لال بھکاری معیشت کے اصول

عزیز ہم وطنو بوراکئے ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا سائز ڈی ایچ اے کے ایک سیکٹر سے بھی کم ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بارہ لاکھ سالانہ ہے۔ اس کے برعکس ورلڈ اکانامک فورم کی سیاحت کے بارے میں رپورٹ برائے 2017 کے مطابق تقریباً نو لاکھ مربع کلو میٹر پے پھیلے پاکستان میں ایک سال میں کل ملا کر نو لاکھ پینسٹھ ہزار سیاح آئے۔ بقول برٹش فارن ٹریول ایڈوائزری کے ان میں سے بھی دو لاکھ ستر ہزار برطانوی شہری ہیں جن میں اکثریت ممکنہ طور تارکین وطن کی ہو سکتی ہے۔

آج دوپہر میں ناچیز فلپائن کے محکمہ سیاحت کے منیلا ہیڈکواٹر میں بیٹھا تک رہا تھا کہ چودہ دسمبر 2018 تک فلپائن میں ستر لاکھ کے قریب غیر ملکی سیاح آ چکے ہیں جن میں چار ہزار کے قریب پاکستانی بھی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی پاکستانی مل جائے تو ضرور پوچھیں۔ نہ ان کی پولیس ہم سے اچھی ہے، نہ سفارت خانے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ کرپشن وہاں بھی ہے، جرنیل ان کے بھی گوڈوں اور گٹوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور نا ہی کوئی کے ٹو اور راکی پوشی وہاں سر نکالے کھڑیں ہیں، نا کشمیر جیسی وادیاں ہیں، نا نلتر جیسی جھیلیں ہیں، نا تھر جیسا صحرا ہے، نا سوات جیسا حسن ہے، نا کیلاش جیسے لوگ ہیں، نا دیوسائی جیسا میدان ہے، نا ٹھٹھ جیسا قبرستان ہے، نا ناران ہے، نا گلگست بلتستان ہے، نا صدیوں پرانی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیبیں ہیں۔

Read more

سلطنت شغلیہ اور ماچو مین

  آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ایک لاہوری لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ عوام سے اپیل کر رہا تھا کہ اگر پولیس والے ہمیں ماریں گے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ یہ ایک لڑکے کی بات نہیں۔ یہ ایک طبقے کی بات تھی۔ ایک پڑھا لکھا طبقہ جو اپنے…

Read more

بغیر پرچی کے تقریر مت کرو بھائی!

جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کے بعد فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کے عظیم ترین صدر گردانے جاتے ہیں۔ روز ویلٹ نے جب اقتدار سنبھالا تو معاشی بدحالی کے باعث ملک میں سوگ کا سا سماں تھا۔ ہزاروں لوگ فاقوں سے مر چکے تھے۔ بھوک، پیاس، ننگ اور افلاس کا دور دورہ تھا۔ لیکن جب تیرہ سال بعد روزویلٹ کا اقتدار ختم ہوا تو امریکہ سپر پاور بن چکا تھا۔

روز ویلٹ نے لوگوں میں امید پیدا کی۔ حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں ہی کہہ دیا کہ امریکیوں کو اگر کسی چیز سے ڈرنا ہے تو وہ صرف ڈر ہے، باقی کچھ نہیں۔ روز ویلٹ ریڈیو استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا سیاست دان ہے۔ رات کے وقت قوم سے ریڈیو پے گفتگو کا ایسا سلسلہ شروع کیا وہ ہر امریکی کی روزمرہ کی اور ذاتی زندگی کا حصہ بن گیا۔ لہجہ ایسا تھا کہ پتھر دل بھی پگھلا دیتا، دلیلیں اتنی مضبوط اور عام فہم تھیں کہ عام آدمی سے لے کر مدبروں کو بھی قائل کر لیتی۔ بے لوث پن تھا، شجاعت تھی، ادراک تھا، دوراندیشی تھی۔ دوسری جنگ عظیم آئی تو اس نے کہا ہم نے نہیں لڑنا، چورانوے فیصد امریکیوں نے سر تسلیم خم کر دیے۔

Read more

فیس بک ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے؟

چار ہفتے پہلے فیس بک کی طرف سے کمیونٹی کے معیارات کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بقول مختار مسعود صاحب، ”جب خواہش قلبی اور فرائض منصبی کی حدیں مل جائیں تو خوش بختی جنم لیتی ہے۔ “ وقت طے تھا، مقام بھی آگیا۔ ہم نے پہنچنے میں عجلت کا…

Read more

الہ آباد اب ہم میں نہیں رہا!

جمنا حجم کی بڑی ہے تو گنگا سبک رفتار۔ گنگا ہندو مذہب کا مقدس ترین دریا ہے۔ ملک بھر کے طو ل وعرض میں گنگا جل کو مذہبی رسومات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہر بارہ برس بعد کرہ ارض پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع کمبھ کا میلہ آلہ آباد میں ان دو دریاؤں کے سنگم پر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے آزاد خیال سیکولر بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی خواہش تھی کہ ان کی ارتھی کی راکھ اس دریا میں بہائی جائے۔

سن 1583 کی ایک خوشگوار شام بادشاہ اکبر کوہ ہمالیہ سے بچھڑی دو دوشیزاؤں کے سنگم پہ پہنچا تو کشش اتصال نے مزید پہل قدمی سے روک دیا۔ پورے چار مہینے گزارے اور موجودہ شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام پریاگ سے تبدیل کر کے الہ آباد رکھ دیا۔ اس شہر نے تقسیم ہند کے بعد ملک کو سات وزراء اعظم دیے۔ اسی مناسبت سے اسے سٹی آف پرائم منسٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بڑا صاحب اثر شہر تھا۔ غلام ہندوستان میں آزادی کی تحاریک کے بنیادی ڈھانچے اور منشور اسی شہر میں تیار ہوئے۔ پاکستانی لوگ اسے خطبہ الہ آباد کی نسبت سے جانتے ہیں جس میں شاعر مشرق نے ہندوستان میں آزاز مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔

Read more

آسیہ بی بی اور مکافات عمل

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں (فراز) اتنی جلدی مکافات عمل۔ وقت کتنی تیز چل رہا ہے۔ انسان بھلے جتنا بھی طاقتور ہو جائے یاداشت کی حدود اور اعمال کے دائروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ نمرود ہو یا فرعون، یزید ہو یا…

Read more

عمران خان اور پنجاب یونیورسٹی کے غنڈے

اگر آپ نے سنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ نقصان ان پڑھوں نے نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے تو اس سے بہتر اس کی کوئی اور مثال کیا ہو گی۔ یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اگر اسی طرح چلتے رہے تو یہ ملک بھی اسی طرح چلتا رہے گا۔ تبدیلی کا آغاز تعلیمی اداروں سے ہوگا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے چند نادان پرندے نہیں بلکہ اس کی جڑیں اکھاڑ پھینکنی ہوں گی۔ وہ جڑیں جو نام نہاد سیاسی پروفیسروں کے حلق سے اتر کر ان کے دل و دماغ میں پیوست ہیں۔

اس وقت ان سے نمٹنے کے لئے عمران خان سے بہتر کوئی بندہ نہیں، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جو ان سے پھینٹی کھا کر وزیر اعظم بنا ہے۔ ورنہ ہمیشہ پھینٹی لگانے والے ہی وزیر مشیر بنتے رہے ہیں۔ ہارورڈ سکول آف انجینرنگ کے ماہرین کی طرح شاید ابھی ہم رات کی تاریکی میں تو نہ دیکھ پائیں لیکن ہمیں دن کے اجالے میں دیکھنے کے قابل ضرور ہو جانا چاہیے۔

Read more

پٹواری، یوتھیے اور امریکی

حادثاتی طور پر امریکہ کے صدر بننے والے ہیری ٹرو مین دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے حادثے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اس سے مشکل فیصلہ ابھی تک کسی بنی نوع انسان نے نہیں کیا۔ پلک جھپکتے ہی ڈیڑھ لاکھ لوگ بخارات بن کر ہوا میں گھل گئے۔ چیخ تک نہیں نکلی…

Read more

چالیس برس پرانا ایک ہوائی حادثہ اور ہماری ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں

ستائیس مارچ 1977 کو پین امریکن ائرلائن (Pan American) اور کے ایل ایم ائر   (KLM)کے بوئنگ طیارے اپنے اپنے ملکوں سے اڑے ۔ منزل کینری آئی لینڈ تھی۔ لیکن سیکورٹی صورتحال کے باعث دونوں پروازوں کو قریب واقع ٹینی رایف ائر پورٹ پر اترنا پڑا۔ اس چھوٹے سے ائرپورٹ پر ہمارے تربت ائرپورٹ کی طرح…

Read more

ملائشیا میں پاکستان کا چہرہ دیکھا

خط استوا پر واقع ملائشیا ایک مسلم اکثریتی آبادی کا ملک ہے۔ رقبے میں بلوچستان اور نفوس میں پختونخواہ سے بھی کم ہے لیکن جی ڈی پی پورے پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ مسلمان آبادی کی اسی فیصد عورتیں حجاب کرتی ہیں اور نوے فیصد نوکری، کاروبار یا کھیتی باڑی کرتی ہیں۔ سیاحت ملائشیا کی…

Read more