دُور کسی کونے میں مذہب روتا ہے

سیانے کہتے ہیں کہ انسان معاشرتی حیوان کے ساتھ ساتھ مذہبی جنونی بھی ہے۔ ہر فرد اور گروہ کسی نہ کسی مذہب سے موروثی رشتہ جوڑے ہوئے ہے۔ مذہب سلامتی ہے۔ دلوں کو جوڑنے کا نام ہے مگر ہمارے ہاں مذہب کو ہی توڑ توڑ کر کئی حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ بقول ابن انشا، ’ایک…

Read more

کچھ ”سیاہ سی“ باتیں

ہمارے ہاں ہر شخص، ہرگروہ اور ہر جماعت اپنے منہ میاں مٹھو، صادق و امین اور محب الوطن ہے جبکہ ان کے مخالفین سراپا لغزشوں اور خباثتوں میں لت پت ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سوقیانہ پن، گالی گلوچ اور کینہ پروری کو تہذیب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ جانے والوں کا منہ کالا اور آنے والوں کا بول بالا ہے۔ یہاں جیت اللہ کے فضل سے اور ہار صرف دھاندلی سے ملا کرتی ہے۔ اپنے نظام سیاست میں بیت الخلائی مخلوق یعنی لوٹوں کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔

یہ صورتِ خورشیدہی تو ہیں کہ ِادھر ڈوبے، اُدھرنکلے مگر اب تو انہیں بھی عزت دی جانے لگی ہے اور وہ الیکٹ ایبل کے متبرک اور مطہر نام سے موسوم ہوچکے ہیں۔ ضرورت سدا ہی نظریوں کی ایجاد کی ماں رہی۔ جب ہم عدالتوں کے ساتھ ”عالیہ“ اور ”عظمٰی“ کا نام سنتے ہیں تو عجیب سی رومانوی خوشی ہوتی ہے تاہم کبھی کبھی عدالت کے ساتھ ”دیوانی“ کا لفظ ناخوشگوار دیوانیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ بی بی شہید پیار سے انہیں ”کینگرو“ بھی کہا کرتی تھی۔

Read more

بد آوازی بھی عذاب سے کم نہیں

اچھی آواز قدرت کا انمول عطیہ ہے جو سامع پہ سحر انگیز کیفیت طاری کر کے اپنی جانب راغب کرتی ہے۔ جبکہ بھدی اور بری آواز انسان کی دل آزاری اور کوفت کا باعث بنتی ہے۔ آج کے ترقی زدہ دور میں لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ سسٹم نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے جن کے غلط استعمال سے ایسے بد آواز حضرات معاشرے میں بے چینی اور شور کی آلودگی کا موجب بھی بن رہے ہیں۔ سمعی آلودگی فی زمانہ انسانی صحت، اعصاب اور رویوں پر منفی اثرات مرتب کرہی ہے۔

لوگ دماغی امراض کے ساتھ ساتھ چڑ چڑے پن کا شکار ہورہے ہیں۔ آج بہت سے سیاسی، سماجی اور مذہبی راہ نما جو خوش آوازی کی خوش فہمی میں مبتلاہیں وہ عوام کو ذہنی و نفسیاتی مریض بنا رہے ہیں۔ مختلف تقریبات، محافل اور مساجد میں اس طرح کی آوازوں کے الاپ اور سخن وری معمولات بن چکے ہیں۔ کچھ حضرات تو مائیک چھوڑنا توہین سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حکایت بڑی دل چسپی کی حامل ہے۔

Read more

شرحِ خاوندگی

وطنِ عزیز ان دنوں شرحِ خواندگی اور شرحِ خاوندگی ہر دو کی بابت ڈھیروں مسائل کا شکار ہے۔ شرحِ خواندگی المناک حد تک کم اور شرحِ خاوندگی خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ چونکہ خواندگی سے اپنی قوم کو کوئی خاص سرو کار نہیں، لہٰذا پورا انہماک و استغراق خاوندگی اور زوجیت کے مباحث…

Read more

فیس بک کے واسطے پیدا ہوئی ہے نسلِِ نو

تاریخ ِعالم میں انسانیت کا رشتہ شاید ہی کسی اور چیز سے اتنا مضبوط ا ورپرخلوص رہا ہے جتنا کہ چودہ سال قبل منصۂ شہود پر آنے والی فیس بک سے طے ہو چکا ہے۔ آج فیس بک دلوں کی دھڑکن، آنکھوں کی ٹھنڈک، روح کی غذا اور آدابِ حیات کا جزوِ لا ینفک بن…

Read more

کل کا پن گھٹ، آج کا فلٹر

زمانے میں تغیرات کو ثبات حاصل ہونا عین فطری تقاضہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حسب ِ ضرورت چیزوں، روّیوں، روائیتوں اور اقدار کا بدلنا لازمی امر ہے۔ کچھ معمولات مکمل بدل جاتے ہیں تو کچھ قدرے تبدیلی کا شکار ہوکر مختلف دِکھتے ہیں۔ مگر بعض روایات کچھ عرصہ غائب رہ کر گردش ِ ایاّم…

Read more