سویڈن کا جنرل گلگت کی سرد رات برداشت نہ کر پایا

سویڈن کی رائل ایئر فورس کے کمانڈر انچیف ایک مرتبہ پاکستان ایئر فورس کے مہمان تھے۔ موسم سردیوں کا تھا۔ جنرل کو دوسرے مقامات کے علاوہ گلگت بھی جانا تھا اور مجھے اور میری بیوی کو ان کے ساتھ جانا تھا۔ گلگت میں ہم پولیٹیکل ایجنٹ کے مہمان تھے، ایک رات وہاں ٹھہرنا بھی تھا۔ پو لیٹیکل ایجنٹ کے گھر شام بڑی اچھی گزری اور کھانا بھی اچھا تھا، اس کے بعد ہم نے انہیں شب بخیر کہا اور اپنے کمرے میں چلے آئے۔ گلگت میں بعض اوقات اس قدر سردی ہو جاتی ہے کہ درجہ حرارت نقط انجماد سے بھی نیچے آ جاتا ہے۔

Read more

جب نیوی کا لیفٹننٹ ائیر مارشل اصغر خان کو گولی مارنے لگا تھا

ہم آگے بڑھتے گئے۔ ابھی دو سو گز دور گئے تھے اور قبرستان سے کچھ فاصلے پر تھے کہ نیوی کا ایک اور دستہ ایک اور مجسٹریٹ کے ساتھ آ گیا اور ہمارا راستہ روک لیا۔ اب کے نیوی کا لیفٹننٹ پہلے والے سے مختلف قسم کا تھا۔ اس نے چیختی آواز میں جوانوں کو آگے بڑھنے اور دو صفوں میں کھڑے ہونے کا حکم دیا، پھر اگلی صف کو گھنٹوں کے بل کھڑے ہونے کو کہا۔ پھر زیادہ کرخت آواز میں حکم دیا کہ رائفلوں میں گولیاں بھر لیں۔ یہ تیاری کرنے کے بعد وہ چند قدم آگے بڑھا، مجھے سلیوٹ کیا۔ اس کی آنکھیں باہر ابلی ہو ئی تھیں، بڑے جوش میں مجھے سے ہاتھ ملایا اور کہنے لگا۔ ”سر، اگر آپ آگے بڑھے تو پھر مجھے آپ پر گولی چلانے کا حکم ہے۔ “

وہ میرے اس قدر قریب تھا کہ میں اس کے چہرے پر تھرکتے ہوئے پٹھے دیکھ سکتا تھا۔ پہلے نیوی والوں کی رکاوٹ کے مقابلے میں یہ رکاوٹ بھی مختلف تھی اور موڈ بھی بہت مختلف تھا۔ میں جان گیا تھا کہ لیفٹینٹٹ نے کچھ کہا ہے وہ کر بھی گزرے گا اور مجھے خیال ہے کہ یہ عجب بات ہو گی کہ میں جس نے پچّیس برس ایئر فورس میں ملازمت کی اور زندہ رہا، نیوی کے ایک لیفٹینٹٹ کی گولی سے لیاقت آباد کی سڑک پر مارا گیا۔

Read more

قصہ ایک سخت وزیر دفاع کی فضائیہ ہیڈکوارٹر میں لگی تصویر کا

1958ء میں تختہ الٹنے اور جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آنے سے تھوڑا عرصہ پہلے فیروز خان نون کی کابینہ میں محمد ایوب کھوڑ و وزیر دفاع تھے۔ وزیر بنے تو پہلی بار ایئر ہیڈ کوارٹر کا معاینہ کرنے آئے۔ ایئر فورس کی طرف سے گارڈ آف آنر اور ایئر فورس کی کار کردگی…

Read more

شاہ ایران نے پاکستانی طریقے سے مرغابی ماری

ایک اور موقع پر زیریں سندھ کی ایک جھیل پر شکار کھیلا گیا، شاہ ایران بھی آئے ہوئے تھے ساتھ ملکہ تھیں۔ شاہ کے ساتھ ان کے شکار کا داروغہ بھی تھا جس نے رسمی شکاری لباس بھی پہن رکھا تھا۔ اونچے بوٹ، پیٹیاں اور اس میں کوئی ایک درجن میخیں۔ اعلیٰ میزبانی کا مظاہرہ کیا گیا، یعنی جعلی انداز میں شاہ کے سامنے سے مرغابیاں اڑائی گئیں، پھر جھیل کے کنارے کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو میں ظاہر ہوا کہ شاہ ایران نے زندگی بھر اس قسم کا شکار نہیں کھیلا تھا۔ شاہ ایک نالی والی پانچ کارتوس والی گن استعمال کر رہے تھے اور توقع تھی کہ اچھی خاصی تعداد میں مرغابیاں گرا لیں گے۔ اہتمام یہ کیا گیا تھا کہ جھیل کے اندر کوئی نصف درجن شکاریوں کو کشتیوں میں بٹھا کر اصل یا تیار کیے گئے بٹ میں پہنچا دیا گیا جو شاہ ایران کی جگہ کے آس پاس ہی تھے۔ شکاریوں کے ایسے پلیٹ فارم اچھا نشانہ لینے میں مددگار ہوتے ہیں۔

شاہ ایران کوئی تین چار گھنٹے اپنی کمین گاہ میں رہے، کوئی ڈیڑھ سو فائر کیے جن سے تیس چالیس پرندوں کا شکار کی بجا طور پر توقع ہوسکتی تھی۔ میرا بٹ یا کمین گاہ شاہ کے قریب ہی تھی، میں نے دیکھا کہ شاہ کا نشانہ لگ نہیں رہا، پرندہ کم ہی گرتا ہے۔ شکار ختم ہوا، لوگ واپس اکٹھے ہوئے۔ دوپہر کا کھانا لگایا گیا۔ صدر اور شاہ کھانا کھا چکے تو صدر کا ملٹری سیکرٹری جو خود بھی بہت اچھا شکاری او ر نشانہ باز تھا ہر شکاری کے شکار کیے پرندوں کے تھیلے لے آیا۔ شاہ صدر شامیانے سے باہر آئے، ملٹری سیکرٹری شاہ کے پاس گیا اور بڑی سنجیدگی سے اعلان کیا ” عزت ماب آپ نے 35 مرغابیاں شکار کیں۔ “ شاہ نے حیرت سے کہا؟ ”کیا؟ میں نے تو ایک مرغابی بھی نہیں گرائی۔ “

Read more

طاقتور جنرل ایوب خان ڈھیٹ بکری سے ہار گئے

ایک صبح میں بھی صدر ایوب خان کی معیت میں کراچی سے شکار کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں وہ اپنی نافذ کردہ اصلاحات کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ بعض اصلاحات کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ملکی معیشت پر بڑا خوشگوار اثر ڈالیں گی۔ کہنے لگے ایک تو یہ اصلاح ہے کہ بکری کو ختم کرو۔ انہوں نے ایک حکم صادر کیا تھا جس کے تحت بکریاں پالنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔

کہنے لگے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بکریوں اور اونٹوں نے سر سبز علاقوں کو ریگستانون میں تبدیل کر دیا ہے بکری جس جھاڑی یا درخت پر منہ مارتی ہے اس کے لعاب کے ذریعے زہر سا درخت میں سرائیت کرتا ہے جو اسے خشک کر دیتا ہے۔ مجھے بھی یاد آیا کہ جب میں سپین گیا تھا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ عربوں کے حملے سے پہلے سپین ایسا سر سبز و شاداب علاقہ تھا کہ یورپ کے روئسا یہاں شکار کرنے آیا کرتے تھے۔ اپنے آٹھ سو سالہ دور میں عرب یہاں اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہوں نے سر سبز و شاداب سپین کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

Read more

جنرل صاحب کا چھرا ہمیشہ چکور کی بائیں آنکھ میں لگتا تھا

صدر ایوب خان کو پرندوں کے شکار کا شوق بھی تھا، مواقع بھی بہت ملے۔ اس لئے ماہر شکاری ہوچکے تھے۔ ایک بار بلوچستان میں فورٹ سنڈیمن کے آس پاس خوب مارے، آفیسر ز میس میں بیٹھے مشروب سے شغل فرماتے ہوئے اپنے شکار کے، معر کے بیان کر رہے تھے۔ کہنے لگے میں چکور…

Read more

پاکستانی وزیرخارجہ نے نیم عریاں لڑکی سے ناک کیسے رگڑی

سیٹو کی کونسل کا ایک اور اجلاس نیوزی لینڈ میں ہوا، اوک لینڈ میں وزیراعظم نے ڈنر دیا سارے سفارتی نمائندے آئے تھے، کھانے کے بعد تقریر کرتے ہوئے انہوں نے سیٹو کے سات ممالک کے وزرائے خارجہ کو باری باری متعارف کرانا شروع کیا۔ انہیں ہر وزیر خارجہ کو متعارف کرانے کے لئے مناسب…

Read more

کیا یہی وہ آزادی ہے جس کا دفاع کرنے کی کوشش ہم کر رہے ہیں؟

بین الا قوامی کانفرنسوں میں انسانی عظمت، وقار، آزادی اور قومی اور انفرادی حقوق کے بارے میں ایسی ایسی لفاظی اور بے معنی تقریروں کو سننے کا موقع ملتا ہے جن کا حقیقت سے کم ہی کوئی واسطہ ہوتا ہے۔ مقررین یہ لفظ اور جملے کچھ اتنے یقین اور تسلسل سے بولتے ہیں کہ انہیں…

Read more

میجر کے ہاتھوں دھڑن تختہ

پچاسویں دہائی کے وسط کی بات ہے، پاکستان سیٹو کے معاہدے میں شامل ہو گیا تھا۔ سیٹو کی کونسل کے ایک اجلاس میں تمام ممالک کے وزرائے خارجہ شریک تھے جنہیں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا تھی۔ اجلاس کراچی میں اسمبلی کے ہال میں ہونا تھا، میزبان ملک کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے حمید…

Read more

جب پاکستانی سفیر نے امریکی وزیر خارجہ کی خوب توہین کی لیکن۔۔۔۔

سفیر اپنے ملک کے مفادات کے حوالے سے ایک سے اہم رول ادا کرتا ہے۔ آج کی دنیا جب مواصلات میں ایک طرح سے انقلاب آیا ہوا ہے اور ڈپلومیسی بھی ہوا کے دوش پر سوار ہو گئی ہے اب بھی سفیر اپنے ملک کے مفادات اور صورت نمائی میں بہت بڑا وسیلہ اور ذریعہ…

Read more