فہمیدہ ریاض تانیثی شاعری کا معتبرحوالہ

ایسے دقیق خیالات و نظریات کو نظم کرنے کے علاوہ ’کب تک‘ ، ’زبان کا بوسہ‘ ، ’ایک لڑکی سی‘ ، ’باکرہ‘ ، ’ایک عورت کی ہنسی‘ ایسی بے شمار بے باک نظموں کو جنم دیا۔ جولائی 1945 ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والی اِس لڑکی کی ابتدائی نظمیں زمانہ طالبِ علمی میں ”فنون“ کا حصہ بنیں۔ 1967 ء میں پہلا شعری مجموعہ ”پتھر کی زبان“ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ 73 ء میں ”بدن دریدہ“ اور اُس کے بعد ایک مجموعہ ”دھوپ“ کے عنوان سے چھپا۔ کئی شعری مجموعوں کے علاوہ افسانوی نثر بھی شائع ہوئی۔

شادی سے پہلے کراچی اور بعد ازاں لندن مقیم رہیں۔ لندن میں بی بی سی سے وابسطہ ہوئیں، لندن کالج آف فلم ٹیکنیک سے فلم پڑھتی رہیں۔ فہمیدہ ریاض شاعری سے ہٹ کے خواتین کے استحصا ل اور معاشرتی جبروقیود کے خلاف عملی طور پر سرگرم رہیں۔ ”آواز“ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ضیا الحق کے دور میں جبری جلا وطنی کے نتیجے میں ہندوستان شفٹ ہوئیں۔ ہندوستان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بھارت قیام کے دوران ”آئی ایس آئی“ کی ایجنٹ کہلوانے والی فہمیدہ ریاض ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان آئین تو یہاں اِنھیں ”را“ کا ایجنٹ کہا گیا۔

Read more

مدیحہ گوہر: پاکستانی عورت کی ذہانت اور ہمت کا نشان

مدیحہ گوہر سے پہلا تعارف اجوکا تھیٹر کا معروف کھیل ”کون ہے یہ گستاخ ؟“ دیکھنے کے بعد اُس وقت ہوا جب کھیل کے اختتام پر فنکاروں کا تعارف پیش کرنے کے لیے وہ سٹیج پر آئیں۔پیش کیے جانے والے کھیل کا تعلق سعادت حسن منٹو کے متنازعہ افسانوں اورمنٹو کی زندگی کے نشیب وفراز…

Read more