فہمیدہ

جو بھی لکھّا سچّا لکھّا، جُھوٹ کے روپ دکھائے کورا کاغذ لے کر آئی، جو دیکھا وہ لکھا علم کی چادر میں جو تھے وہ کانٹے ہمیں دکھائے ظالم ساری چھاﺅں کھا گئے، آگ لگی آنگن میں زہر بھرا میٹھے قصوں میں، سانپ بھرے تن من میں کورا کاغذ لے کر آئی جو دیکھا وہ…

Read more

احفاظ الرحمٰن کی چند نظمیں

فریبوں کی سپاہ عکس در عکس اترتی ہے فریبوں کی سپاہ غُل مچاتی ہوئی پرچھائیاں سینے پہ سوار حلق کی سمت لپکتی ہوئی قاتل برچھی جانب قلب جھپٹتی ہے وہ خونیں تلوار آنکھ کو تاک رہا ہے یہ ستم گر نیزہ عکس در عکس اُترتی ہے فریبوں کی سپاہ کھوکھلے سر میں اُبھرتا ہے مسیحائی…

Read more

چل رہی ہیں، چل رہی ہیں، چل رہی ہیں قینچیاں

”ادارے“ مقدس ہیں، ان کے اختیارات لامحدود ہیں۔ ان کا ہر عمل واجب احترام ہے۔ تنقید کا ایک بھی لفظ زبان پر مت لاؤ ورنہ مٹا دیے جاؤ گے، پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہو جاؤ گے۔ اسی میں عافیت ہے۔ شان میں گستاخی کرو گے تو بھسم کردیا جائے گا، کسی نقص کی نشان…

Read more