اوور سیز پاکستانی اور فون: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

اب تو پتہ نہیں کیا حالات ہیں مگر ہمارے بچپن اور جوانی میں ہائی وے ان ٹرکوں سے بھری ہوتی تھی جن کے پیچھے فیلڈ مارشل ایوب خان کی دیو قامت تصویر ہوتی تھی اور نیچے نہایت دلگیر انداز میں لکھا ہوتا تھا ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

ایوب خان کا ٹرک کچھ یوں یاد آیا کہ اب دوسرے فون پر ائرپورٹ پر بھاری ٹیکس لگنے کے بعد اب اوورسیز پاکستانی کہیں اپنی ڈی پی پر گرین چینل بنانے والے نواز شریف کی تصویر لگا کر نیچے یہ کیپشن نہ دینے لگیں ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

Read more

اسد عمر اب جنید جمشید کی بجائے نصیبو لال کو مشعل راہ بنائیں

جناب اسد عمر نے حکومت سازی سے چند دن پہلے 7 اگست 2018 کو اپنی معاشی پالیسی کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ بات طے تھی کہ وہ 18 اگست کو بننے والی حکومت میں وزیر خزانہ ہوں گے۔ لوگ بے چین تھے کہ ان کی ویژن سے روشناس ہوں۔ اسد عمر نے بتایا کہ ”‏جنید جمشید کے گانے کے یہ الفاظ تحریک انصاف کی حکومت کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ ۔ ۔ ہم کیوں چلیں اس راہ پر جس راہ پر سب ہی چلے۔ ۔ ۔ کیوں نا چلیں اس راہ پر جس پر نہیں کوئی گیا“۔

بخدا وہ اس راہ پر چلے۔ خوب چلے۔ گزشتہ حکومتیں تو بس سیدھی سی راہ پر چلتی تھیں تحریک انصاف کی معاشی پالیسیاں تو رولر کوسٹر رائیڈ ثابت ہوئیں۔ پل بھر میں سٹاک مارکیٹ ہزار بارہ سو پوائنٹ گر جاتی ہے اور ابھی سرمایہ کار اس پستی سے سنبھل نہیں پایا ہوتا کہ ڈالر دس روپے اوپر چڑھ جاتا ہے۔ واقعی اس راہ پر پہلے نہیں کوئی گیا۔

Read more

گناہ پر ٹیکس کا سلگتا ہوا منصوبہ

وزیر صحت نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ سگریٹ پر گناہ کا ٹیکس لگائیں گے۔ لبرل پہلے ہنسیں گے مگر پھر روئیں گے کیونکہ وزیر صحت نے بتایا ہے کہ یہ ٹیکس سول سوسائٹی کے مطالبے پر لگایا جا رہا ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ 45 ملکوں میں یہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ ہمیں ہالینڈ کا تو پتہ تھا کہ ادھر ایک کوچے میں باقاعدہ خواتین لائسنس لے کر گناہ کرواتی ہیں اور حکومت کو سروسز فیس میں سے حصہ دیتی ہیں لیکن باقی 44 کا علم نہیں تھا۔

بعض افراد پوچھیں گے کہ کیا سگریٹ نوشی واقعی گناہ ہے؟ فرائیڈ نے اس معاملے میں لمبی تحقیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سگریٹ کو ہونٹوں میں دبانے کا جنسی خواہش سے گہرا تعلق ہے۔ اب جو شخص دن کی دو ڈبیاں پی جاتا ہو، اس کے اندر کتنی فحاشی بھری ہو گی؟ اسے بری بری باتیں سوچنے سے روکنے کا یہ ایک اچھا طریقہ ہے کہ اس کے جذبات کو اتنا مہنگا کر دیا جائے کہ وہ گناہ سے تائب ہونے کا سوچے۔

Read more

نیا پاکستان: کامیابی کے شاندار سفر کی عالی شان شروعات

پہلے سو دن میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیا۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ورنہ ہر نئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے در پر سوالی بن کر پہنچ جاتی ہے۔ اب سو دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیے بغیر ہی کام چلایا ہے۔ بلکہ آئی ایم ایف کے اصرار کے باوجود اسے ٹالا ہے کہ پہلے ہم اپنے برادر ممالک سے قرضہ یا پیکیج لیں گے اور اگر آپ سے لیا بھی تو بس آپ کا دل رکھنے کو بات کریں گے۔ حکومت کے علاوہ ہم آئی ایم ایف کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے قرضہ دینے میں بہانے کر کر کے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

Read more

سعودی بلاگر کی ٹویٹ اور پاکستانی افسروں کی شکایت

پاکستانی حکومتی سیانے اس وقت سعودی بلاگر رائف بداوی کی کینیڈا میں مقیم بیوی انصاف حیدر سے پاکستان کی عالمی عزت افزائی کروا رہے ہیں۔ اس بی بی نے نقاب کے خلاف ایک ٹویٹ کر دی جس میں ایک نقاب پوش عورت کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ نقاب کے خلاف ہیں تو اسے ری ٹویٹ کریں۔ ہمارے سرکاری سیانوں نے اس سعودی کینیڈوی معاملے کو پاکستانی قانون پر تولتے ہوئے ٹویٹر کو شکایت لگا دی کہ یہ بی بی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ٹویٹر کے لیگل ڈیپارٹمنٹ نے اس بی بی کو میل کر دی کہ ہمیں آفیشل شکایت ملی ہے کہ تم نے پاکستانی قانون توڑا ہے۔ اس شیطان کی چیلی نے وہ نوٹس ٹویٹ کر دیا۔ انگریزی کے علاوہ اس عربن نے بظاہر بھارتیوں کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے  ہندی زبان میں ٹویٹ کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے :

Read more

ڈھائی ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے ایک لاکھ ماہانہ کمائیے

ہمارے وزیراعظم نے سکیم پیش کی ہے کہ وہ دیہات کی تمام خواتین کو پانچ پانچ مرغیاں دیں گے اور اس کے نتیجے میں غربت میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔ اس پر ناسمجھ لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے تو تنگ آ کر انہوں نے انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ”نوآبادیات سے متاثر (غلامانہ) ذہنوں کو مرغبانی کے ذریعے غربت کے خاتمے کا خیال مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے مگر جب ’گورے‘ دیسی مرغیوں (مرغبانی) کے ذریعے غربت مٹانے کی بات کرتے ہیں تو اسے“ خیالِ نادر ”قرار دے کر یہ عش عش کراٹھتے ہیں۔ “

اس کے ساتھ ہی انہوں نے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک مضمون بھی پیش کیا جس میں ایسے چشم کشا اعداد و شمار موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد عمران خان کے تمام حامیوں اور مخالفین کو ان کی حمایت اور مخالفت چھوڑ کر مرغیوں کی افزائش شروع کر دینی چاہیے۔

Read more

دیسی مرغی اور فاسٹ باؤلر کی ناقابلِ فہم گگلی

وزیراعظم عمران خان نے اپنے سو دن پورے ہونے پر تقریر میں معاشی انقلاب لانے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہاتی عورتوں کو دیسی مرغی اور انڈے دیے جائیں گے جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی۔ بعض کم فہم افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایک مرغی ایک عورت کی زندگی بدل سکتی ہے؟ کیا پاکستان میں اتنی دیسی مرغیاں اور انڈے ہیں کہ ہر دیہاتی عورت کو دیے جا سکیں؟ ان ناقدین کے پاس ویژن ہوتی تو یہ سوال نہ پوچھتے۔

مرغی ملنے کے بعد ایک عورت کو صرف اس کے رہائشی ڈربے کا انتظام کرنا ہو گا۔ یا وہ بھی نہ ہو تو خیر ہے۔ مرغی خود ہی کسی درخت پر رات بسر کر لے گی۔ باقی اس کو پالنے کا خرچہ بھی کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کے ممتاز بینکر اور مزاح نگار یوسفی فرما گئے ہیں کہ ”مرغ اور ملا کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے، دانہ دنکا، کیڑے مکوڑے، کنکر پتھر چن کر اپنا پیٹ بھر لیں گے“۔ اس لئے یہ مرغیاں سیلف سسٹینڈ پراجیکٹ ہوتی ہیں۔

Read more

آبادی پر کنٹرول کے چند غیر روایتی طریقے

ملک میں آبادی کا سونامی آیا ہوا ہے۔ 1947 میں ساڑھے تین کروڑ سے کم آبادی والا موجودہ پاکستان اس وقت بائیس کروڑ آبادی رکھتا ہے۔ نتیجہ کہ یہ بے شمار بچے نہ صرف پانی کے دشمن بنے ہوئے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے زرعی زمینیں اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے اس سونامی کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایکشن تو جنرل ایوب خان کے دور سے لیا جا رہا ہے لیکن آبادی میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دن والے معاملے کو تو حکومت جوڑوں سے نکاح نامے مانگ کر کسی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے مگر رات والے معاملے میں لبرل اور ملا ہر دو طبقات شور مچا کر حکومتی پلاننگ کو ناکام کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ آبادی پر کنٹرول کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ سوچا جائے۔ ہمارے ذہن میں چند تجاویز آئی ہیں جن پر حکومت، ہیئت مقتدرہ اور چیف جسٹس کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

پہلی تجویز یہ ہے کہ کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی عائد کر دی جائے۔ جو لڑکا بھی ساٹھ سال کی عمر سے پہلے شادی کرے اسے توہینِ عدالت کے جرم میں ساٹھ سال کی عمر تک کے لئے قید کر دیا جائے۔ اسے خود سوچنا چاہیے کہ عدالت عظمی کتنی سنجیدگی اور درد مندی سے آبادی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کم بخت اسے ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ساٹھ سال کی عمر تک یہ نوجوان دل لگا کر اپنا کام دھندا کریں گے اور ساٹھ برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد ہی عشق معشوقی کریں گے جو غالب کی گواہی کے مطابق بندے کو نکما کر دیتی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ بیس تیس سال کی عمر میں ہی یہ نوجوان نکمے ہو کر ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

Read more

چیف جسٹس نے کنواروں کو بتا دیا کہ بچے بس دو ہی اچھے

چیف جسٹس نے برطانوی شہر مانچسٹر میں خطاب کرتے ہوئے آبادری کے مسئلے پر توجہ دی۔ انہوں نے فرمایا کہ ”میں اس کی شروعات اپنے گھر سے کروں گا اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کروں گا“۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ”جن لوگوں کی شادی نہیں ہوئی، وہ سن لیں کہ بچے 2 ہی اچھے“۔

یہ ایک اہم پیغام ہے۔ چیف صاحب کو تو خیر گھر سے شروعات کرنے میں غالباً کچھ دیر ہو گئی ہے، لیکن بہرحال وہ اپنے بچوں کو ضرور اس کی تلقین کر دیں۔ لیکن ہمیں زیادہ فکر ان لوگوں کی ہے جن کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔ واقعی ان کو چیف صاحب کی بات پر نہایت غور کرنا چاہیے۔

ہم ایک پاک صاف معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہ کوئی یورپ امریکہ تو نہیں ہے کہ غیر شادی شدہ لوگ کسی خوف فکر کے بغیر عشق لڑا کر فسق و فجور کا بازار گرم کرتے رہیں اور ملک میں غیر شادی شدہ باپ اور کنواری مائیں تین چار بچے پیدا کرتے ہوئے شرم بھی نہ کریں

Read more

لارا بابا

کمال کے قصہ گو ہیں۔ نہایت باخبر ہیں، عالم بالا تک کی پکی خبریں نکال لاتے ہیں۔ میڈیا کی ہر اہم اور غیر اہم شخصیت سے قریبی تعلق کا دعوی رکھتے ہیں، اور بتاتے رہتے ہیں کہ کہاں کہاں ان کی راہنمائی کے باعث ان شخصیات نے اپنی تحریروں یا پروگراموں میں اہم انکشافات کیے ہیں لیکن ان کو کریڈٹ نہیں دیا۔

پھر وہ اپنے تجزیات پیش کرتے ہیں اور غلط ہونے پر وہ وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ بین الاقوامی حالات میں ہونے والی کس اچانک تبدیلی کی وجہ سے کسی مقامی سیاسی حلقے کے حالات بدل گئے ہیں اور وہاں کی انتخابی نتائج ان کی پیش گوئی سے مختلف نکلے ہیں اور پھر کمال خود اعتمادی سے نیا تجزیہ پیش کر دیتے ہیں۔

غضب کے قصہ گو ہیں۔ درجن بھر قصے ایک ہی نشست میں سنا ڈالتے ہیں۔ بندہ حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ لارا بابا کی معلومات کتنی زیادہ ہیں، ان کا انداز بیان کتنا دلچسپ ہے اور ان کے دوستوں کے حالات کیسے عجیب ہیں۔ ان کے میڈیا کے دوستوں کا ذکر تو ہو ہی چکا ہے۔ زیادہ حیرت ان کے پہلی جماعت سے بڑھاپے تک کے دوستوں کے حالات زندگی پر ہوتی ہے جو پہلی جماعت سے بڑھاپے تک عشق کے ہاتھوں برباد ہوئے یا درے اور افغانستان میں جنگ کرنے گئے۔

Read more