اصغر ندیم سید صاحب کے خاکے اور خاکہ نگاری
زندگی کی اسٹیج پر ہم سب ایک کردار کی صورت نمودار ہوتے ہیں اور اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ہماری کہانی اور کردار نگاری اس اسکرپٹ کے تابع ہوتی ہے جو ہمارے کردار کی صورت گری کرتا ہے۔ مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر کوئی کردار اس لکھت کی روایتی حدود پھاند کر ایسی امپروائزیشن کرتا ہے کہ یہ عمل اس کے کردار کو زندہ و جاوید رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں کہانی
Read more


