پاکستانی فلم بھٹو دور میں

ذوالفقار علی بھٹو کو نوجوانی میں فلموں کا بہت شوق تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ قیامِ بمبئی کے زمانے میں شوٹنگ دیکھنے کے لیئے اکثر سٹوڈیو جایا کرتے تھے۔ یہ باتیں تو ہمارے ہوش سے پہلے کی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے اپنی نوجوانی میں دیکھا وہ بھی فلموں میں بھٹو صاحب…

Read more

لفظوں کی لفاظی

This entry is part 1 of 1 in the series اردو زبان

یہ بات بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے لفظوں کا ایک نیا مفہوم ابھر کر سامنے آتا ہے۔

ہر زندہ زبان اِن تبدیلیوں کو قبول کرتی ہے اور اپنا دامن نئے الفاظ و محاورات سے بھرتی رہتی ہے۔ انہی تبدیلیوں کے دوران بعض زیرِ استعمال الفاظ و محاورات متروک بھی ہو جاتے ہیں۔ گویا جس طرح ایک زندہ جسم پُرانے خلیات کو ختم کر کے نئے بننے والے خلیات کو قبول کرتا ہے اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی ردّوقبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

Read more

میں نے علی اعجاز کو “دبئی چلو” میں کیسے کاسٹ کیا؟

مجھے اپنے کھیل ’دوبئی چلو‘ کے لیے ایک بھولی بھالی شکل والے دیہاتی کردار کی تلاش تھی۔ اس تلاش میں ایک روز آرٹس کونسل گیا تو دیکھا کہ بالکل میرے تصوراتی کردار جیسا ایک شخص دھوپ میں بیٹھا آہستہ آہستہ اپنی ٹنڈ کھجا رہا ہے مجھے دیکھ کر اس نے ہیلو کے انداز میں اپنا…

Read more

منٹو، جالب اور صدر ایوب

یومِ منٹو منانے کا زبردست پروگرام پاک ٹی ہاؤس کی میزوں پر تیار ہوا تھا اور تقریب کے لیے ہمیں محکمہ قومی تعمیرِنو نے جو آڈیٹوریم عطا کیا تھا وہ بھی ٹی ہاؤس کے سامنے ہی تھا۔ چنانچہ جلسے میں آنے والے لوگ وقتِ مقررہ سے کافی پہلے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ سب سے زیادہ…

Read more