جون ایلیا کا جہان احمد جاوید کی دنیا سے الگ ہے

کئی برس ہوئے، دبئی میں ایک مشاعرہ ہوتا ہے، ناظمِ مشاعرہ ایک خستہ تن و شکستہ دل شاعر کو یہ کہہ کر دعوتِ سخن دیتے ہیں کہ ”اب تشریف لاتے ہیں جون اولیا، جونِ عظیم ایلیا“

جَون صاحب نڈھال قدموں سے آتے ہیں، اور یوں کلام کرتے ہیں ”جانی! میں نہ تو جون اولیاء ہوں اور نہ ہی جونِ عظیم ایلیا! میں ایک بونا شاعر ہوں، یہ بونوں کا معاشرہ ہے اور میں ایک بونا شاعر ہوں“

اور جب اپنی اوّلین کتاب ”شاید“ کا حشر انگیز دیباچہ آغاز کرتے ہیں، تو پہلی بات ہی یہ لکھتے ہیں کہ ”یہ ایک ناکام آدمی کی شاعری ہے، بھلا یہ کہنے میں کیا شرمانا کہ میں رائیگاں گیا“

جو انسان، برسرِ عام، سینکڑوں لوگوں کے سامنے خود کو بونا شاعر کہہ رہا ہو، جو انسان اپنی کتاب کے دیباچے میں اپنی رائیگانی کا مکمل اعتراف کر رہا ہو، اور پہلی سطر ہی میں کر رہا ہو تو کیا اس شخص سے وقت کے کسی ایک ثانئیے میں بھی یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ اس نے خود کو ”بڑا شاعر“ کہلوانے کی ضد کی ہو؟

Read more