عدل مثل حیات اور ناانصافی مانندِ موت ہے۔۔

شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ”عدل وہ انصاف کے ساتھ سیاست و حکمرانی تین صفات سے حاصل ہوتی ہے،

1۔ ہوشیاری کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کرنے سے۔
2۔ عدل و انصاف میں انتہائی کوشش کرنے اور اس کا پورا حق دلانے سے
3۔ لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے اور میانہ روی کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے۔ ”

وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی یقیناً مولا علی کے اسی قول کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔ ہم ان کی نیت ان کے جذبے کو ہرگز شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے ہیں مگر اس مختصر سے دور حکمرانی کے دوران خان صاحب کے کسی ایک اقدام سے بھی ایسا نہیں لگا کہ وہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام میں سنجیدہ ہیں۔ خان صاحب کے ایک سؤ سے زائد دنوں پر محیط اپنے اقتدار کے ایک دن میں بھی ایسا نہیں لگا کہ جب انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف نرم لب ولہجہ اختیار کیا ہو۔

Read more

عمران خان کا طرزِ حکمرانی اور عوام کا بڑھتا اضطراب

میرے کپتان کو برسرِ اقتدار ہوئے ابھی محض سو روز ہی ہوئے ہوں گے کہ ان کے مثالی طرز حکمرانی اور سادگی کے قصے زبان زدِ عام ہوگئے ہیں۔ کبھی وہ اور ان کا موٹو پچاس روپے کلو میٹر کے حساب سے اڑنے والے ہیلی کاپٹر میں سفر کرکے سرکاری خزانے کا بوجھ ہلکا کر…

Read more

کرتار پور بارڈر کا کھلنا اور یوٹرن ماسٹر کا مہا یوٹرن

کرتار پور راہداری بالآخر کھول دی گئی، جس راہداری کے کھلنے کی خواہش مند شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی تھیں اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی مگر کریڈٹ ملا یوٹرن ماسٹر وزیراعظم عمران خان صاحب کو۔ کرتار پور راہداری کھلنا یقیناً ایک احسن اقدام ہے مگر جس طریقے سے اسے کھولنے کا اعلان کیا…

Read more

عمران خان کو اپوزیشن سے خطرہ ہے یا اپنی نااہلی سے

پاکستان کے محترم وزیراعظم جناب عمران خان صاحب ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ اپوزیشن پہلے دن سے انہیں اقتدار سے بے دخل کر نے کی خواہاں ہے۔ اب یہ ان کا گمان ہے، وہم ہے یا ان کے کسی قریبی ساتھی نے انہیں یہ باور کرایا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مگر خان صاحب نے کم و بیش وہی باتیں کہیں جو وہ اپنے ہر غیر ملکی دورے میں اپنے ملک میں کرپشن، منی لانڈرنگ اور مخالف قیادت کا اس کرپشن میں ملوث ہونے اور انہیں نشان عبرت بنانے کے بارے میں کرتے آئے ہیں۔ اسلم گورداسپوری نے شاید، خان صاحب جیسوں کے لئے ہی کہا ہے کہ ”پھرتے ہیں اپنے آپ میں ہم کیا بنے ہوئے۔ سارے جہاں کا ہم ہیں تماشا بنے ہوئے“

عمران خان صاحب جو محض چھ سات ووٹوں کی اکثریت کی بنیاد پر وفاق میں برسرِ اقتدار ہیں اسی طرح سے وہ پنجاب کے اقتدارِ اعلیٰ پر

Read more

ووٹ کی عزت کی گونج خاموش کیوں ہو گئی؟

میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر نے پاناما کیس میں نااہلی کی سزا کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہور تک کا سفر ہزاروں افراد کے قافلے میں "ووٹ کو عزت دو" کے نئے بیانیے کے ساتھ مکمل کیا۔ اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران جگہ جگہ ، شہر شہر…

Read more

ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا اور قتل، حکومت کی مجرمانہ غفلت

ایک دن موجودہ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے زینب زیادتی و قتل کیس میں قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”جس قتل کا قاتل نہ ملے اس کا ذمے دار حاکم وقت ہوتا ہے۔ علی محمد خان، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضہ اللہ عنہ کا یہ قول…

Read more

فواد چودھری وزیر اطلاعات ہیں یا وزیرِ فساد ہیں

پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے قومی اسیمبلی میں اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری۔ پورے ملک نے نظارہ کیا کہ کس طرح ڈاکووں، قاتلوں، چپڑاسیوں، نیب زدہ کرپٹ سیاستدانوں، ضمیر فروش آزاد ارکان نے مل کر عمران خان صاحب کی حکومت بنانے میں کردار ادا کیا۔ عمران خان فرماتے تھے کہ اگر…

Read more

کون سا این آر اور اور کیسا این آر او؟

کچھ دنوں سے ملک میں ایک بار پھر این آر او کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ مگر اس بار یہ گونج کسی فوجی ڈکیٹیٹر کی جانب سے نہیں بلکہ ملک کے آئینی وزیراعظم اور ان کے کچھ زعماء کی طرف سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں این آر او کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی…

Read more