شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے


shakoor rafeyپاکستانی سوسائٹی انتہا پسندی، فرسٹریشن اور تنگ نظری کی جس سطح پر آ چکی، اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ ان نصاب ساز کمیٹیوں پر بھی جنہوں نے نصاب میں تعصب، نفرت، برتری اور جھوٹ موٹ کی تاریخ شامل کر کے ایک پوری نسل کو گمراہ کر دیا۔ ان عالمی طاقتوں پربھی کہ جنہوں نے موذن اور خطیب کے ہاتھ سے تسبیح و رومال لے کر کلاشنکوف اور پجارو کی چابیاں پکڑائیں۔ گلی محلہ کے ان فارغ البال بزرگوں پر بھی جو سماعتوں میں جوش و ولولہ کے لیے لاؤڈ سپیکر پر دوسرے مسلک کی تضحیک سنتے رہے، سر دھنتے رہے ۔ ان سیاسی جماعتوں پر بھی جنہوں نے ہر طبقہ میں اپنے پاکٹس بنائے اور مذہب، مسلک، فرقہ کے نام پر ووٹ لینے کے لئے ایسی شخصیات و تقریبات کو رونق بخشی۔ ان عسکری گروہوں پر بھی جن کی سرپرستی کالعدم تنظیموں کو حاصل رہی اور دھڑلے سے رہی۔ ان برادر سفارت خانوں پر بھی جہاں کئی علما نورانی چہرے لیے جاتے اور جلالی رنگ لیے پلٹتے تھے اور پلٹتے ہیں۔  سن ستر اسی کی دہائیوں میں ان امریکی و برطانوی ان مقتدر شخصیات پر بھی کہ افغان بارڈر پر جو مجاہدین کے جمگھٹے میں گھرے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے ۔ ان مذہبی جماعتوں کے محترم سربراہان پر بھی کہ جو مصطفوی انقلاب سے ’ایک ہوں مسلم حرم‘ جیسے مونوگرامی نعروں کا جال اتار کر ایسے نازک موقعوں پر غائب ہو جاتے ہیں اوردوجوں کو دین کا جوش دیتے ہوئے خود دنیاوی ہوش بچا لیتے ہیں۔

کیسا المیہ ہے۔ پوری دنیا میں ایسٹر کی رنگارنگ تقریبات اپنے ہاں اسلام آباد کے چہلم سے لاہور میں گڑتی صلیبوں تک ائیرپورٹ پر مسلکی حملوں سے، فرقہ فرقہ بٹتی قوم کے نوحے بکھرے ہیں مگراس کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔ مورخ جب لکھے گا تو کیا میڈیا پر رینکنگ اور مسلک کے نام پر دوسرے مذہبی دانشوروں پر کیچڑ اچھالنے والے بچ جائیں گے؟ کیا اس اشتعال میں ان سیاسی جماعتوں کو استثنیٰ ملے گا کہ جنہوں نے ڈی چوک اور ریڈ زون پر اپنے معتقدین کو اور آگے، اور آگے بڑھنے کا ولولہ دیا۔ ونی اور اورکاروکاری قسم کی خونی رسمیں جس دھرتی پر سرعام منائی جاتی ہوں اور پنچایت سر عام غیرت کے نام ستر سالہ بابے کو پندرہ سالہ بچی پیش کرتی ہو، اس سوسائٹی میں سے تحمل بردباری کے رنگ کیونکر نہیں اڑیں گے۔ میچ ہارنے کے بعد ٹی وی توڑ کر جوا بازی اور غداری کا الزام لگانے والے کیا اس پراشتعال صورتحال میں خود کو بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں۔ ہم سب نے تقدیسی امنگوں کو ذاتی خواہشات میں گڈ مڈ کر کے سوسائٹی کے کھیتوں میں کھوپڑیوں کے وہ بیج بوئے ہیں کہ مسجدیں، سکولز، یونیورسٹیز، بازار اور پارک ہر طرف کھوپڑیاں جھولا جھول رہی ہیں۔ بچوں کو جھولا جھلانا ہو یا اس سے اتارنا ہو، بڑوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انفرادی اختیاری عادات سے لے کر گھریلو مشاورتی فضا تک اور ملکی جمہوری رویوں سے لے کر اجتماعی قومی مزاج کی تشکیل تک ہر میدان کے بڑے توازن اور اعتدال کے گوہرکو اپنے چھوٹوں کی پرداخت، نمو اور افزائش و آرائش میں بطور ٹانک استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ اس حوالے سے دلچسپ مثالیں پیش کرتی ہے۔ تقسیم ہند کے آرپارکے عہد تک تہذیب وسیاست میں تحمل و برداشت کی بیشمار مثالیں ملتی ہیں۔ جناح صاحب کو ہندوستانی رہنماکے کچھ ذاتی راز پہنچائے جاتے ہیں تو ’سب جائز‘ کے اصول کے تحت سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے یہ راز لانے والے جذباتی محب وطن کوہی ڈانٹ دیتے ہیں اور دوسری طرف، گاندھی صاحب پاکستان کو اس کا حق نہ دیے جانے پر بھوک ہڑتال کر دیتے ہیں۔ مسافر نے پہلے بھی عرض کیا کہ ’آج یہ سب تاریخی واقعات رنگین داستانیں اس لیے محسوس ہوتے ہیں کہ آج کے سیاسی لیڈرچوکوں چوراہوں میں (نام نہاد ہی سہی )جمہوری کارکنوں کو یوں مخاطب کرتے ہیں جیسے میرصاحب کو کوچہ جاناں میں پکارا جاتا تھا

یوں پکارے ہیں مجھے، کوچہ جاناں والے

اِدھر آ، بے! ابے او! چاک گریباں والے!

مقتدر حساس اداروں کی ذاتی زندگیوں کی نگرانی اور اس کے منفی استعمال و استحصال وغیرہ کی ’جان لیوا بحثوں‘ میں پڑے بغیر یہی عرض کریں گے کہ آج تشدد کی سیاست اور عدم برداشت کا جوسماج بنتا دکھائی دے رہا ہے اس کی ذمہ داری ریاستی اداروں کے سر ہے کیونکہ ماں بچوں کو جو سکھاتی ہے، وہی سیکھتے ہیں۔ تحمل، برداشت اور رواداری ماضی کی داستانوی لوریوں سے ملنے والی مقدس نیند نہیں ہوتی جو ہر خواہش کرنے والے کے پنگھوڑے میں آن اترے۔ یہ ایک غیرموسمی پھل ہوتا ہے۔ اسے کاشت کرنا پڑتا ہے نہ کریں تو پھر برداشت کرنا پڑتا ہے!‘


Comments

FB Login Required - comments