آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے

غالب نے بہت پہلے کہا تھا سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے اے وائے اگر معرض اظہار میں آوے اس تحریر کو ان دو اشعار کی تفصیل سمجھیے لیکن نثر میں احوال واقعی پڑھنے سے…

Read more