وحشت اور جنون کے تین نئے مناظر


fazle rabiابھی تو پرانے زخم ہی تازہ تھے۔ باچا خان یونی ورسٹی کے زخم، ضلع چارسدہ تحصیل شب قدر کے زخم اور پشاور میں سنہری مسجد کے قریب چلتی بس میں بم دھماکہ کے زخم اور اب ایک نیا زخم گلشن اقبال پارک لاہور کے بے گناہ اور معصوم انسانوں کے وحشیانہ قتل عام کی صورت میں۔ نیوز چینلز پر مرنے والوں، زخمی ہونے والوں اور دیگر متاثرین کے جگر سوز مناظر دیکھ آنکھوں سے آنسو تیز دھار بن کر نکلتے رہے۔ پورا چہر ہ بھگوتے رہے…… ہم جیسے بے بس انسان اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں۔

ہم پاکستانی کتنے بد قسمت ہیں، ہمیں مارا جا رہا ہے، پیہم قتل کیا جا رہا ہے…… کوئی ہمیں غربت و بے روزگاری کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل کر، کوئی ہمیں ہسپتالوں میں ناکافی طبی سہولتوں کی آڑ میں، کوئی ہمیں تعلیم سے محروم رکھ کر، کوئی ہمیں مہنگائی کی چکی میں پیس کر، کوئی ہمیں بجلی اور لوڈ شیڈنگ میں مبتلا کرکے، کوئی ہمیں عدالتوں میں انصاف سے محروم کرکے، کوئی ہمیں پینے کے صاف کے لیے ترسا کر، کوئی ہمیں جعلی ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرکے، کوئی ہمیں فرقے کی بنیاد پر، کوئی ہم پر توہین رسالت کا الزام لگا کر، کوئی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے، کوئی بھتہ کی وصولی کے لیے، کوئی ہمیں امریکا اور یورپ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں، کوئی ہمیں امن دلانے کے نام پر اور کوئی خود کش حملہ آور بن کر خود کو جنت کی حوروں تک پہنچانے کے لالچ میں۔ بس پورے ملک میں ایک غدر مچا ہوا ہے۔ انسانی خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے لیکن حکومت اور سکیورٹی ادارے اپنی ناکامیاں تسلیم کرنے کی بجائے حجت بازی میں لگے ہوئے ہیں۔ بہانے تراشے جا رہے ہیں، اپنی نااہلی کے لیے جواز گڑے جا رہے ہیں۔ یہ کیسا ملک ہے، اس کے کیسے حکمران ہیں جو اپنے عوام کو امن و تحفظ فراہم نہیں کرسکتے لیکن پھر بھی دھڑلے سے حکومت کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب کے ایک وزیر نیوز چینل پر فرما رہے ہیں کہ ’’لاہور محفوظ ہے۔ پہلے ہر ماہ تین تین دھماکے ہوتے تھے لیکن اب کے چھ ماہ کے بعد دہشت گردی کا ایک واقعہ ظہور پزیر ہوا ہے۔‘‘ 69 معصوم انسان اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہوگئے ڈھائی سو سے زائد مجروح ہوئے لیکن لاہور اب بھی محفوظ ہے۔ معلوم نہیں مقتدر لوگوں کے دل احساس سے خالی کیوں ہیں، انھیں کیوں نظر نہیں آتا کہ یہ دراصل 69 لوگ نہیں مرے ہیں بلکہ 69 خاندان تباہ ہوئے ہیں۔ ڈھائی سو زخمی لوگوں میں کتنے ہیں جو ساری عمر کے لیے معذور ہو چکے ہوں گے۔

یہ تو اس دن کا ایک منظر ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر ایک بڑے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ مظاہرین تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے فوج طلب کرلی گئی ۔ ایک اور منظر سوشل میڈیا پر جنید جمشید کی پٹائی کا ہے۔ جنید جمشید کو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ زندہ بچ گئے ورنہ جنید سے جو لغزش ہوئی تھی، وہ ایک خاص ذہن کے مطابق ناقابل معافی جرم کے زمرے میں آتی ہے، خواہ اس کے لیے جنید جمشید صرف زبانی معافیاں ہی نہیں بلکہ ناک زمین پر رگڑ رگڑ کر معافی مانگیں تب بھی وہ واجب القتل ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ ان کی شرعی داڑھی اور تبلیغی جماعت سے وابستگی بھی ان کے کام نہیں آنے والی۔

درج بالا تینوں واقعات کے ڈانڈے مذہب سے ملتے ہیں۔ ضیائی دور میں شرعی نظام کے نام پر جو مائنڈ سیٹ تخلیق کیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں اب تک تباہی و بربادی کا سفر جاری ہے۔ مذہب سے متعلقہ کسی بھی معمولی بات پر مشتعل ہوکر کسی کو قتل کرنا، مخالف مسلک کے لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ان کی شناخت پریڈ کرانا اور پھر انھیں گولیوں سے بھوننا، امریکا اور یورپ کی طاغوتی قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں اور ہم وطن معصوم شہریوں کو خاک و خون میں نہلانا، توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر یورپ کے خلاف پرتشدد مظاہروں میں اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا…… یہ سب اسی مائنڈ سیٹ کے کرامات ہیں جو مذہبی جنونیوں کو انسانی خون سے ہاتھ رنگنے میں مہمیزکا کام دے رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں اور سکیورٹی ادارے اپنے مختلف قسم کے مفادات کے لیے اسی مائنڈ سیٹ کو فروغ دیتے رہے ہیں لیکن اب جب کہ وہ ضربِ عضب کے ذریعے ان لوگوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہے ہیں تو دہشت گرد بھاگتے ہوئے بھی سیکڑوں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو مار رہے ہیں۔ جس مائنڈ سیٹ کو کئی عشروں تک تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے، اسے اپنی مخصوص اغراض کے لیے توانائی فراہم کی جاتی رہی ہے، وہ محض طاقت سے ختم نہیں ہوگا۔ اس کے لیے سول اور عسکری دونوں اداروں کو اتفاق رائے سے پوری سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ وطن عزیز میں جہاں جہاں اس کی نرسریاں اب بھی قائم ہیں، بعض ریاستی عناصر جس طرح اب بھی بعض تنظیموں کو پشت پناہی فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ان کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ پراکسی وار اور دفاعی گہرائی جیسی اصطلاحات کو دماغ سے کھرچنا ہوگا۔ نہایت بے رحمی سے اس مائنڈ سیٹ کو فروغ دینے والی ان نرسریوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا جن کا کام اس کو تازہ خون فراہم کرنا ہے۔ اس طرح مسجدوں میں فرقہ ورانہ تقاریر پر سختی سے پابندی عائد کرنی ہوگی، تب کہیں اس مائنڈ سیٹ کے مضبوط بند میں شگاف پڑیں گے۔

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ سول ادارے اتنے نحیف و نزار ہوچکے ہیں کہ معمولی معمولی مظاہروں کو قابو کرنے کے لیے فوج کو بلایا جاتا ہے۔ درحقیقت پولیس کی ناکامی کا مطلب حکومت کی ناکامی ہے۔ پولیس کی تربیت اس نہج پر ہونی چاہئے کہ وہ امن و امان کی کسی بھی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر قابو پانے کی صلاحیت سے پوری طرح بہرہ مند ہو۔ پولیس کا کام یہ نہیں کہ وہ وزیروں، مشیروں اور حکمرانوں کو تحفظ فراہم کرے، اس کا اصل کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال بحال رکھناہے۔ 2011ء میں جب لندن میں فسادات پھوٹ پڑے تھے تو ہم نے تو کہیں نہیں دیکھا تھا کہ فوج کو بلایا گیا ہو۔ پولیس ہی نے فسادات پر قابو پایا تھا اور لوٹ مار میں جن ملوث لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا، ججوں نے دن رات مقدمات چلا کر انھیں قانون کے مطابق سزائیں دی تھیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور یہ اس لیے ناگزیر ہوچکا ہے کہ ہم گزشتہ تین عشروں سے بداَمنی اور دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس صورتِ حال کو مدنظر رکھ کر پولیس فورس کی تشکیل نو کرنی چاہئے۔ ہماری حکومتیں ججوں کو بھی تحفظ دینے میں ناکام ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نازک مذہبی معاملات میں فیصلہ صادر کرنے سے کتراتے ہیں۔ فوجی عدالتوں سے حکومتی رِٹ قائم کرنا جمہوری حکومتوں کو زیب نہیں دیتا۔

آرمی پبلک سکول سے لے کر لاہور میں حالیہ دہشت گردی تک سیکڑوں بے گناہ انسان قیمتی جانوں سے محروم کئے گئے اور آئندہ مزید کتنے بے گناہ اس جنگ کی بھڑکتی ہوئی آگ کا ایندھن بنیں گے، اس لیے حکومتی زعماء اور اعلیٰ عسکری حکام کو دہشت گردی کی تازہ لہر کے تناظر میں نئی حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔ انٹیلی جنس اداروں کی کمزوریوں اور خامیوں کا ادراک کرنا چاہئے اور انھیں فعال کرکے اس نیٹ ورک کا سراغ لگانا چاہئے جو اَب بھی کسی نہ کسی صورت پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق وقت اور مقام منتخب کرکے اسے دہشت گردی کا ہدف بناتا ہے۔ آخر معصوم اور بے گناہ شہریوں کا خون کب تک یوں بہتا رہے گا؟


Comments

FB Login Required - comments