غلام گردشیں

بظاہر نئے اور پرانے زمانے میں بہت فرق نظر آتا ہے لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو فرق کچھ اتنا زیادہ نہیں۔ مثلاً پرانے زمانے میں غلامی کا باقاعدہ ’’ادارہ‘‘ موجود تھا۔ انسانوں کی منڈیاں لگتی تھیں۔ گاہک آتے تھے اور مال پسند کر کے لے جاتے تھے۔ اس کے بعد ان غلاموں کی…

Read more

اشرافیہ اور ماجھے ساجھے!

ہم لوگ بہت مہذب ہو گئے ہیں۔ چائے پیتے ہوئے ہلکی سی آواز بھی نہیں پیدا ہونے دیتے خواہ لب ہی کیوں نہ جل جائیں۔ کسی اعلیٰ درجے کے ریستوران میں بیٹھے ہوئے کچھ اس طرح سرگوشیوں میں گفتگو کرتے ہیں جیسے سازش کر رہے ہوں۔ بات بات پہ ایکسکیوزمی کہتے ہیں۔ کھانے کے بعد…

Read more

پانچ مرغیاں اور ایک مرغا!

کل علامہ شکم پرور لدھیانوی بہت عرصے کے بعد میرے غریب خانے پر تشریف لائے اور اس روز میرے گھر کو غریب خانہ انہوں نے خود قرار دیا کیونکہ وہ ناشتے میں جو کچھ نوش فرمانا چاہتے تھے وہ سارے آئٹم گھر پر دستیاب نہ تھے اس روز وہ کچھ خوش بھی نظر آ رہے تھے مگر ایک بات پر پریشان بھی تھے، پہلے میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بولے حضرت مکروہات دنیا میں اتنا مصروف رہا کہ اپنے بیٹے کے ختنے کی رسم ہی یاد نہیں رہی اور نہ کسی نے یاد دلائی۔

اس پر میں نے کہا علامہ صاحب اس میں پریشانی کی کون سی بات ہے اب کروالیں، بولے وہ سولہ سال کا ہو گیا ہے میں نے ہنسی پر بمشکل قابو پایا۔ علامہ صاحب کہہ رہے تھے میں نے پھر بھی اللہ کا نام لے کر ارادہ کیا اور نائی کے پاس گیا کہ بچے کے ختنے کرنے ہیں وہ گھر آیا مگر بچے کو دیکھ کر معذرت کرکے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پوچھنے لگے آپ کے گھر میں کوئی کلہاڑا ہے؟ میں نے کہا اس کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ بولے گھر کے باہر جھاڑیاں بہت بڑھ گئی ہیں وہ کاٹنا ہیں اس دفعہ میں نے معذرت کر دی۔

Read more

گناہ ٹیکس یا کفارہ؟

گزشتہ چند روز سے بھولا ڈنگر خوشی سے پھولا پھر رہا ہے، اس نے کہیں اخبار میں خبر پڑھ لی ہے کہ وزارت خزانہ سگریٹ پر گناہ ٹیکس لگائے گی۔ مجھے اس کی خوشی پر بہت حیرت ہوئی کیونکہ وہ خود بھی سموکر ہے۔ میری دینی معلومات بہت کم ہیں، لہٰذا میں یقین سے نہیں…

Read more

پیپلز پارٹی، ایک قابل تکریم سیاسی جماعت!

میں ذاتی طور پر مسلم لیگی ہوں، خصوصاً اس دن سے جب مسلم لیگ کی قیادت صحیح معنوں میں نواز شریف کی صورت میں 1991کی دہائی میں سامنے آئی اور میں اس وقت سے ان کا مداح چلا آرہا ہوں ، اب تو بہت زیادہ مداح ہوگیا ہوں۔ مجھے جمہوری قدروں سے عشق ہے چنانچہ…

Read more

مدر ٹریسا ایوارڈ ہولڈر سلمان صوفی!

ہم لوگ اس لحاظ سے ’’دوسرے بہت سے لحاظوں ‘‘ کے علاوہ بہت بدقسمت ہیں کہ اگر خوش قسمتی سے کوئی ایسا شخص ہمارے درمیان پایا جائے جو غیر معمولی طور پر ذہین ہو، اپنی فیلڈ میں یکتا ہو اور ایماندار ہو، اول تو اسے ہم نظر انداز کرتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے…

Read more

ایک ’’محبوب‘‘ سے کام نہیں چلتا!

گزشتہ روز میری ملاقات ایک عاشق زار سے ہوئی جو بیک وقت دو محبوبوں کا ذکر کرکے ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا اور ساتھ ساتھ جیب سے کنگھی نکال کر بال سنوارتا تھا۔ ان ہر دو مجبوبوں کا ذکر کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہوجاتی تھی اور پھر وہ پرفیوم میں’’لت پت‘‘ ہوئے رومال سے…

Read more

اساں دل نوں مرشد جان لیا!

میں ابرار ندیم کو برسہا برس سے جانتا ہوں، ایک خوبرو نوجوان، متضاد صفات کا حامل، میرے ساتھ بیٹھا ہو تو ادب کی وجہ سے خاموش اور محفل یاراں میں چہکنے والا جملے بازی کرنے والا، خصوصاً گل نوخیز اختر کے ساتھ ’’چونچیں‘‘ لڑانے والا، ان دونوں میں سے کبھی ایک کا پلہ بھاری ہو…

Read more

کے ایل نارنگ ساقی اور ان کی نئی کتاب!!

(گزشتہ سے پیوستہ ) جارج برناڈ شا کا نیا ڈرامہ تھیٹر میں پیش کیا جارہا تھا عوام کو یہ ڈرامہ بہت پسند آیا۔ پبلک نے فرمائش کی کہ ڈرامہ نگار کو اسٹیج پر لائیں تاکہ ان کے دیدار کرسکیں۔ برناڈ شا اسٹیج پر آ کرلوگوںکا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ ایک جانب سے آواز آئی…

Read more

کے ایل نارنگ ساقی اور ان کی نئی کتاب!

جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ کشیدگی نہیں تھی تو ادبی تقریبات میں دونوں ملکوں کے دانشور اور ادیب ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے تھے۔ انہی دنوں میں مجھے بھی انڈیا کےبہت سے شہروں سے دعوت نامے موصول ہوئے اور یوں مجھے وہ شہر دیکھنے اور انڈیا کے بزرگ اور نوجوان ادیبوں سے…

Read more