکھنے والا کبھی پاکستان کی مسجد میں جمعے کا خطبہ سن چکا ہے، ورنہ یہ جملہ لکھنے سے پہلے کوئی ش ، ح والا حرف یاد رہتا۔

Comments are closed.