اڑیں گے پرزے: غیر تربیت یافتہ پولیس!

پنجاب پولیس کے کارناموں پہ سالہا سال سے سر دھنتے آ رہے ہیں لیکن سنیچر کے سانحے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔

یہ ہی ملتان روڈ ، یہ ہی یوسف والا ٹول پلازہ، جہاں سے میں ہفتے میں دو سے تین بار گزرتی ہوں اور سوچتی ہوں ‘گر جنت برروئے زمین است۔۔’ اسی ٹول پلازہ پر چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے جانے والے ‘مبینہ’ دہشت گرد، مہر خلیل، ان کی بیگم، 13 سالہ بچی اور ٹیکسی ڈرائیور ذیشان کو ‘مبینہ’ مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔

یہ سانحہ کسی غلط رپورٹ، کسی غلط فہمی، کسی بھتہ خوری، کسی وقتی اشتعال یا کسی لمحاتی غلط فیصلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چار انسانوں کی زندگیاں، تین معصوم بچوں کا مستقبل، پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے کے لیے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نہایت جاں فشانی سے قانون کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔

Read more

آئندہ میں ڈراموں میں صرف اچھی عورتوں کے قصے لکھوں گی

پیمرا نے آٹھ جنوری کو ایک پریس ریلیز جاری کیا۔ پریس ریلیز کے پہلے پیرا گراف میں یہ بیان کیا گیا کہ پیمرا کو لاتعداد ناظرین کی شکایات موصول ہوئیں اور ذاتی مشاہدے نے بھی اس نتیجے پہ پہنچایا ہے کہ موجودہ ڈراموں کے موضوعات، عکس بندی اور لباس معیار سے گرے ہوئے ہیں۔ ناضرین…

Read more

ہمارے بچے کب تک غیر محفوظ؟

پچھلے دنوں، حویلیاں اور پھر نو شہرہ میں دو کم سن بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات نے ایک بار پھر سب کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اسی سال جنوری کے مہینے میں قصور میں ایک بچی کے ریپ اور پھر قتل کے واقعے نے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کی تو معلوم ہوا…

Read more

وہ مجرم تھا یا بے قصور، اس کی ہتھکڑی کھول دو

آج سے 19 سال پہلے جب نیب نامی ادارہ وجود میں آیا تو ہمارے، تعلقاتِ عامہ کے استاد، ڈاکٹر اے آر خالد نے نیب کے لیے تعلقاتِ عامہ کا منصوبہ بنانے کا کام دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس اسائنمنٹ میں میرے سب سے زیادہ نمبر تھے۔

گو اس وقت نیب کو کسی مائی کے لال کی نظروں میں اچھا بننے کی چنداں ضرورت نہ تھی لیکن تاڑنے والے تاڑ گئے تھے کہ آنے والے وقت میں معاملات کیا شکل اختیار کر جائیں گے۔

نیب کے قیام کے چاروں مقاصد نہایت ارفع ہیں۔ یعنی لوگوں میں بدعنوانی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بدعنوانی کی روک تھام کرنا، اس پہ نظر رکھنا اور بدعنوان عناصر سے نمٹنا۔ اگر میں کچھ بھول رہی ہوں تو معاف کیجیے گا، زمانہ بھی تو کتنا گزر گیا۔ آگاہی پیدا کرنے والا کام تو نیب با حسن و خوبی سر انجام دے رہا ہے۔

Read more

اڑیں گے پرزے: سنگِ دشنام بھی!

پچھلے ہفتے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک گھبرو جوان پنجوں پہ تنا، اپنے کسی دوست کے ساتھ کھڑا، گالیاں بک رہا ہے اور اپنے سامنے کھڑی عورت سے معافیاں منگوا رہا ہے۔ عورت چونکہ پیدا ہی خطاوار ہوئی ہے اور خاص کر اس وقت جب ایک اتھرا ہوا جوان مسلح اپنے دوست کے ساتھ کھڑا ہو تو عورت کا ہاتھ جوڑنا ہی درست تھا۔

ہاتھ جوڑے کھڑی اس عورت نے اس مایہ ناز نوجوان کے پیروں میں بیٹھ کر معافی مانگی، لیکن اسے یہ بات بھی نہ بھائی اور پستول کا دستہ لڑکی کے پیٹ میں اس زور سے مارا کہ وہ درد سے دہری ہو گئی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پہ چلی اور اس لڑکے کی شناخت بھی کر لی گئی۔ اس کا فیس بک اکاؤنٹ بھی لوگوں کی نظر میں آیا اور یہ بھی نظر آیا کہ لڑکا خاصا مذہبی ہے۔

Read more

اڑیں گے پرزے: ویلنے میں بانہہ!

گنے کے کاشتکار، اپنا کام کاج چھوڑ کے لاہور کی سڑکوں پہ ٹریکٹر لیے کھڑے ہیں اور ہمارے ایک دانشور دوست، فیس بک پہ سٹیٹس لگا رہے ہیں ’سٹک ان اے موب فیلنگ ہراسڈودمرزا غالب اینڈ فورٹی نائن ادرز‘۔ یہ صاحب، علمی محفلوں میں اچھل اچھل کر ’جس کی محنت، اس کا حاصل‘ کے آؤٹ آف ووگ نعرے پہ سپیچیں دیتے پائے جاتے ہیں

Read more

کرتار پور راہداری، کٹا، دیسی مرغی اور خارجہ پالیسی!

راقم کو اکثر خود پہ دانشور ہونے کا شبہ ہوتا تھا، یہ شبہ یقین میں کبھی نہ بدلتا اگر ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ہو کر تحریکِ انصاف کی حکومت نہ آتی۔ اس وقت کے متوقع وزیرِ اعظم کی پہلی تقریر ہی سے بھانپ لیا تھا کہ حکومت کے مینی فیسٹو میں سب سے…

Read more

مرغی تو نے اچھا کیا

28 اگست 2016۔
مرغے میں نے انڈا دیا۔
مرغی تو نے اچھا کیا۔
انڈے کتنے اچھے ہیں۔
پاؤں تیرے ننگے ہیں۔
انڈے بیچو، جو تے لو!

یہ نظم میری نہیں۔ یہ نظم کس کی ہے، مجھے معلوم نہیں، شاید لکھتے ہوئے کچھ الفاظ بھی آگے پیچھے ہو گئے ہیں، لیکن نظم کا مقصد جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ مرغی کے انڈے بیچ کر زندگی کی بنیادی سہولیات خریدی جا سکتی ہیں۔

پھر مزید غور کیا تو، رشتوں کا استحصال، انسان کی کجیاں، اس عرصہِ حیات کے لیے انسان کا حد سے بڑھا ہوا لالچ اور دیگر باریکیاں اور کمینگیاں واضح ہونے لگیں، دل بھر آیا اور مرغی کی بے بسی اور مرغے کی خباثت نے بے ساختہ آنکھیں نم کر دیں۔

مرغے، مرغی اور انڈے کی یاد آنے اور آتے ہی رہنے کے پیچھے پنجاب حکومت کا ایک اعلان پو شیدہ ہے۔ شنید ہے کہ سرکاری سکولوں میں طالبات کو چار مرغیوں اور ایک مرغے کا سیٹ دیا جائے گا۔ اس طرح ان کو چھوٹے پیمانے پر مرغبانی کی تربیت بھی ملے گی اور باورچی خانے کے کوڑے کو ٹھکانے لگانے کی تمیز بھی آئے گی۔

Read more

آہ الطاف فاطمہ !

اردو کی ممتاز ناول نگار، مترجم، افسانہ نگار اور استاد، 1929ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئیں اور 29 نومبر 2018ء کو لاہور میں انتقال فر ما گئیں۔ نواسی برس کی اس زندگی میں انہوں نے اردو ادب کو جو شاہکار عطا کئے ان کی قدر جوہری ہی جانتے ہیں۔ چونکہ اردو زبان خر کاروں کے…

Read more

ہیرو بننے کا صدری نسخہ!

لاہور میں گذشتہ چار برس سے فیض میلہ ہو رہا ہے۔ اس برس اس میلے پہ شرکت کے لیے جاتے ہوئے اچانک یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان جیسے ہیرو کش معاشرے میں رہتے ہوئے ہیرو کیسے بنا جائے؟ یہ انکشاف ہوتے ہی لمحہ بھر کو تو انسان کی ازلی کمینگی اور ابدی بھوک نے مجھ…

Read more