حکایت اور اخبار

ایک نئی محبّت کے آغاز کے لیے، انگریزی کے شاعر جان ڈن نے نو وارد محبوبہ کے لیے میری نو دریافت سرزمین کے الفاظ استعمال کیے۔ سولہویں صدی کا شاعر نفیس اور پیچیدہ الفاظ میں محبت کے اسلوب میں زندگی کے عمل کے اظہار میں کمال رکھتا تھا مگر یہ الفاظ مجھے بھی اس وقت…

Read more

ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر

جب چار سو باسٹھویں رات آئی تو میں نے دل ہی دل میں پوچھا، آج رات کون سی کہانی بیان کروں؟ کہانیاں تو بہت سی تھیں مگر جو کتاب ہاتھ آئی وہ ابن خلدون کی یہ ’’ذہنی سوانح عمری‘‘ تھی جو حال میں چھپی ہے اور اس کے لکھنے والے رابرٹ ارون ازمنۂ وسطیٰ کے…

Read more

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

بڑے بوڑھے ایسے موقعوں پر کہا کرتے تھے، باولے گائوں میں اونٹ آگیا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے۔ لیکن یہ دیکھ رہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں کہ کس دھوم دھڑکے سے کوک اسٹوڈیو کا نیا سیزن آیا ہے۔ یعنی غالب کے بقول اس انداز سے بہار آئی، کہ ہوئے مہرو مہ تماشائی۔ واقعی…

Read more

۔۔۔شاید نہ بہار آئے

جب ذہن خالی ہو تو ایسی باتوں پر نظریں ٹہرجاتی ہیں۔ گھر سے باہر نکلنے کے خیال سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ گلی کے ہر کونے پر لوگ بڑھ کر ہاتھ ملائیں گے اور پوچھیں گے، آپ اس مرتبہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ گھبراہٹ اس خیال سے ہوتی ہے کہ…

Read more

میرا شہر پیرس بن گیا تو میرا کیا بنے گا؟

حماقت کی حدوں کو چھو لینے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات ہمارے گھر کی کھیتی ہیں اور جوں جوں الیکشن کا سورج سوا نیزے پر آرہا ہے، اس فصل کا خاص پھل۔ میڈیا پر رائج آج کل کی زبان میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری کاٹیج انڈسٹری ہیں۔ آئے دن کی بات ہے۔…

Read more

ڈائو میڈیکل یونیورسٹی میں استقبال یوسفی

محترمی و مکرمی مشتاق احمد یوسفی صاحب محترم وائس چانسلر ڈائو میڈیکل یونیورسٹی، محترم اساتذئہ کرام اور ڈائو میڈیکل کالج کے ساتھیو جو ہم سبق بھی ہیں، ہم مشرب بھی اور ہم راز بھی۔ محترم شعرائے کرام اور سامعینِ مشاعرہ، خواتین و حضرات، آج میں گھر سے نکلا تو راستے میں ایک دیوار آگئی۔ سچ…

Read more

میں یہ کتاب نہ پڑھنے کے لیے مرا جا رہا ہوں

  اپنے ملک سے مجھے بہت سی شکایتیں لاحق رہی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ یار لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ یا پھر اتنی نہیں پڑھتے جس قدر پڑھنا چاہئیں۔ اتنے کروڑوں کی آبادی والے ملک میں نئی کتاب کی آمد روز روز کا واقعہ نہیں ہوتی۔ نئی کتاب چھپتی بھی ہے تو…

Read more

کیا اب محبت کی شاعری ہو سکتی ہے؟

ایک نظم پڑھتے پڑھتے یہ خیال ایک سوال بن کر اٹھا۔ اور نظم پڑھتے ہوئے اس شدت سے اٹھا کہ میرے دل و دماغ کو جیسے لرزا گیا۔ جیسے کوندا سالپک گیا۔ پھر شدید احساسِ زیاں۔ جیسے کوئی بے حد قیمتی چیز، جس سے شدید جذباتی لگائو رہا ہو، دیکھتے دیکھتے کوئی ہاتھوں سے لے…

Read more

گرمی اور گرما گرمی

کراچی میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا خدا خدا کرکے۔ لیکن کب تک؟ گرمی گئی اس طرح ہے کہ پلٹ کر پھر آئے گی۔ اور جب دوبارہ آئے گی تب بھی ہم اسی طرح کی باتیں کرتے رہیں گے، گرم موسم میں گرما گرم باتیں۔ ہوش و حواس اڑا دینے والی گرمی تھی۔ کراچی میں…

Read more

بے ادب آمر

وہ اٹھے اور ہماری زندگی میں شامل ہوگئے۔ ہم ان کو روک سکتے تھے اور نہ ان کے نشان مٹا سکتے ہیں۔ ہم ان کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ خنجر کی طرح یہ آمر بھی ہمارا قومی نشان رہے ہیں۔ ہماری کیا مجال کہ ان کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے لفظ…

Read more