خوشیاں کشید کریں!

ایک ویب سائٹ کھنگالنے کے دوران ایک تصویر پر نظر جا رکی۔ ایک ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں اوزار لیے کھڑے ہیں، سامنے اسٹریچر پر ایک بھالو لِٹا رکھا ہے۔ تعجب ہوا کھلونے کا آپریشن؟ پھر نظر جا کر ایک خبر پر رکی، جس کی تفصیل کچھ یوں تھی؛ ”ایک بچہ کینیڈا کے ہیلتھ سینٹر پہنچا اور ڈاکٹر سے اپنی معصوم خواہش کا اظہار کیا کہ میرے بھالو کا آپریشن کر دیں، یہ ٹھیک سے سو نہیں پاتا۔ “ انہوں نے بھالو کو ہسپتال داخل کیا پھر باقاعدہ بیہوشی کی دوا دے کر، اوزار اٹھا کر آپریشن کیا۔

ننھا مریض آپریشن مکمل ہونے کے بعد بھالو کو گھر لے گیا اور اب وہ سکون سے سونے لگا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں : ”بچے کو خوش کرنے کے لیے اس کی ضد پوری کی۔ “ انہوں نے ڈرامائی سرجری کی تصاویر شیئر کی تھیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تصویریں خاصی پسند کی گئیں۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا ”بچے کو خوشی دے کر وہ بہت سکون محسوس کر رہے تھے۔ “

Read more

اردو کی غلطیاں کیسے دور کریں؟

کسی بھی تحریر میں ذکر کیا گیا واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں استعمال کیے گئے الفاظ کی بھی ہوتی ہے۔ یعنی تحریر کی خوبصورتی الفاظ کے انتخاب؛ اور اس کے بعد صحیح اور برمحل استعمال میں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تحریر تو بہت شاندار ہوتی ہے لیکن دو چار الفاظ اس کا مزا کِرکرا کردیتے ہیں۔ نادانی یا نادانستگی میں ہم الفاظ کو صحیح طور ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی مذکر و مونث کی چھوٹی سی غلطی تحریر کو پھیکا کردیتی ہے تو کبھی ”کا، کے، کی، ہے، ہیں اور نون غنہ، ہوتا، ہوتی“ وغیرہ کا غلط استعمال تحریر کو اڑان بھرنے سے روک لیتا ہے۔

اب یہ مسئلہ تو زبان کا ہوتا ہے۔ مادری زبان کا اثر اردو پر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ بولیے یا لکھیے، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اظہارِ خیال فرمانے والے شخص کی مادری زبان اُردو نہیں، کچھ اور ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے دانشور دیکھے جن کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے۔ ان کی تحریر منٹوں میں سیکڑوں لائیکس اور کمنٹس اکٹھا کرلیتی ہے، لیکن جب تحریر پڑھیں تو وہی زبان کا مسئلہ، مذکر مؤنث کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کون سا لفظ کہاں اور کیسے لکھنا ہے، معلوم ہی نہیں۔ داد و تحسین کے شور و غوغا میں ایسی غلطیوں کی نشاندہی ممکن نہیں رہتی اور یوں قلمکار اپنی غلطیوں میں بھی پختہ سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے۔

Read more

بجلی کی یاد میں

بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی بالآخر آنکھیں جھپکاتی ہوئی چلی گئی۔ خاصے انتظار کے باوجود نہ آئی، ہمت فین جھلتے جھلتے کلائی دُکھنے لگی تو میں تنگ آ کر باہر نکل گیا۔ کیا دیکھتا ہوں ''میرا دوست باغیچے میں اکیلا بیٹھا ہے، وہ بھی سیگرٹ سلگائے بغیر''۔ اول تو میں نے آنکھیں پھاڑ کر…

Read more

زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے

امریکی کہاوت ہے ’دنیا میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیسے زندہ رہا جائے؟ ‘ کب تک زندہ رہنا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن ہمیں فی زمانہ یہ سوال درپیش ہے کہ ’کیسے زندہ رہا جائے؟ ‘ وہاں جہاں ہر سو موت تقسیم ہوتی ہو، موت بک رہی ہو، موت…

Read more

پختونخوا میں کب نظر آئے گی تبدیلی کی بہار

”تعلیم و تربیت ایک سنجیدہ کام ہے، تعلیمی معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ صوبے میں تعلیم کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت کام کر رہی ہے۔ ‘ یہ کاغذی باتیں تھیں جو گزشتہ…

Read more

الجھن کی سلجھن

گالم گلوچ سے تر زبان کٹر کٹر چلی جا رہی تھی۔ تیز آواز سے وہ اپنے بیٹے کو کوس رہے تھے۔ راہ گیر رک رک کر دیکھتے، کون ہے وہ عظیم انسان جس پر مغلظات کی بارش ہو رہی ہے۔ وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ سر اٹھاتا بھی کیسے؟ تماش بین تھے کہ دکان کے…

Read more

گُل فردوس

وہ مجھے ہی گھور رہی تھی۔ میں اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ اس کی مخروطی آنکھوں میں عجب معصومیت رچی تھی۔ میں پوری محویت سے اسے دیکھتا رہا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا، کچھ بھی ہو، ہے تو میرے پڑوس میں، مجھے اخلاقی تقاضے سے خیال رکھنا چاہیے، کوئی دیکھ…

Read more

گُل فردوس

وہ مجھے ہی گھور رہی تھی ۔ میں اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ اس کی مخروطی آنکھوں میں عجب معصومیت رچی تھی۔ میں پوری محویت سے اسے دیکھتا رہا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا ، کچھ بھی ہو ، ہے تو میرے پڑوس میں ،مجھے اخلاقی تقاضے سے خیال رکھنا…

Read more

جب الفاظ اپنی حرارت کھو بیٹھے

ملک کے بائیسویں وزیراعظم کے حلف اٹھاتے وقت پورا مجمع دم سادھے بیٹھا تھا۔ خاموشی کا یہ عالم تھا کہ اڑتی ہوئی مکھی کی بھنبھناہٹ بھی صاف سنائی دیتی۔ جب وہ حلف کے الفاظ دہراتے ہوئے اٹکے اور ہنس کر گزر گئے۔ جب سے ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کی تقریب…

Read more

اپنے وطن کو برگ و شجر کا تحفہ دیں

ماہِ اگست شروع ہوتے ہی چہار سو ہریالی نظر آتی ہے۔ گلی محلوں سے گزر ہو یا پھر بازاروں، مارکیٹوں سے، گردو نواح پر نظر ڈالیں تو ہریالی ہی ہریالی دکھائی دیتی ہے۔ برقی قمقمے، روشنیاں، جھنڈیاں۔ جی خوش ہو جاتا ہے کہیں سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے تو کہیں سبز و سفید رنگ…

Read more