خصوصی افراد کا عالمی دن اور پاکستان

یوں تو دنیا کی آبادی کا 10 فیصد جبکہ پاکستان کی کل آبادی کا 7 فیصد حصہ ذہنی یا جسمانی معذوری سے گزر رہا ہے۔ تاہم یہ آبادی اس وقت 50 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے جب اس میں کسی معذور فرد کے ساتھ اس کے گھرانے کو بھی شامل کرلیا جائے کیونکہ ایک فرد…

Read more

ڈپریشن اور خود کُشی کا بڑھتا ہوا رجحان

ڈپریشن ایک نفسیاتی مرض کا نام ہے۔ عرف عام میں اسی مایوسی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بیماری آپ کے اندر سے جینے کی چاہ اور حالات و واقعات سے لڑنے کی ہمت کو ختم کردیتی ہے۔ ڈپریشن کی کچھ واضح علامات میں نیند کی کمی، ہر وقت اداس اور خفا رہنا، اپنے وجود کے نا ہونے کا احساس ہونا اور خود کو بیکار تصور کرنا، کسی بھی چیز کو توجہ نہ دے پانا اور یاداشت کا کمزور ہونا، لوگوں سے ملنے جلنے سے اجتناب کرنا اور بھوک کا مٹ جانا شامل ہیں۔ اور یہی جسمانی تبدیلیاں وہ خطرناک علامات ہیں جو ایک اچھے بھلے انسان کو بستر مرگ تک پہنچا سکتی ہیں۔

ڈپریشن کی وجوہات کی بات کی جائے تو پہلی وجہ کیمیائی تبدیلی ہے یعنی آپ کے دماغ کے اہم حصے میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز میں فرق آجانا ہے جو آپ کے موڈ کو متوازن رکھ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ جینیاتی ہے یعنی اگر آپ کے خاندان میں کسی کو ڈپریشن ہو تو پھر آئیندہ یا موجودہ نسل میں بھی وراثتی طور پر پایا جاسکتا ہے۔ تیسری وجہ آپ کی شخصیت ہے، اگر آپ کی شخصیت کچھ اس طرح کی بن چکی ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حد سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں، منفی باتوں پر بہت زیادہ غور کرتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی بتدریج کم ہورہی ہے تو آپ بہت آسانی سے ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چوتھی اور آخری وجہ ماحولیاتی عناصر ہیں۔ مسلسل جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونا، گھریلو ماحول کا خراب ہونا، مسلسل ناکامیاں، کسی بہت ہی عزیز شخص کی جدائی، والدین یا اپنوں کی غفلت، اور معاشی مسائل بھی ڈپریشن کا باعث ہوسکتے ہیں۔

اسلامی روُ سے خودکشی حرام اور ناقابل بخشش گناہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اگلی زندگی اور موت کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے پر ایمان بھی

Read more

بچوں کی اچھی تربیت کیسے کریں

اگر آپ اور آپ کا بچہ دونوں ہی اپنی بات منوانے کے لئے ضد پر اڑ جاتے ہیں تو آپ میں اور اس بچے میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ آپ کو یہ شکایات رہتی ہیں کہ ہر بار آپ کا بچہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی بات منوا ہی لیتا ہے۔ ، آپ کا بچہ اُس وقت آپ کی بات کو نظرانداز کر دیتا ہے جب آپ اُسے کوئی ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور جب آپ بچے کو کسی کام سے منع کرتے ہیں تو وہ غصے میں رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ۔

شاید آپ یہ سوچتے ہوں کہ اس عمر میں تو بچے ایسا کرتے ہی ہیں ابھی نادان ہے، بڑا ہوکر ٹھیک ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہے۔ بچپن میں پڑنے والی عادات بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں اور عمر بھر رہتی ہیں۔ آپ چھوٹے بچوں کو کہنا ماننا سکھا سکتے ہیں۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچوں کے کہنا نہ ماننے کی وجہ کیا ہے۔ ‏

Read more